اب کے جگنو درکار ہیں صاحب۔۔اشفاق احمد

دائرے میں قید زندگی کسی خواہش کے ابھرنے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ پوری ہو تو انسان سیر ہوکر واپس اسی نقطے پر آجاتا ہے جہاں خواہش کے ابھرنے سے چند لمحے پہلے تھا مثلا جب انسان کو بھوک لگتی ہے وہ کھانا کھا کر سیر ہو جاتا ہے اور بھوک لگنے سے پہلے والی اس حالت پر پہنچ جاتا ہے جب ایسی کسی خواہش کا کوئی  وجود نہ تھا۔ یہ مختصر سا وقفہ جلد ہی نئی  خواہش میں ڈھل کر ایک نئی  دوڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی ہر خواہش جس میں سیری کا سامان موجود ہو اور جو ابھرے، سیر ہو پھر ختم ہوکر دوبارہ اسی شکل میں یا کسی اور شکل میں جنم لے ، ہمارے حیوانی قالب سے متعلق ہے۔ ایسی خواہشیں اس حیوانی وجود کا لازم حصہ ہیں کہ حیوانی وجود کی بقا اسی سے عبارت ہے۔ انسان بہر حال پتھر کا نہیں بنا اسے جینے کے لیے اور اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لیے کسی خواہش سے بیگانہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں انسان یہ ضرور کر سکتا ہے کہ اپنی خواہشات کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لے۔ یہ دو طرح کی ہیں ایک وہ جو حیوانی قالب سے متعلق ہیں اور دوسری وہ جو ابدی نوعیت کی ہیں ۔

دائرے میں قید زندگی میں صرف وہی خواہش اپنی تکمیل پا سکتی ہے جو انسان کے حیوانی قالب سے وابستہ ہو۔ انسان محض یہ حیوانی قالب تو نہیں یہ تو ایک طرح کا پنجرہ ہے جس میں ایک لامحدود شخصیت مقید ہے۔ اصل انسان یہی لامحدود شخصیت ہے۔ یہ عقلی وجود، جمالیاتی احساس اور اخلاقی وجود پر مبنی ایک زندہ شخصیت ہے۔شخصیت کی سطح پر خواہش کی نوعیت یکسر تبدیل ہو جاتی ہے۔ حیوانی قالب کی سطح پر خواہش کی سیری ممکن ہے لیکن شخصیت کی سطح پر ہر ابھرنے والی خواہش اپنے ساتھ تشنگی کو لازم لیے چلتی ہے مثلا ہم کسی خوبصورت نظارے میں ڈوب جائیں اور اسے اپنے اندر اتارلیں تو کسی بھی لمحہ یوں نہ لگے کہ ہم سیر ہو گئے  بلکہ تشنگی کا احساس قائم رہتا ہے۔ آپ کسی ایسے بڑے مقصد کا بیڑا اٹھا لیں جن کے زمینی نتائج کا ملنا آپکی زندگی میں ممکن نہ ہو تو بھی تشنگی تو رہے گی لیکن یہ تشنگی اپنے ساتھ ایک ان کہی سی ڈھارس لیے چلتی ہے کہ کبھی تو اس تشنگی کا ساماں ہوگا۔ ایسی ڈھارس جو آپ کو کبھی شکستہ نہیں ہونے دیتی۔ یہ ڈھارس کیا ہے؟

یہ خدا کا وہ وعدہ ہے جو اس نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے کہ ارضی زندگی کی گاڑی سے اترتے ہی وہ تھام لے گا اور ایک عظیم الشان سلطنت کی بادشاہی دے دیگا جس میں مرد اور عورت کی تخصیص نہیں۔ جہاں وہ اپنی ابد آباد سلطنت کو اپنے جمالیاتی احساس اور تمام تر صلاحیتوں کے کمال کے ساتھ تعمیر کریں گے اور کرتے رہیں گے۔ بس ایک ہی شرط ہے کہ وہاں کے لیے جگنو درکار ہیں جن کا امتحان صرف اخلاقی وجود کا ہے۔ ایسے جگنو جن کا علم اور عمل ایمان اور اخلاق کی چھلنی سے گزر کر انہیں گام در گام اپنی شخصیت کے ارتقاء کے سفر پر گامزن رکھے۔ شخصیت کی سطح پر اصل خوبصورتی یہی تشنگی ہے۔ یہی تشنگی انسان کو دائرے سے نکال کر غور و فکر اور معرفت کی راہ پر رواں دواں رکھتی ہے ۔

معاشرے کے لیے بھی تو ایسے ہی جگنو درکار ہیں صاحب جو واقعات میں نہ جئیں بلکہ ایک عہد میں جینا شروع کر دیں۔ جو معاشرے کی زوال آشنائی  کو ایک امتحان کے طور پر لے کر اپنے شخصی رجحان کے مطابق خود سے شروع کرکے اس کے بدلاؤ میں اپنے حصے کا دیا جلاۓ رکھیں۔ یہ سفر نسلوں کے اعتبار سے تو بہت طویل ہے لیکن ذرا سا غور کریں تو اس ارضی دنیا کی عمر بس اتنی ہی ہے جتنی کہ ہم میں سے ہر ایک کی بقیہ زندگی۔ اسی میں ہم نے بس اپنے حصے کی جنگ لڑنی ہے۔ یہ مان لینے میں کوئ تامل نہیں ہونا چاہیے کہ ارضی دنیا میں تہذیب اور انصاف کی آبیاری کے لیے نسلیں درکار ہوتی ہیں۔

آئیے ان جگنوؤں کے کارواں کا حصہ بنیں جو ایک عہد کو ساتھ لے کر ایک عہد کی ابتداء کرنے میں مگن ہیں۔ اس بیچ جگنوؤں کے حصے میں ارضی دنیا میں نتائج شاید نا بھی ہوں یا کچھ ہی ہوں لیکن رب کی قربت کا احساس لیے ایک پر کیف تشنگی اور معنویت بھری تلاش لازم ساتھ رہے گی تاوقتیکہ سفر کے اختتام پر خدا کی رحمتیں ہر تشنگی کی سیری کے لیے ابدیت کا ساماں لیے منتظر ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *