گُنگناتا لہجہ ،قدقامت بدن اَور قدقامت مزاج ،جہاں مجھ جیسے گیارہویں بارہویں کے طالب علم دب کر رہ جاتے ۔مادرعلمی حسین شہید کالج کی پرانی عمارت اپنے کلاسیکل حُلیے اور ماحول کی وجہ سے منفر د تھی۔مرکزی داخلہ گاہ سے بائیں طرف مڑنے پر راہ داری کے آخر میں تھیٹر ہال واقع تھا۔دائیں ہاتھ دروازے سے اندر داخل ہوتے تو سیڑھیوں سے تہ در تہ بھرے ہال سے واسطہ پڑتا جو دروازے اَور تختہ سیاہ سے تقریباً چھ فٹ فاصلے سے شروع ہوتیں اور چڑھائی میں آخری دیوار کی چھت تلے ختم ہوجاتیں۔۔کبھی یہاں اس ہال کے مزاج کے مطابق سرگرمیاں ہوتی تھیں۔مگر اب ہمارے دَور میں صرف تدریسی دورانیے ہواکرتے تھے۔
ممتاز صادق صاحب یہاں ہمیں اُردو پڑھایاکرتے تھے۔جلال و جما ل کی جھلکیاں ،طلبا اور ان کے درمیان ایک خاص فاصلہ ۔جہاں شناسائی اور دوری دونوں متوازن فاصلے پر کھڑی رہیں۔ہم آتے ،بیٹھتے ،درس لیتے اَور چلے جاتے۔یہاں محتر م ممتاز صادق صاحب کے علاوہ پروفیسر ذوالفقار اَحمد ساحراَور پروفیسر ڈاکٹر ظفر حسین ظفر سے بھی ہم نے اُردو پڑھی ۔
ممتاز صادق صاحب کے ہاں شاید وقت آکر ٹھہراہواہے1998ء،1999ء،2000ء عشرے میں جو روپ تھا۔آج بھی وہی ہے۔ضرورمیرے ہمالہ کے کسی چشمے سے ‘‘آب بہاراں ’’ پی لیاہوگا۔جب ہی ایسی بہار لیے پھرتے ہیں۔۶۰ کاعد د آرام سے پار کرنے کے باوجود ۴۰ کے پٹیے میں بضد ہیں کہ آگے نہیں جاؤں گا۔ان کااس قدر یوں ضدی ہوجانا،اندازہ نہ تھا۔جیون کی سوغاتیں ہرجوان پراتنی مہربان کم ہی رہی ہیں۔جب آدمی پروفیسر بھی ہو تو حالات مزید سنجیدہ ہوجاتے ہیں۔اس سنجیدگی کے پردے میں پوری طرح‘ سنگینی ’ دھکم پیل کرتی رہتی ہے۔یوں بالآخر پروفیسر ،کو برقعہ اتارنا پڑتاہے۔اور اصل روپ سامنے آجاتاہے۔
مگر یہاں معاملہ باکل الگ ہے۔حضرت دامن جھاڑیں تو پھول ،پتیاں تازگی اور جوبن لیے لہلہاتا چمن بناڈالیں۔بھلاہمارے فیض احمد فیض ،ساحر لدھیانوی ،امجد اسلام امجد ،محترمہ پروین شاکر صاحبہ،بے چارے ساغر صدیقی اور جھوم جھوم کر پڑھنے والے جون ایلیا نے ایسی بہار کے لیے زندگی ترستے گزاری ہوگی۔جو ہمارے استاد محترم کے حصے میں آئی ہے۔
حضرت اقبال ؒ کے کلام کافکری پہلو اپنی جگہ لیکن انھوں نے جو رومانوی نظمیں لکھی ہیں تو خوب لکھی ہیں۔حسن ازل کی غمگینی کاماتم اور نوحہ بھی پڑھا۔اتناعظیم اور خوب صورت شاعر جنھیں میڈم عطیہ فیضی نے ہمیشہ پیار اور شرارت بھری نگاہوں سے دیکھاتھا۔مگر حقیقی تصاویر میں حقہ پکڑے اقبال نہ عالم اسلام کے نمائندہ نظر آئے ،نہ شاہینی صفات نظر آئیں اور نہ ہی ان کے حلیے میں کسی مریخ پر رسی پھینکنے والا چست بدن دانش ور۔اپنے وقت کی لاڈلی اور مغرور پڑھی لکھی ماڈرن نواب زادی نے اقبال کو نگاہ اُلفت سے دیکھا تو یہ میڈیم عطیہ کاجگرا تھا۔۔
پہاڑوں کے پالے علم و ادب کے رکھوالے ،فطرت کی گو دمیں پلے بڑھے اور کھلے ہمارے اساتذہ پروفیسر ذوالفقار احمد ساحر،ڈاکٹر ظفر حسین ظفراور خاص کر ڈاکٹر ممتاز صادق صاحب کو میڈ یم عطیہ دیکھ لیتی تو جیون وادی راولاکوٹ میں گروی رکھنے چلی آتیں ۔پروفیسر ممتاز صادق صاحب مرد کہتانی بھی اور مرد آہن بھی۔یُوں عطیہ جی بے ساختہ ڈاکٹر اقبال سے بے تکلف کہہ دیتی کہ دیکھو علامہ۔۔۔!تم جن شاہینوں کی بات کرتے ہو وہ پیزپنجال کے دامن میں وہاں ہوتے ہیں۔ارے تم تو بس سناہے اپنی رہائش گاہ (لاہور) سے داتادربار پر حاضری کے لیے نکلتے ہو۔لیکن کسی گھر کے بالاخانے پر اپنے دوست کے ہاں شربت پیتے ہو ،آم کھاتے ہو پھر حبس اور گرمی کابہانہ کرکے ادھر ہی لیٹ جاتے ہو کہ دوپہر اُترنے پہ جاؤں گا۔پھر بھی نہیں جاپاتے۔شاہین تو پہاڑوں میں ہوتے ہیں۔میں ان کوہستانی پروفیسروں کو ملنے راولاکوٹ ضرور جاوں گی۔ پھراور بلاتکلف امیر زادی ڈاکٹر اقبال کو آخری بار تنبیہ کرتی کہ لاہور چھوڑ کر آجاؤ۔۔جواب نہ ملنے پر۔۔ ہمارے شہر چلی آتی کبھی واپس نہ جانے کے لیے۔آخرکو عطیہ کراچی کی کسی گلی میں گل گئیں ۔میرے دیس آتیں تو محبت ،پیار،اور کوہستانی خلوص سے مالامال ہوجاتیں۔
‘خاکہ نما’ممتازصادق صاحب کی دوسری کتاب ہے۔یہ کتاب گزرے عہد کی کہانیاں ہیں ،لوگ ہیں،یہاں علم گاہیں بھی ہیں جہاں ڈاکٹر غلام مصطفی ٰ بیٹھے ہیں،ڈاکٹر جمیل جالبی ہوتے ہیں۔علاوہ یہ ہم سب کاستھراماضی ہے۔
یہ کتاب گزرے عہد کی مجلس ہے۔آپ پہلاورق کھولیں تو پہلے پہل ایک بند ہ کہستانی سے ملاقات ہوتی ہے۔خلوص و وفا کاپیکر ،علم و ادب سے شغف ،مکمل مشرقی مرد،ذمہ دار شوہر،والد،ایک اُستاد اور ایک مربی بھی۔ 1997ء میں جب کالج آیاتو ان سے بارہانظری ملاقاتیں ہوئیں ۔اس مجلس کی دوسری شخصییت جن سے ملاقات ہوتی ہے۔وہ ،وہ چھاوں ہے جہاں ہر ذی روح کڑی دھوپ میں قرار پاتا ہے۔ماں جی کی صحبت میں بیٹھیں تو خوبانیوں کے باغ،دادی اماں کی ہم جولیاں،جن کے لیے محمود درخت پر چڑھ کر پکی پکی خوبانیاں گراتاہے اور دادی ماں جھولی بھر کر چراگاہ میں آئی مویشیوں کے ساتھ دیگر خواتین کو کھلاتی ہیں ۔ہماری ان دادیوں اور ماؤں نے جیون کی کھٹنائیوں کو مردوں سے بڑھ کر مردانہ وار جیتا۔ان ماوں اور دادیوں نے گھر داری کی ،معیشت کی ستر فی صد اپنے ذمہ لیا۔مال مویشی ،کھیتی ،گھاس کٹائی ،رچائی ،مہمان داری ،گھروں کی لیپائی ،بچوں کی پرورش ،کھلانا ،پلانا،نہلانا،ناشتاتیارکرکے دینا،بیمار پرسی ،اور دیگر سب گھریلوکا۔ہم نے اپنی دادیوں اور ماوں کی ان خدمات کو وہ جگہ نہ دی جو ان کاحق تھا۔میں ماں جی کے پاس جاجاکر بیٹھا،یوں کہ مصنف کے سارے خاندان سے مل کر آیا۔یہاں پتہ چلاکہ قمر رحیم ماں جی کالاڈلا بھتیجاہے۔قمر رحیم اگرچہ ماں جی جیسالاڈلا نہ ہو۔مگر ہمیں بھی بہت پیاراہے۔ماں جی کے پاس بیٹھ کر میں مصنف کے شرارتی اور معصوم بچپن میں چلاگیا۔کہیں واضح کہیں نابینائی کی مار۔محمود کو دیکھا،مصنف کی شراراتیں ،ماں جی کے ساتھ الجھنا،۔۔۔تصور کی آنکھ سے کاروائی کے بعد جوابی کاروائی ۔۔۔ ۔کچے چولہے میں بھڑکتی آگ کے پاس جابیٹھا۔مصنف کے لیے ماں کے پراٹھے ،ان کی خوش بو ،تصور میں گھی میں چور چور،چوری اور انڈے ۔۔۔۔اور واپس جب تھیٹر ہال میں آنکھ کھلی تو گھگی بند گئی ۔
ڈاکٹر غلام مصطفی ٰصاحب کی مجلس حال و قال کی ہے۔وہاں کشمیری زعفران کی خوش بو ہے۔علم کے موتی برستے ہیں۔تقوی ٰ ہے۔استاد ہیں اور شاگرد ہیں۔اس نام سے جہاں علم کی خو ش بو آتی ہے۔ وہی ان کے نام سے کچھ تحریروں کاوہم ہوتاہے جو نظر سے گزری ہیں۔
ڈاکٹر جمیل جالبی اردو ادب کاایک اہم حوالہ ہیں۔اسامہ علی سے افطار حسرت صاحب کے گھر میری کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اسامہ کابھولابھالا چہرہ مجھے پھر سے تازہ ہوگیا۔مصنف کے ایک استاد اردو کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔شاہ صاحب فارسی اور اردو کے خاص تھے ۔سنا ہے شاہ صاحب پیروڈی تکنیک پڑھاتے ہوئے استعمال کرتے تھے۔تدریس کے جدید طریقوں میں یہ سب سے مشکل تیکنک ہے اور آزمودہ کار ہے۔ کلاس کنڑول اور سبق پر دھیان اس کی ایک خوبی ہے۔مصنف کاایک خاکہ دھرتی اخبار میں شاہ صاحب پر شائع ہوچکاہے۔بہتر تھاوہ اس کتاب کاحصہ ہوتا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں