آج صبح ایک مضمون کا ابتدائیہ یہ دیکھا
”جب آپ کے بالغ ہوتے بچے بات بات پر بدتمیزی کرنے لگیں یا آپ پر چیخنے چلانے لگیں، اور اپنی تمام تر سمجھداری اور برداشت کے باوجود والدین بچے کی بدتمیزی سہہ نہیں پاتے تو اس تجربے سے گزرنے والے والدین کے کرب اور پریشانی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے
یہ مسئلہ اب گھر گھر کا ہے”
اس پر پہلا میرا یہ کمنٹ تھا
“بچے ایسا نہیں کرتے”
بلکہ جب بچوں پر آپ اپنی طاقت کے دور میں چلاتے ہیں انہیں بے بس کرتے ہیں تب وہ اپنی طاقت کے دور میں جوابی یہی بات سیکھتے ہیں اور کرتے ہیں۔
اس پر یہ جواب آیا
“آپ شاید نیو کلیر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، ان خواتین سے پوچھیے جہاں وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہ رہی ہوتی ہیں اور دادا دادی مجال کیا ہے کہ ماں کو اونچا بولنے بھی دیں۔ ایسے میں بچے کیا کچھ نہیں کرتے۔۔ یہ آپکی سوچ ہے”
مجھے اس جواب نے حیرت زدہ کردیا کہ ان کے نزدیک صرف بچے ہی مجرم ہیں ۔
وہاں میں نے یہ لکھا ویسے یہ بات سمجھنے کی
” حیرت ہے کہ نیوکلیر فیملی اور مشترکہ خاندانی سسٹم کا تقابل کلی طور پر کیسے اس مدرسے میں پیش کیا جاسکتا ہے
حالانکہ بنیادی بات اس طاقت کی ہورہی ہے جس میں بچے کو جبر سے اور غیر ضروری ڈانٹا جاتا ہے مارا جاتا ہے یا نفسیاتی طور پر بچے کی غلطی کے بغیر اس پر رعب ڈالا جاتا ہے چاہے پھر ہو ماں باپ دادا دادی ماموں یا کوئی بھی ہو۔ ، یہ سب اپنے اپنے حساب سے محبت بھی کرتے ہیں مگر اس بچے کے لیے کتنے نفسیاتی مسائل پیدا کرتے ہیں جنہیں خود ماں باپ نے ہینڈل کرنا ہوتا ہے، کبھی اس۔ ارے میں خود سوچا۔؟
جو بچے اس وقت یہ جبر برداشت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ طاقت کے زیر ہوتے ہیں جب وہ خود اسی طاقت میں آتے ہیں وہ بھی ایسے ہی رد عمل دکھاتے ہیں کیونکہ انہوں نے یہی سیکھا ہوتا ہے۔
میں پتہ نہیں آپ کو بات سمجھا سکوں گا یا نہیں لیکن میری اپنی بیٹی جس کی عمر صرف چھ سال ہے جب اس کی والدہ اس کو ڈانٹتی ہیں یا اگر میں کسی بات پر اس کو سمجھاؤں تو وہ مجھ سے بہت آرگیومنٹ کرتی ہے ہم اس کے سارے سوالوں کے جواب اس کی ذہنی سطح کے مطابق دیتے ہیں اسے مطمئن کرتے ہیں ہمیں بظاہر اس میں وقت لگ رہا ہوتا ہے کہ بیٹی جو کام کر رہی ہے جیسے
اپنا آئی پیڈ زیادہ استعمال کر رہی ہے، تو ہمیں اسے لاجک سے سمجھانا ہوتا ہے کہ اتنا استعمال نہیں کر سکتے۔ وہ جوابا ًہم سے یہ کہتی ہے کہ آپ بھی موبائل استعمال کر رہے ہیں تب ہمیں انہیں سمجھانا پڑتا ہے کہ آپ کے بابا کی جاب سے ریلیٹڈ کالز اور میسجز ہوتے ہیں جو میں استعمال کر رہا ہوں، جو ہمارا کچن اور آپ کی ضروریات یا کھلونوں کے لیے معاون ہوتا ہے۔
کئی باتوں میں وہ بہت زیادہ سوالات کرتی ہے، یا اسے ہماری وہ بات سمجھ نہیں آتی جو ہم اسے منع کرکے خود کررہے ہوتے ہیں، کبھی کبھی میں شام کو جاتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ میرے ساتھ کھیلو اگر میں اسے کہوں کہ میں ابھی تھک گیا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ آپ ٹی وی تو دیکھ رہے ہیں۔
میں اسے ڈانٹتا نہیں ہوں ہمیں اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کو جواب دینا ہوتا ہے میں نے ایک بیٹی پیدا کی ہے وہ ایک نارمل انسان کی طرح مجھ سے سوال کرتی ہے مجھے اس کو جواب دینا ہوتا ہے اور یہ اس کا حق ہے۔
اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے
میری اہلیہ کینسر ٹریٹمنٹ میں رہی، ابتدائی تین سال جب میری بیٹی صرف دو سال کی تھی ہم پورا پورا دن ہسپتالوں میں رہتے تھے یا ہسپتال میں ایڈمٹ ہوتی تھی میری اہلیہ۔
ہم نے اس کے لیے میڈ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود ہم اس کو میکسیمم ٹائم دینے کی کوشش تو کرتے تھے لیکن سب سے اچھی بات تھی کہ ہم اس کی بات سنتے اور سمجھتے تھے وہ ہمیں بالکل تنگ نہیں کرتی
وہ اسکول کی بریلینٹ اسٹوڈنٹ ہے
وہ کھانے کی سرونگ سے لے کر بہت ساری چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہماری ہیلپ کرتی ہے ، ہم اسے آواز دے کر فریج سے پانی بوتل منگواتے ہیں، ہم اس سے ایسے کئی کام کہتے ہیں، وہ ہمیشہ ہیلپ کرتی ہے
اس نے کبھی بڑے سے بڑے گروسری سٹورز اور ٹوائے شاپس میں جا کر غیر مناسب ضد نہیں کی۔ کبھی وہ چیزوں کے لیے ہم سے غیر مناسب ضد نہیں کرتی۔ ہم اسے اچھی سے اچھی چیز دلاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر کبھی وہ کوئی ایسی چیز مانگے جو ہمیں اس وقت لگتا ہے کہ ہم اسے نہیں دلانی چاہیے تو ہم اسے آرگیومنٹ سے سمجھاتے ہیں وہ ہماری بات سمجھ لیتی ہے مانتی ہے۔
لیکن یہ سب تب ممکن ہوتا ہے کہ جب ہم اسے ایک ایسا انسان سمجھیں جیسے ہم اپنے برابر کے ذہنی فرد کو ڈیل کرتے ہیں۔
اب آخری بات یہ ہمارے سماج کی انتہائی بد قسمتی ہے کہ ہم یہ بات کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی میں جتنا جبر بچوں پر ہوتا ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں ہے اور ماں باپ بچوں کو اپنی ایک ایسی ملکیت سمجھتے ہیں جیسے وہ ان کے کھلونے ہوں ۔ ہم اپنے قصور اور اپنے پیدا کئے گئے بچوں پر جو جبر رکھتے ہیں اور پھر امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
اس کے باوجود یہ تصویر دیکھ لیں خاتون کا آرگیومنٹ بالآخر کہاں پر پہنچ چکا ہے ۔ ہمیں اس سے کیا کہ آپ کا بچہ اگریسو ہو گیا تو وجہ جاننے کی کوشش کی ؟
جس وقت بچہ اگریسو ہوتا ہے اس کو پوری توجہ سے سنا اس کے ساتھ وقت گزارا
اس کی بات سنیں اس کی بات سمجھیں، چاہے وہ بات غیر مناسب کر رہا ہو، لیکن بہرحال وہ بات کر رہا ہے اپنے دماغ سے پہلے اس کا پورا ارگیومنٹ سنیں پھر اس کو احساس دلائیں کہ وہ جس چیز پر غصہ کر رہا ہے اس کا غصہ ہونا تو ٹھیک ہے لیکن اس کی بات ٹھیک نہیں ہے وہ جو چیز مانگ رہا ہے یا جو بات کہنا چاہ رہا ہے، بچے کو اسوقت ایسا ہی لگتا ہے کہ وہ اپنی جگہ درست ہے لیکن وہ بات یاوہ چیز دوسروںں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے، یہ سمجھانا یا تربیت کرنا آپ کا کام ہے، اس کا قصور بچے کے سر مت منڈھیں، بچے کا موقف کوئی سن سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے، کہ وہ کس نفسیاتی جبر سے گزر رہا ہوتا ہے؟
اگر میں کڑوا سچ لکھوں تو شاید یہ بات بہت لوگوں کو بری لگ جائے۔
ہمارے ہاں 90 فیصد والدین درست تربیت یا پنے کی صلاحیت کے اعتبار سے ماں باپ بننے کی بنیادی اکائی کو کوالیفائی ہی نہیں کرتے کہ وہ تربیت یا اچھی ہینڈلنگ کرسکیں
ہاں یہ ضرور ہے کہ جبرا پچے پیدا کرکے اپنے جیسی مخلوق دنیا میں لا کر انہیں ہی کوسنے دیتے ہیں، اور حقوق کا واویلا کرتے ہیں۔ اور بالآخر یہی سمجھاتے ہیں کہ بچوں کا ہی ہر معاملے میں قصور ہوتا ہے۔ اگر واقعی آپ کو ان مسائل کا سامنا ہے تو بچے مت پیدا کریں، کیونکہ آپ کے جبر اور آپ کی ڈھٹائی کی وجہ سے اصل میں آپ جیسے ہی بن جاتے ہیں اور ان کا آپ جیسا بننا آپ کو خود قبول نہیں ہوتا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں