گلگت بلتستان، جو فطری حسن، برف پوش چوٹیوں، نیلگوں ندیوں اور سرسبز وادیوں کے باعث ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، اب ایک نئے تناظر میں عالمی طاقتوں کی نظروں کا محور بن رہا ہے۔ اس بار بات صرف خوبصورتی تک محدود نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے وہ خزانے ہیں جو جدید دنیا کی معیشت اور دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خزانوں کو دنیا ریئر ارتھ ایلیمنٹس (Rare Earth Elements) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ نایاب معدنیات جیسے نیوڈیمیم، لانتھنم، سیریم اور دیگر عناصر، وہ اہم اجزاء ہیں جن کے بغیر نہ تو موبائل فونز ممکن ہیں، نہ ہی الیکٹرک گاڑیاں، سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز اور نہ ہی جدید جنگی آلات۔ یوں یہ چھوٹے عناصر، عالمی طاقتوں کی بڑی ضرورت بن چکے ہیں۔ اطلاعات اور تحقیقاتی اشاریے بتاتے ہیں کہ گلگت بلتستان، خصوصاً ہنزہ، نگر، گلگت اور اسکردو کے پہاڑی سلسلے ان نایاب معدنی ذخائر سے مالا مال ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں ان عناصر کا سب سے بڑا سپلائر چین ہے، اور امریکہ انہی پر انحصار کرتا رہا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں عالمی جغرافیائی سیاست میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکہ اس انحصار کو خطرہ تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب واشنگٹن متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے، اور گلگت بلتستان اس کی اسٹریٹجک پالیسی میں ایک ممکنہ متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ نہ صرف معدنی وسائل کی وجہ سے بلکہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں بھی غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت عالمی سیاست کے اس نازک توازن میں گلگت بلتستان وہ مقام ہے جہاں معاشی مواقع اور جیوپولیٹیکل چیلنجز ایک ساتھ موجود ہیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے حالیہ انویسٹمنٹ کانفرنس میں بجا طور پر کہا کہ اگر صرف گلگت بلتستان کے معدنی وسائل کو بروئے کار لایا جائے، تو پاکستان کا قرضہ اُتر سکتا ہے۔ مگر یہ وسائل زمین کے نیچے دفن ہیں، اور ان تک پہنچنے کے لیے صرف مشینری یا سرمایہ کافی نہیں—بلکہ حکمت، سائنسی تحقیق، شفاف پالیسی سازی اور قومی خودمختاری کا مکمل شعور درکار ہے۔
تاہم اس موقع پر ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے: کیا ہم ان وسائل سے فائدہ اٹھانے سے پہلے گلگت بلتستان کو اس کا آئینی، سیاسی اور معاشی حق دینے کے لیے تیار ہیں؟ بدقسمتی سے، یہ خطہ آج بھی صدارتی آرڈیننس کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہاں بیوروکریسی کو فیصلہ سازی میں بالا دستی حاصل ہے، جب کہ عوامی نمائندے اختیارات سے محروم ہیں۔ اس صورتحال میں وہ لوگ جو سیاسی و انسانی حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کرتے ہیں، ان پر دہشت گردی، غداری اور پاکستان دشمنی جیسے سنگین الزامات لگا کر انہیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، یا فورتھ شیڈول میں شامل کر کے ان کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے آئین کی روح کے خلاف ہے، بلکہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی ضوابط اور جنیوا کنونشن کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اگر ہم واقعی گلگت بلتستان سے معاشی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا قدم یہی ہونا چاہیے کہ اس خطے کو سیاسی و آئینی حیثیت دی جائے، تاکہ یہاں کی عوام اپنے وسائل پر اختیار رکھ سکیں۔یہ بھی ناگزیر ہے کہ کسی بھی معدنی ترقیاتی منصوبے میں مقامی آبادی کو شریک کیا جائے، ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز نہ کیا جائے، اور بین الاقوامی شراکت داری میں قومی خودمختاری کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ بصورت دیگر، یہ خاموش خزانہ ہمارے لیے خوشحالی کے بجائے عالمی کشیدگی اور اندرونی بے چینی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ گلگت بلتستان میں سونا چمک رہا ہے، لیکن اگر ہم نے عقل، انصاف، اور شفافیت کے چراغ نہ جلائے تو ممکن ہے یہ سونا دوسروں کے لیے نعمت اور ہمارے لیے مصیبت بن جائے۔ ضروری ہے کہ ہم وسائل سے پہلے انسانی حقوق، آئینی حیثیت، اور سیاسی اختیار کی بنیاد کو مضبوط کریں۔ تبھی یہ خزانہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں