جب بھی میٹرک، انٹر، او لیول یا اے لیول کے نتائج کا اعلان ہوتا ہے سوشل میڈیا پر ایک طوفانِ نمائش برپا ہوجاتا ہے۔ ہر طرف وائرل پوسٹوں، مبارکبادوں اور اشتہارات کی بھرمار نظر آتی ہے۔ کوئی اپنی انفرادی کامیابی دکھا کر داد سمیٹتا ہے، کوئی لڑکیوں کی برتری کا جشن مناتا ہے تو کوئی محنت کش طبقات کے بچوں کی کامیابی کو نمایاں کر کے جذباتی تحسین حاصل کرتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف ذاتی خوشی یا سماجی پذیرائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ تعلیمی ادارے، اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور کوچنگ سینٹرز بھی اس اشتہاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کے لیے یہ شہرت کمانے اور نئے بچوں کو اپنی درسگاہوں کی طرف متوجہ کرنے کا نادرموقع بن جاتا ہے۔
بعض اوقات تو بچوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ انعامی تقریبات میں اپنی کامیابی کا کریڈٹ اساتذہ کو دیں تاکہ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ اورادارے کی شہرت میں مزید اضافہ ہو۔ اسکول اور کوچنگ سنٹرز کی انتظامیہ عموماً ایسے اشتہارات جاری کرتی ہے جن میں اُن بچوں کو نمایاں کیا جاتا ہے جنہوں نے اعلیٰ نمبرز حاصل کیے ہوں تاکہ اس کامیابی کو اپنے تعلیمی معیار کا ثبوت بنا کر نئے والدین اور طلبہ کو مرعوب کیا جا سکے۔ کچھ والدین، رشتہ دار، میڈیا پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا صارفین بھی ان نتائج کی خبریں وائرل کر کے یوٹیوب یا فیس بک سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاہم یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ہمارا موجودہ تعلیمی نظام واقعی مؤثر، جدید اور تعمیری ہے؟ کیا ہمارا نصاب آج کی ٹیکنالوجی سے جُڑے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ کیا تعلیمی سہولیات تمام طبقات کو یکساں دستیاب ہیں؟ کیا ہم نے رٹّا کلچر کا خاتمہ کر لیا ہے یا اس کے خاتمے کے لیے کوئی عملی منصوبہ بندی موجود ہے؟ کیا ہم تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی سوچ کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہیں؟ کیا ہمارے اساتذہ اور تعلیمی ادارے حقیقی معنوں میں تعلیم دینے کے لیے تیار اور تربیت یافتہ ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جو موجودہ نظام تعلیم پر کئی فکری اور اخلاقی سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے دستیاب اعداد و شمار اور مشاہدات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کا تعلیمی ڈھانچہ آج بھی ایک روایتی، سطحی اور محدود سوچ پر قائم ہے جو محض نمبروں کی دوڑ اور ڈگری کے حصول تک محدود ہے۔
ایسے ماحول میں نتائج کا ڈھول پیٹنا، اشتہارات چلانا اور نمایاں نمبروں کو کامیابی کا پیمانہ بنانا محض نمائشی عمل ہے۔ اس میں نہ کوئی فکری گہرائی ہے نہ علمی افادیت۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر بچے محض پرچے کے مخصوص پیٹرنز، گائیڈز اور ماضی کے سوالات یاد کر کے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں کسی مضمون کی حقیقی فہم حاصل ہے یا وہ علم کو زندگی میں برتنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح جو طلبہ فیل ہو جاتے ہیں یا کم نمبر لیتے ہیں انہیں ناکام یا نالائق سمجھنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ظالمانہ سوچ کی عکاسی ہے۔ وہ طلبہ جو رٹنے میں ماہر نہیں یا رٹے بازی سے بیزار ہو کر زندگی کے دیگر مشغلوں میں مصروف رہتے ہیں وہ درحقیقت اس ناقص نظام کے خلاف اپنی فطری مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ایسے بچوں کو کمتر اور ناکام قرار دیتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس رٹے کے نظام میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنا محض مزدوری کی ایک شکل ہے۔ جیسے کوئی مزدور اوورٹائم لگائے، زیادہ وزن اٹھائے، زیادہ کھدائی کرے اور بدلے میں زیادہ اجرت پائے تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ وہ حکمت و فہم میں بھی برتر ہے؟ اگر وہ مزدور آرام نہ کرے، روزمرہ زندگی کی خوشیوں سے محروم رہے تو اس کی توانائی جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ یہی حال اُن بچوں کا ہے جو آرام، نیند، کھیل، تجسس، معاشرتی تجربے اور زندگی کے دیگر پہلوؤں کو قربان کر کے محض اعلیٰ نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ وقتی طور پر توکامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے گریڈز نے انکی ذہنی نشونما میں بھی کوئی مثبت کردار ادا کیا؟ ان کے لیے صرف دعائیں کی جا سکتی ہیں لیکن مستقبل میں عملی زندگی کی کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ ایسے بچے بڑے ہوکر عموماً بیروزگاری اور مایوسی کی زندگی گزارتے ہیں۔
اکثر اوقات تعلیمی نتائج کے ساتھ کچھ تلخ خبریں بھی سامنے آتی ہیں جیسے چند بچوں کا خودکشی کر لینا کیونکہ وہ والدین کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے افسوسناک واقعات کا ذمہ دار کون ہے؟ بلاشبہ ہمارا ناقص تعلیمی نظام اور وہ نمائشی اشتہارات جو بچوں کو نمبروں کی دوڑ میں جھونک دیتے ہیں۔ یہ مقابلہ بازی بعض بچوں کے ذہن میں اس قدر ناکامی کا زہر گھول دیتی ہے کہ وہ زندگی سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔یہ صرف تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی ناکامی بھی ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مزدور، ریڑھی بان، چوکیدار، خاکروب ، منشی کے بچوں یا لڑکیوں نے نمایاں پوزیشنز حاصل کر لیں۔اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ان میں ذہنی اور تخلیقی صلاحیتیں زیادہ تھیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان میں خاموشی، اطاعت اور مشقت کی عادت زیادہ ہوتی ہے جو رٹا لگانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ وہ سسٹم کو چیلنج کرنے کے بجائے اُس میں ضم ہو جاتے ہیں اور اس کے جبر کو اپنی بقاء اور ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے قبول کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس خوشحال طبقے کے بچے چونکہ فکری آزادی، سوال کرنے کی جرات اور خود اختیاری کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اس لیے وہ رٹے کے جابرانہ نظام کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور اس میں مکمل ڈھلنے سے انکار کرتے ہیں۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کا سلیبس فرسودہ، امتحانی پرچے ناقص، چیکنگ غیر شفاف اور استاد کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پورا نظام صرف نمبر، گریڈ اور ڈگری کی بنیاد پر کامیابی کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ عمل بچوں کی خود اعتمادی، جذباتی صحت اور سیکھنے کی خوشی کو برباد کر دیتا ہے۔ نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ اُن کی کارکردگی کو بچوں کے نمبروں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہم کامیاب بچوں کی خوشی سے خائف یا حسد میں مبتلا ہیں تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ ہمیں ہر طبقے کے بچوں کی کامیابی پر خوشی ہے اور ان کی آنے والی زندگی میں مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو ہیں ۔ ہم صرف یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ نمبروں پر مبنی یہ کامیابی نہ تو حتمی ہے، نہ ہی زندگی کی اصل کامیابی کی ضمانت۔ یہ وقتی شہرت شاید بچوں اور والدین کو مسرور کرے لیکن اس کا اصل فائدہ وہ تعلیمی ادارے اور کوچنگ سینٹرز اٹھاتے ہیں جو ان بچوں کی کامیابی کو اپنے کاروباری اشتہار میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
اگر ہمیں واقعی حقیقی کامیابی کا جشن منانا ہے تو قومی سطح پر تعلیمی اصلاحات کی تحریک چلانی ہوگی۔ ہمیں ایک ایسا جدید، ہمہ گیر اور تخلیقی نظام تعلیم ترتیب دینا ہوگا جو محض یادداشت اور نمبر کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ فہم، تحقیق، تخلیق اور کردار سازی پر مبنی ہو۔ جیسے اسکنڈینیوین ممالک، جاپان، سنگاپور، چین، یورپ، امریکا اور کینیڈا میں اس پر تجربات ہو رہے ہیں۔ ہمیں اساتذہ کی تربیت، طبقاتی تفریق کا خاتمہ اور یکساں تعلیمی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا ورنہ ہم تعلیمی زوال سے آنکھیں چراتے ہوئے یونہی ہر سال نتائج کے دن وقتی جشن مناتے رہیں گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں