• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فیمینزم میں انتہاپسندی کا جائزہ – پروفیسر ماریو بُنگے / مترجم: حمزہ ابراہیم

فیمینزم میں انتہاپسندی کا جائزہ – پروفیسر ماریو بُنگے / مترجم: حمزہ ابراہیم

یہ مضمون پروفیسر ماریو بُنگے کے 1995ء  میں شائع ہونے والے ایک مقالے: ”یونیورسٹیوں میں علمی فریب کاری کے خلاف عدم برداشت کی تحسین“ (1) کے ایک حصے کا ترجمہ ہے۔ انگریزی جاننے والے قارئین مقالے کا اصل مسودہ ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اس کے تعارف اور  ابتدائی حصے کا ترجمہ ”ہائیڈیگر ایک مداری تھا“ کے عنوان سے پیش کیا جا چکا ہے۔ اس مضمون میں انتہاپسندانہ فیمینزم کے نام پر ہونے والے لفظی  تماشے  کا جائزہ لیا جائے گا۔ انتہاپسندانہ فیمینزم کا بہترین جواب خواتین کا سائنسی تحقیق میں آگے بڑھنا ہے۔

انتہاپسندانہ فیمینزم:

آج کل لفظ ”فیمنزم“ تین بالکل مختلف چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے: (1) مردانہ تسلط سے خواتین کی آزادی کی تحریک؛ (2) خواتین کی بیالوجی، نفسیات اور سماجی حالت کا مطالعہ؛ اور (3) انتہاپسندانہ فیمنسٹ نظریہ۔ اگرچہ پہلی دونوں کوششیں درست اور قابلِ تعریف ہیں، تیسری سرگرمی ایک علمی دکانداری ہے جس میں سائنس کا کچھ زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ سائنس کی مخالفت پر مبنی ہے اور جعلی مسئلے گھڑنا اور ہوائی قلعے تعمیر کرنا اس کی صفات ہیں۔ اس کے کچھ انتہاپسند نظریہ پردازوں نے ”سائنس کی جانشین“ لانے کی بات کی ہے، جو آخر کار ان کے بقول ”مردوں کے غلبے والی سائنس“ کو بدل دے گی یا کم از کم اس کی تکمیل کرے گی۔ کچھ ان سے بھی زیادہ کٹر نظریہ پرداز ہیں جو سائنس کے پکے دشمن ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ عقل اور تجربہ مردوں کے ہتھیار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سائنسی طریقۂ تحقیق ”مردانہ ندی“ کا حصہ ہے۔ وہ دقت (precision) کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ عددی بیان (quantitation)، معقول دلائل، مشاہداتی اعداد و شمار مرتب کرنے، اور مفروضوں کی تجرباتی جانچ کرنے کو مردانہ غلبے کے وسائل قرار دے کر ٹھکراتے ہیں۔ وہ خیالات کی نسبیت اور تشکیل جدید کا امتزاج (constructivist-relativist) ہیں، یعنی وہ اس چیز کے خلاف ہیں جسے وہ ”معروضیت کا افسانہ“ کہتے ہیں۔

مثال کے طور پر بعض انتہاپسند فیمنسٹ نظریہ پردازوں کا کہنا ہے کہ سچائی ہمیشہ قرائن کے تابع ہوتی ہے اور عالم کا معلوم سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس بات کی بنیاد محض چند خواتین کے جذبات ہیں جن کا  اظہار انٹرویوز میں  ہوا۔ محترمہ سینڈرا ہارڈنگ نے تو یہاں تک کہا  کہ نیوٹن کے قوانینِ حرکت کا نام ”نیوٹن کے جنسی تجاوز کی دستاویز“ رکھا جائے تو یہ زیادہ ”واضح اور ایماندارانہ“ ہوگا۔ یہ نام نہاد  جنسی زیادتی ماں’ فطرت کے ساتھ ہوئی ہے جو زنانہ ہے۔

یہ لوگ سائنس اور ٹیکنالوجی میں فرق نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک سائنس کی جستجو صرف ایک بھیس ہے جس کے پیچھے طاقت کے حصول کی کوشش چھپی ہے۔ جیسا کہ ان سے پہلے ہربرٹ مرکوزے اور مشل فوکو نے کسی مشاہداتی ثبوت کی بغیر یہ دعویٰ کیا تھا۔ انتہاپسندانہ فیمینزم کے علمبردار سچائی میں نہیں بلکہ سماج میں طاقت کے کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ سائنس کو ترقی دینے کے بجائے اس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ حقوق نسواں کی جدوجہد کو دوہرا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ فیمینزم کو جنگلی بنا کر کمزور کر رہے ہیں اور وہ اس سے ایک مضبوط سہارا بھی چھین رہے ہیں، جو کہ  صنفی امتیاز کی من گھڑت بنیادوں اور اس کے مہلک نتائج سے پردہ اٹھانے والی سائنسی تحقیق ہے۔ نیز سائنس پر ان کا حملہ خواتین کو سائنسی علوم سے متنفر کرتا ہے اور اس طرح جدید معاشرے میں ان کی کمتر حیثیت کی بنیادوں کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ ہمارے سائنس مخالف ساتھی اپنے حملے کے ہدف یعنی سائنس کے بارے میں خوفناک لاعلمی کا شکار ہیں۔ عقل میں نظم اور سوچ میں  دقت سے محروم ہونے کی وجہ سے وہ بالکل بنجر ہو چکے ہیں۔ تاہم اس نالائقی نے ان کو لاتعداد طلبہ کو گمراہ کرنے، ان کو دروازے سے باہر نکلنے کی ترغیب دینے، ان سے سیدھا سوچنے کی صلاحیت سلب کرنے اور  ان سے درست حقائق کی کھوج  چھین لینے سے نہیں روکا ہے۔ بہت سے بچے تو معقول انداز میں لکھنے کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ کوئی بھی سنجیدہ اور اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کرنے والے دانشور ایسے وحشیوں کو کیسے برداشت کر سکتا ہے  جو حقیقی دانشوری کو بدنام کرنے اور جدید ثقافت کو تباہ کرنے کے درپے ہیں؟

julia rana solicitors

منبع:

1. Mario Bunge, “In praise of intolerance to charlatanism in academia”, Annals of the New York Academy of Sciences 775 (1), 96-115, 1995.

Facebook Comments

حمزہ ابراہیم
کم علمی کی وجہ سے میری تحریروں میں غلطیاں بھی ہیں جن کا احساس کچھ سال بیت جانے کے بعد ہوتا ہے۔ قاری کو مزید تحقیق کرنی چاہئیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply