یادوں بھری پیٹی/سید مہدی بخاری

آج لاہور میں موسلا دھار بارش برس رہی ہے۔ زندگی کی طرح بارش کے بھی بے شمار روپ ہیں۔ بارش کی مختلف آوازوں نے مجھے زندگی بھر اپنا اسیر رکھا ہے ۔ میں نے ان آوازوں کو پہاڑوں ، میدانوں ، ریگستانوں ، جنگلوں ، برف زاروں ، شہروں ، ویرانوں ، ہنگاموں اور تنہائی میں بہت دفعہ سنا ہے ۔بارش کا ماضی کے یادوں سے کیا تعلق ہے ؟ بارش کا رومانیت سے کیا تعلق ہے ؟ بارش کی آواز کھڑکیوں کے شیشوں ، درختوں کے پتوں ، چھت کی منڈیروں سے ہوتی ہوئی کس طرح خیالوں ، سوچوں میں جل ترنگ بجاتی ہے ؟ اور کیسے بارش میں بھیگ کر مٹی کی خوشبو مساموں میں اترتی چلی جاتی ہے ؟ میرے پاس اس کی وضاحت کے لئے کوئی عقلی یا سائنسی دلیل تو نہیں میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ بارش کی آواز میرے لئے فطرت کا حسین تحفہ ہے ۔
آج بھی ایسی ہی بھیگی رات ہے۔ ناسٹالجیا ایک مرض ہے اور میں اس کا مریض ہوں۔ وہ شعر یاد آ گیا۔
بوچھاڑ یہ بارش کی گزرے ہوئے لمحوں کو
کھڑکی سے دریچے سے کمرے میں اُتارے گی
برسوں بیتے، ایک چھوٹا سا بچہ تھا جو اک بار کہیں بازار میں گم ہو گیا تھا۔ میری عمر بارہ سال تھی۔ اماں کے ہمراہ سیالکوٹ قلعہ کے عقب میں واقع انتہائی گنجان بازار میں کھو گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے تو سیالکوٹ قلعے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر خوب رویا پھر ہمت آ ہی گئی۔ انسان بے بس ہو تو ہمت آ ہی جاتی ہے۔ گھر کا پتا اتنا ہی معلوم تھا کہ سڑک اور گلی کا نام جانتا تھا۔ رو دھو کر قلعے کی سیڑھیوں سے اٹھا۔ نگاہوں نے بھیڑ کو تراشنا شروع کیا۔ ایک چہرے پر نگاہ رکی جو بزرگ دکان والا تھا۔ مجھے لگا کہ اس کو اپنا بتایا تو یہ میری مدد کر سکتا ہے۔
میری داستان سن کر وہ بوڑھا شخص ایکدم چونکا۔ اس نے مجھے سینے سے لگایا۔ اپنی دکان پر بٹھایا۔ اپنے لڑکے کو آواز دے کر بلایا اور اسے بولا کہ اس بچے کو سائیکل پر لے حکیم خادم علی روڈ لے جاو۔ آگے سے یہ تمہیں اپنا گھر بتا دے گا۔ اسے گھر تک اتار کر آنا۔ اس نوجوان نے سائیکل نکالی۔ میں سائیکل کے کیرئیر پر بیٹھا۔ وہ سائیکل چلاتا رہا۔ بازار سے گھر کافی دور تھا۔ مجھے پیچھے بیٹھے دل میں تسلی رہی کہ اب میں گھر پہنچ جاوں گا۔
راستہ کٹ گیا۔ گھر آ گیا۔ جیسے ہی میں اپنی گلی میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابا جی میری اماں کو گلی میں سنبھال رہے ہیں اور اماں گلی میں ہی رو رو کر بیہوش سی ہو رہی ہے۔ محلے دار خواتین اماں کو سہارا دے کر گھر کے اندر داخل کرنا چاہ رہی ہیں۔ ساری گلی میں اک کہرام سا مچا ہے۔ جیسے ہی میں گلی میں داخل ہوا۔ ایک محلے دار لڑکا مجھے دیکھ کر یوں بھاگا جیسے اس نے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔ گلی میں داخل ہوتے ہی گلا پھاڑ کر چلایا ” مہدی مل گیا ہے۔ وہ سائیکل پر آ رہا ہے”۔
مجھے یاد ہے گھر پہنچ کر اماں نے چوم چام کر سینے سے لگائے رکھا۔ان کا بلڈ پریشر شوٹ کر چکا تھا۔ ڈاکٹر قریشی جو فیملی ڈاکٹر تھے اور گھر سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا کرتے تھے وہ آئے۔ ڈرپ چڑھائی۔ رات گئے اماں کی طبیعت نارمل ہوئی۔ اس دن کے بعد اماں مجھے کبھی ساتھ لے کر بازار نہیں گئیں۔
سن 2011 کا قصہ ہے۔ میں سکردو میں موجود تھا۔اس شام سورج ڈوبا تو برفپوش پہاڑوں پر کالا بادل ٹھہر گیا۔شفق کی سرخی بھی ختم ہوئی۔ انڈس کے کنارے بہتے پانی کا شور تیز ہونے لگا ۔ دور پہاڑوں پر بسے مکانوں کی بتیاں جلنے لگیں۔انڈس کے ریتلے کنارے پر چلتے چلتے نظر اٹھا کے دیکھا تو کالے بادلوں نے برفپوش سفید چوٹی کو ایسے گھیرا ڈال رکھا تھا جیسے کالا ناگ کنڈل مارتا ہے۔
اندھیرا پھیلنے تک میں دریا کے ریتلے کنارے سے اوپر آ کر سڑک پر چلنے لگا۔سڑک کے کنارے لگے اخروٹ کے درخت کے ساتھ ایک اکیلی بھیڑ کا معصوم سا بچہ چپ چاپ کھڑا تھا۔ یہ میمنہ شاید اپنے ریوڑ سے بچھڑ گیا تھا یا اس کا مالک اسے اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچا سکا تھا۔ سردی بڑھ چلی تھی۔ اس معصوم سے میمنے پر مجھے ترس آنے لگا۔ گزرتے گزرتے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔وه ہلکا سا منمنایا۔ جب میں چلنے لگا تو وه میرے پیچھے پیچھے منمناتا ہوا چلنے لگا۔میں رکا تو وہ بھی رک گیا۔ ایسے ہی چلتے چلتے اس کو پی ڈبلیو ڈی کے ریسٹ ہاؤس تک لے آیا جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے اس لان میں باندھ دیا اور اسے اس کے مالک تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔
وہ مسلسل منمناتا رہا تو مجھے خیال آیا شاید یہ بھوکا ہو گا۔ چوکیدار کو کہا کہ اسے کچھ کھانے کو تو ڈال دو وہ بھوک سے منمنا رہا ہے۔ چوکیدار مقامی بلتی شخص تھا۔ اس نے جواب دیا “سر ، یہ تب تک منمناتا رہے گا جب تک یہ اپنی ماں کے پاس نہیں پہنچ جاتا۔ آپ بے فکر رہو۔ اس کا مالک اس کو تلاش کرتا آ جائے گا یا صبح میں خود اس کو تلاش کر لوں گا۔ ابھی تو رات ہو چکی ہے”۔ میں یہ سن کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کچھ دیر گزری ہو گی کہ چوکیدار آیا ” سر وہ بھیڑ کا مالک آ گیا ہے، وہ اپنا میمنہ لے جا رہا ہے”۔
میں دیکھنے کو باہر لان میں آیا۔ اس بلتی شخص کے ساتھ بھیڑ تھی۔ وہ اس بھیڑ کو ساتھ لئے میمنے کی تلاش میں نکلا تھا۔ وہ بھیڑ اس میمنے کی ماں تھی۔ جیسے ہی وہ ریسٹ ہاوس کے قریب سے تلاش کرتا گزر رہا تھا۔ بھیڑ منمنائی۔ ادھر سے میمنہ منمنایا۔ ماں نے اپنا بچہ اپنی جبلت کی بنا کر خود ڈھونڈ لیا تھا۔ میں نے اس شخص سے پوچھا ” چچا تم بھیڑ ساتھ لے کر تلاش میں کیوں نکلے؟ “۔ اس کی چھوٹی چھوٹی گول مٹول بلتی آنکھیں مزید سکڑیں۔ بولا ” یہ ماں ہے یہ نہ ہوتی تو بچہ اندھیرے میں کہاں اور کیسے تلاش کرتا”۔
وہ بچہ لے کر تو چلا گیا۔ میں وہیں لان میں کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا اور اپنی مرحومہ ماں کو یاد کرتا رہا۔ بھیڑ اپنے میمنے کا ماتھا بار بار چاٹتی چلی جا رہی تھی اور بچہ بار بار ماں کے پیٹ سے لگتا چلا جا رہا تھا۔
مائیں ہماری ساری عمر بیٹیوں کے لیے جہیز کا سامان جوڑتی چل بستی ہیں۔ جب وقت آتا ہے وہ سارا سامان پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔ ہر گھر میں ایک پیٹی ایسی ضرور ہوتی تھی جس کے اندر گدے، موٹی موٹی وزنی اور انتہائی شوخ رنگی کپڑے سے بنی رضائیاں، کراکری سیٹ، نیشنل کا ونڈو اے سی، استری اور نجانے کیا کیا جمع ہوتا تھا۔ مڈل کلاس گھرانوں میں سب سے کام کی اشیاء مائیں جمع کر کے پیٹی میں رکھ دیتیں۔ نہ خود استعمال کرتیں نہ اہلخانے کے نصیب میں آتا۔
میری اماں نے بھی دو پیٹیاں رکھی ہوئیں تھیں۔ فُل سائز جستی پیٹیاں۔ کہتیں “ ایک تیری بہن کے لیے ہے اور ایک میری بہو کے لیے۔”۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ہم دونوں بہن بھائیوں اور اماں کو خود کبھی اچھے برتن، اچھی استری، اچھے گلاس، اے سی وغیرہ نصیب نہ ہوا۔ معمولی برتن روزمرہ کے استعمال واسطے تھے۔ ایک پلیٹ دوسری سے نہیں ملتی تھی۔ شیشے کے گلاس تب نکلتے جب بھولے بھٹکے کوئی مہمان یا رشتے دار آ جاتا۔ اس دن نیا کراکری سیٹ نکلتا۔ وہ بھی مشہور زمانہ پتھر کا سیٹ جس پر سیب اور ناشپاتی کی تصویر ہوتی۔ ٹویو ناسک کمپنی کے شیشے کے گلاس۔ نئے چمکیلے چمچ۔ نئے بسترے اور رضائی یا کمبل۔
اور جیسے ہی مہمان رخصت ہوتے سب لپیٹ کر واپس پیٹی میں بند ہو جاتا۔ یہ پیٹی کھولنے اور لپیٹ کر واپس بند کرنے کی ذمہ داری میری تھی۔ ظاہر ہے والد کی وفات کے بعد گھر میں ایک ہی مرد تھا۔ اے سی تھا مگر پیک شدہ۔ کسی زمانے میں ابا نے جاپانی خریدا تھا۔ ونڈو اے سی۔ وہ بہن کے جہیز والی پیٹی میں بند پڑا تھا۔ ایک نیا کلر ٹی وی چوبیس انچ۔ کمپنی سونی۔ وہ بھی جہیز کا حصہ تھا۔ اور جوسر، گرینڈر سمیت الغرض جو بھی تھا وہ بس جہیز تھا۔
جب بہن کو میں نے رخصت کیا اماں کے آخری دن تھے۔ بستر پر رہتیں۔ گردے لمبی شوگر ہنڈا کر ناکارہ ہو چکے تھے۔ جہیز والی پیٹی بھی گردوں کی مانند ناکارہ ہو چکی تھی۔ ونڈو اے سی کا زمانہ جا چکا تھا۔ نیشنل کی دس کلو وزنی استری کون لیتا دیتا تھا۔ ٹی وی ختم ہو چکے تھے اب ایل ای ڈی فلیٹ سکرین کا دور تھا۔ وہ ناکارہ سامان اونے پونے دام ایک بندے کو بیچنا پڑا۔ یہی حال بھاری بھر کم رضائیوں اور کمبلوں کا ہوا۔ وہ تو بک نہیں سکتی تھیں لہذا وہ بیگم کے کھاتے میں چلی گئیں۔ یعنی دوسری پیٹی میں شفٹ ہو گئیں جہاں پہلے ہی بستروں رضائیوں کی بھرمار تھی۔
اماں دنیا سے چلی گئیں، بہن اپنے گھر چلی گئی۔ پیچھے رہ گئی پیٹی جس کا بوجھ میں اُٹھا اُٹھا کر پھرتا رہا۔ سیالکوٹ چھوڑا آبائی گھر سے رشتہ ٹوٹا تو پیٹی کرائے کے گھر میں شفٹ ہو گئی۔ سلسلہ روزگار میں لاہور منتقل تو پیٹی لاہور والے گھر میں شفٹ ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد اپنا مستقل ٹھکانہ لاہور ہی دوسری جگہ بنا لیا تو پیٹی بلآخر پھر شفٹ ہوئی۔ تاحال پیٹی یہیں پڑی ہے۔
ایک بار سخت سردیوں کی ایک رات یونہی ایک رضائی نکال کر لے لی۔ دس منٹ بعد مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہوئی۔ سینے پر جیسے بوجھ ہو۔ اور بدن پر ہلکا پسینہ آنے لگا۔ میں نے وہ بھاری رضائی ہٹا دی۔ پانچ منٹ بعد مجھے سردی لگنے لگ گئی۔ پھر رضائی لے لی۔ دس منٹ بعد پھر بوجھ محسوس ہو۔ اماں نے شاید الاسکا کے موسم مطابق بھاری بھرکم روئی سے رضائیاں بنوائیں تھیں۔ اس رات نیند آئی ہی نہیں۔ رضائی تلے دم گھٹ جاتا جیسے سینے پر کوئی چڑھ کر بیٹھ گیا ہو۔ اسے ہٹاتا تو کچھ دیر بعد سردی محسوس ہونے لگتی۔اگلے روز میں نے وہ واپس پیٹی میں رکھ دی۔
ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ بیگم صاحبہ چھت پر ہیں اور پیٹی کھول رکھی ہے۔ چھت پر رضائیاں اور گدے بکھرے ہوئے ہیں۔ مجھے دیکھ کر بولی “ ان کو دھوپ لگوا رہی ہوں۔ ان کو دھوپ لگوانا ہوتی ہے ورنہ خراب ہو جاتی ہیں۔”۔ مجھے بیگم کی بیکار مشقت پر ہنسی آ گئی۔ میں نے کہا “ یہ کونسا کام کی ہیں اول دن سے بیکار ہی تو پڑیں ہیں۔ میری مانو ان کو اُدھیڑ کر ان کے رنگین کپڑے سے غرارے بنوا لو اور روئی میں قریبی ہسپتال میں دان کر آتا ہوں ان کو آپریشن میں ضرورت رہتی ہو گی۔”۔ بولی “ اتنی پیاری کلرفُل رضائیاں ہیں۔ بیٹی کے لیے رکھ لیتے ہیں۔”۔ مجھے بیگم کے لہجے میں اماں سنائی دینے لگی۔
خدا کا کرنا یہ ہوا کہ تین سال قبل سیلاب آ گیا۔میں نے فوراً پیٹی خالی کروائی اور سب کچھ دان کر دیا۔ بس ایک رنگ برنگی رضائی بطور اماں کی نشانی کے پاس رکھ لی ہے۔ وہ میرا ارادہ ہے کہ کسی دن ڈرائینگ روم کی ایک وال پر کیلوں سے سجا دوں۔ اچھی لگے گی۔اور ہر آئے گئے مہمان کو کہا کروں “ یہ ہے ہماری نسل کی تہذیب کی آخری نشانی۔”
یادوں کی کوئی خاص ترتیب تو نہیں ہوتی یہ وہ بچے ہیں کہ جو بھی پہلے بلک پڑے اسے تھپکی دینی پڑ جاتی ہے ۔میں اتنا جانتا ہوں کہ انسانی شعور کا نقطہ آغاز بھی حیرت ہے اور انجام بھی حیرت ۔ اس ابتدا اور انتہا کے درمیان محبت و یقین کی پناہیں تلاشتے عمر بیت جاتی ہے۔
کبھی کبھی رات کے پچھلے پہر جب سب سو جاتے ہیں مجھے بستر پر پڑے ماضی یاد آتا رہتا ہے۔ ناسٹالجیا کا مریض ہوں۔
ہائے کیا دور تھا جو بیت گیا
اب جو سوچوں تو آنکھ بھر آوے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply