نیکی کا صلہ اور رب العالمین کا سرپرائز /ابو الحسن نعیم

انسان کتنا عجیب ہے؟ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ جب وہ نیکی کرتا ہے تو توقع کرتا ہے کہ اسے اس نیکی کا صلہ ملے۔ یہ مرض آج کی نوجوان نسل میں بہت زیادہ پھیل گیا ہے۔ مفادات کی جھلی ہر ایک کے دماغ کو ماؤف کر چکی ہے۔ سب اسی زاویے سے سوچتے ہیں کہ اس کام میں ہمارا فائدہ کیا ہے؟

کسی کے ساتھ بھلائی کرنی ہو یا کسی کو تکلیف سے بچانا ہو ہم ہمیشہ اپنے مفادات کا ٹیبل نکال لیتے ہیں۔ اگر مفادات کا سکور زیادہ ہو تو ہم آگے بڑھتے ہیں ورنہ اپنے قدم اور ہاتھ پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔

یہ صورتِ حال اس وقت زیادہ گھمبیر ہو جاتی ہے جب کسی “نیکی” کا موقع آتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے نیکی کرتے وقت ہمارا یہ تصور ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کی جزاء دیں گے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے لاشعور میں یہ بات پیوست ہو چکی ہے کہ نیکی کا بدلہ اور جزاء آخرت میں ہی ملے گی۔

مفادات کی دوڑ میں نیکی کا فلسفہ بہت کمزور رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ ہم نے ہر چیز کے نتائج اور اجر کا تعلق آخرت سے جوڑ دیا ہے۔ اور اس پر بھی کمال یہ ہوا کہ ہم نے اس کی وضاحت بھی نہ کی کہ اجر کتنا ہو گا؟ کس قدر ملے گا؟ کیونکر نصیب ہو گا؟ کیا دنیا میں اس کے اثرات نصیب ہو سکیں گے؟

اس طرح کے سوالوں کے جواب تلاش کرنا اور عوام کے ذہن نشین کروانا بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہمدردی ، صلح رحمی ، وفا شعاری ، حسنِ سلوک اور اچھے اخلاق کو صرف مفاد کی عینک سے دیکھنے کی عادت بنا لی ہے۔ جب ہر کوئی مفادات کی مالا چبتے ہوئے جزاء کی امید لگائے بیٹھا ہے تو اسی کی توقع کے مطابق اسلام کی تعلیمات اس تک پہنچائی جائیں تو شاید کہ ہم بہتر معاشرے کی تشکیل کی طرف قدم بڑھا سکیں۔

اللّٰہ تعالیٰ سورہ یونس کی آیت 26 میں ارشاد فرماتے ہیں:
لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
جن لوگوں نے نیک کام کیے ان کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی۔

یہ آیت کریمہ ہمیں بتاتی ہے کہ جو لوگ نیک کام کرتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان کی نیکی کے مطابق اجر تیار کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب محض اخروی اجر نہیں جو جنت کی صورت نصیب ہو گا بلکہ دنیا میں بھی اس کی بیسیوں صورتیں ہو سکتی ہیں جو ہماری زندگی کو خوبصورت ، پُرسکون اور مطمئن بناتی ہیں۔ کبھی ہم غصے کی حالت میں صبر سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو روک لیتے ہیں یا لوگوں کے ساتھ ہمارا رویہ مثبت رہتا ہے اور ہر کام کے وقت ہماری نیت صاف اور شفاف ہوتی ہے تو زندگی میں اس کی جزاء کئی طرح سے مل رہی ہوتی ہے۔

آپ ایسے نیک کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کا مشاہدہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ خوبصورت اور پُرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا دل ہمیشہ مطمئن رہتا ہے ، دماغ پر سکون ، زندگی پر لطف اور محبتوں سے سرشار رہتی ہے۔ لوگ عزت سے بلاتے ہیں ، احترام کرتے ہیں اور معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوصف جو اہم چیز انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ ہے “قلبی طمانیت”۔ کہ انسان کی روح ہمیشہ سرشار اور فرحت آمیز ہوتی ہے۔ جو نور نیکیوں کی بدولت انسان کے بدن میں سرایت کرتا ہے اس کا کوئی بدل نہیں۔ وہ خریدا نہیں جا سکتا، وہ بے مول اور انمول ہے۔ وہ صرف نیکیوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسی آیتِ کریمہ میں دوسری چیز ارشاد فرمائی “وزیادۃ”۔ یعنی اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی۔ اس “کچھ اور” کو اللّٰہ تعالیٰ نے مخفی رکھا ہے۔ آپ یوں سمجھیے کہ یہ نیک لوگوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کا سرپرائز ہے جو اپنے محبوب بندوں کو دینا چاہتا ہے۔ اسی “کچھ اور” کی بدولت ہماری زندگی میں جو اچانک بہت کچھ بہتر اور خوش گوار ہو جاتا ہے جب تلخیوں کی توقع ہوتی ہے۔ یہ اسی “کچھ اور” کی بدولت ہوتا ہے کہ جب زندگی ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے کہ جہاں آگے موت اور پیچھے کھائی ہو تو وہاں سے انسان دودھ سے بال نکالنے کے مترادف بآسانی نکل آتا ہے۔ یہ نیکو کاروں کے لیے تحفہ اور ہدیہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ ہے۔

اس لیے نیکی کرتے وقت یہ مت سوچیں کہ اس کا صلہ اور اجر ظاہراً کیا ملے گا؟ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے محض اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے قدم بڑھائیں اور نیک کام میں جت جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کا ہاتھ تھام لے گا جب زندگی کے تلخ تجربات سے گزر رہے ہوں گے۔

julia rana solicitors london

pc;istock

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply