• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عمران خان کی رہائی اور پاکستان کا ادارہ جاتی بحران/ نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

عمران خان کی رہائی اور پاکستان کا ادارہ جاتی بحران/ نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

پاکستان آج اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ریاست بیک وقت داخلی بحرانوں اور خارجی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اندرون ملک دہشت گردی کی نئی لہر خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کو متزلزل کر رہی ہے، جب کہ مہنگائی، توانائی بحران اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بیرونی محاذ پر افغانستان اور ایران کے ساتھ کشیدگی، روس و افغانستان کے تعلقات اور امریکہ و سعودی عرب کے فوجی تعاون نے جیوپالیٹیکل منظرنامے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ان حالات میں سیاسی انتقام یا یکطرفہ فیصلے کسی بھی ریاست کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا اصل مسئلہ بنیادی طور پر حکمرانی اور ادارہ جاتی زوال کا ہے۔ کبھی دنیا کی بہترین سول سروس رکھنے والا یہ ملک آج سیاسی وفاداریوں، کرپشن اور میرٹ کی پامالی کا شکار ہے۔ پارلیمان کمزور ہو چکی ہے، سیاسی جماعتیں اندرونی جمہوریت سے محروم ہیں، اور عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے اٹھ چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے مابین جاری محاذ آرائی نے اداروں کے توازن کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ کیا کسی ایک جماعت کو شودر اور دوسری کو برہمن قرار دینے سے ریاست مضبوط ہو سکتی ہے؟ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ایسے اقدامات ہمیشہ انتہا پسندی، صوبائی بد اعتمادی اور ریاستی کمزوری کو جنم دیتے ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد توقع تھی کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، لیکن ایک پندرہ سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبوں اور وفاق کے تعلقات میں مزید کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اہم فیصلے ان کی مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ حالیہ باجوڑ آپریشن میں دیکھا گیا جہاں نہ صوبائی حکومت کو اور نہ ہی مقامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ یہ رویہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہا ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی پاکستان غیر معمولی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں، درآمدات نے خزانے کو خالی کر دیا ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث رک چکی ہے۔ ملک کی معیشت خیرات پر نہیں بلکہ کاروبار اور جدید ٹیکنالوجی پر کھڑی ہونی چاہیے۔ ادارہ جاتی اصلاحات، قانون کی بالادستی، میرٹ، اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتی پالیسی ہی وہ اقدامات ہیں جو پاکستان کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔
ان حالات میں عمران خان کی گرفتاری محض ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ قومی ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ سوال آج ہر پاکستانی سے ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے یا پھر سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال جاری رہے گا؟ عمران خان کو جیل میں رکھا جا سکتا ہے، مگر ان کے نظریے کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہی نظریہ عوامی شعور میں پنپ چکا ہے اور اب اسے دبانا ممکن نہیں رہا۔
حل صرف اور صرف قومی مکالمے میں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر لا کر نہ صرف تحریک انصاف پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم کرنی ہوں گی بلکہ سول و عسکری اداروں کو اپنے آئینی دائرے میں واپس لانا ہوگا۔ عدلیہ کو شفافیت فراہم کرنی ہوگی، معیشت کی بحالی کے لیے برآمدات اور صنعت پر مبنی پالیسی اپنانا ہوگی، اور مقامی حکومتوں کو فعال کر کے عوام کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو انتشار مزید بڑھے گا اور ریاست کا وجود کمزور ہوتا جائے گا۔
یہ لمحہ غیر ضروری سیاست، نعرہ بازی یا وقتی جذبات کا نہیں بلکہ اصولی، جمہوری اور ادارہ جاتی اصلاحات کا ہے۔ عمران خان کی رہائی اس جدوجہد کا پہلا قدم بن سکتی ہے، مگر اصل مقصد ریاست کی بحالی اور عوامی اعتماد کی واپسی ہے۔ اگر ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی، کیونکہ یہ معرکہ صرف شخصی آزادی کا نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کا ہے۔

Facebook Comments

نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply