“ہیلو۔”
“ہیلو، سلام یار۔”
وینا نے دیوار پہ سجی گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا، “دو تین بار فون کر چکی ہوں۔ بارہ بجے تک تو تم اٹھ جاتی ہو۔ سب خیریت ہے نا آج—”
“تم میرا کیوں اتنا فکر کرتی ہو؟” شیریں اٹھ کر آئینے کے سامنے بیٹھ گئی۔
“بس مجھے تمہاری فکر لگی رہتی ہے۔” وینا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “سچ بتاؤں شیریں، اگر تم نہ ہوتی تو میرا پتا نہیں کیا حال ہوتا! کس کو اپنا حال سناتی— تم نے تو واقعی کالج کی دوستی کو نبھا دیا۔”
“اور تم نے تو بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا— کون رکھتا ہے ایک ایسی عورت سے دوستی!” — کڑواہٹ بھرے قہقہے کے ساتھ — “حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ میں ایک پھول تھی جسے پاؤں تلے روند دیا گیا۔ اب میری خوشبو بھی زہر بن چکی ہے۔ خدا کرے وہ رات ان کی آنکھوں میں ہمیشہ جلی پھرے— جیسے میرے جسم پر ان کے نشان آج بھی دہک رہے ہیں۔”
شیریں نے ایک لمبی جمائی لی تو جیسے سارے غم گھٹن میں اٹک گئے۔
“لگتا ہے تمہاری نیند پوری نہیں ہوئی آج۔”
“ہاں، وہ کمبخت ٹھیکے دار پھر آ دھمکا۔ یہ کمینہ دیر سے آتا ہے اور دیر سے ہی جاتا ہے۔”
“شیریں!”
“ہاں بولو۔”
“نہیں— مجھے کچھ کہنا تھا لیکن”—خاموشی—”اب نہیں۔”
“پوچھو جو پوچھنا ہے۔ میں بے نقاب ہوں—کون سی رسوائی باقی رہ گئی ہے؟”
“میں کافی دنوں سے سوچ رہی تھی کہ— جو تم یہ کام کرتی ہو تو تمہیں گھن نہیں آتی؟ میں نے پہلے بھی یہ پوچھا تھا، تو تم نے مذاق میں میرے سوال کو اڑا دیا تھا۔”
وینا نے ایک گہری سانس لی، جیسے اس کا بوجھ اتر گیا ہو۔
“ہوں— مجھے اس کا اندازہ ہے کہ تمہیں یہ سوال کتنا پریشان کرتا ہے— لیکن— لیکن کیا کروں؟ بھاگوں؟ کس کے پاس؟ تمہارے گھر؟ تمہارا شوہر تو مجھے دیکھتے ہی تمہاری چُٹیا نوچ لے گا!” — شیریں کی آواز کانپتی ہے — “اور ابّا؟ وہ تو خود بھائی کے در پر بھیک مانگتے ہیں۔ میری قسمت کا فیصلہ ہو چکا—میں ایک گندگی ہوں جو ہر کوئی صرف چاٹتا ہے۔”
وینا کھڑکی سے دور بادلوں کو دیکھنے لگی۔ “اور شادی—!”
“شادی— مجھ سے— ایک طوائف سے؟” شیریں ہنستی ہے، آنسو چھپاتی ہوئی “میں ساری عمر موسمِ سرما میں ایک گرم دن کا انتظار کرتی رہوں—اب جو ہونا تھا، ہو گیا۔”
وینا کی زبان گنگ ہو گئی۔
“ہیلو وینا، تم لائن پہ ہو۔”
“ہاں، ہاں— میں ادھر ہی ہوں تمہارے پاس۔”
“میرے ذہن میں بھی ایک سوال گونجتا رہتا ہے، میری پارسا سہیلی۔”
“ہاں ہاں پوچھو! ایسی کون سی بات ہے میرے بارے میں جو تمہیں پریشان کر رہی ہے؟”
“تمہیں اشتیاق پسند ہے؟”
وینا کی آواز بلند ہو گئی۔ “میں تو تمہیں کئی دفعہ اس بارے میں بتا چکی ہوں! پھر تم کیوں یہ سوال دہرا رہی ہو؟”
“سخت ناپسند ہے نا وہ— اس کی عادتیں، اس کا مزاج— پھر بھی تم اُسے اپنے جسم سے کھیلنے کی اجازت دیتی ہو!”
“تو پھر— تم چاہتی ہو کہ میں بھاگ جاؤں؟”
شیریں نے دانت چباتے ہوئے کہا، “کیوں نہیں!”
وینا نے ایک لمبا سانس لیا۔ “میرے پاس کوئی جگہ نہیں جانے کی— اور نہ میرے پاس کوئی ایسا ہنر ہے کہ اپنے بل بوتے پہ ایک محفوظ جگہ پہ اکیلی رہ سکوں۔”
“وینا— تو تم بھی میری طرح—”
اور خاموشی کا بوجھ دونوں پر حاوی ہو جاتا ہے!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں