کلچر کا وائرس (10)۔۔وہاراامباکر

خیال کی ترسیل ایک فرد سے دوسرے تک ہوتی ہے۔ خیال کا آغاز، دوسرے تک پہنچ کر اپنائے جانا اور پھر آبادی میں قبول کر لئے جانا ۔۔۔ اس کو کلچرل ترسیل کہا جاتا ہے۔ اور یہ صرف انسانوں سے خاص نہیں۔ ایک فرد سے دوسرے تک خیال کی ترسیل کی بڑی مشہور مثال جاپان میں کوشیما کے جزیرے پر میکاک بندروں کی ہے۔ 1950 کی دہائی میں ان کا خیال رکھنے والے انہیں شکرقندی دیا کرتے تھے۔ بندر اس پر سے مٹی اور ریت جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔ 1953 میں ایک اٹھارہ ماہ کی بندری کو خیال آیا اور وہ اسے پانی تک لے گئی اور اسے دھو لیا۔ اس سے نہ صرف ریت صاف ہو گئی بلکہ یہ نمکین اور زیادہ مزیدار ہو گئی۔ یہ اس کے بعد ایسا ہی کرنے لگی۔ اس بندری کے ساتھیوں نے یہ سیکھ لیا۔ پھر ان کے ماوٗں نے، اور پھر نر بندروں نے۔ آخر میں صرف دو بوڑھے بندر رہ گئے تھے، جو ایسا نہیں کرتے تھے۔ یہ بندر ایک دوسرے کو سکھا نہیں رہے تھے۔ یہ کلچرل ترسیل دیکھ کر نقل کر لینے کے ذریعے تھی۔ چند سال میں اس پوری کمیونیٹی نے شکرقندی دھونا سیکھ لیا تھا۔ یہ اگلی نسلوں تک گیا اور کئی دہائیوں تک رہا۔ یہ ان کا کلچر تھا۔ سائنسدان کِلر وہیل، کوے اور دوسرے پرائمیٹ میں اس طرح کلچرل ترسیل کو دیکھ چکے ہیں۔

انسان میں فرق کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ دوسروں کو سکھانا بھی ہماری جبلت اور ایڈاپٹیشن ہے۔ بندر کا طریقہ کسی عمل کو نقل کرنے کا تھا۔ کوئی دوسرے کو سکھانا نہیں چاہ رہا تھا۔ جبکہ ہم نے جو سیکھا ہے، اسے آگے بڑھانا ہماری فطرت کا حصہ ہے۔ دوسرا، پچھلے علم اور جدت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا۔ کسی نے لڑھکتی گول شے دیکھی اور پہیہ بنا لیا اور پھر چھکڑے، پلی، پن چکی اور بیل گاڑی بن گئی۔ اس بندری نے پچھلے نالج کو آگے نہیں بڑھایا تھا۔ انسان بات کرتے ہیں، سیکھتے سکھاتے ہیں۔ پرانے خیالات کو بہتر کرتے ہیں۔ بصیرت دیتے اور لیتے ہیں۔ دوسروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ چمپنیزی اور دوسرے جانور نہیں۔ کرسٹوفر ہنشلووڈ نے لکھا ہے کہ چمپنیزی دوسروں کو دیمک پکڑنا دکھا سکتے ہیں لیکن وہ سوال نہیں کرتے۔ “کیا اب کچھ اور ٹرائی کیا جا سکتا ہے؟”۔

اینتھروپولوجسٹ اس کو کلچرل ratcheting کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ انسانوں کے کلچر کا امتیاز ہے۔ اور یہ نئی آبادیوں میں ابھرا۔ مفکر دوسرے مفکروں کے ساتھ ملنے اور خیالات کے تبادلے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جب کسی مسئلے کے بارے میں ملکر سوچتے ہیں تو یہ وہ غذا ہے جس سے علم کا پودا پھلتا پھولتا ہے۔

آرکیولوجسٹ کئی بار کلچر کی ترسیل کو وائرس کی ترسیل سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ وائرس کی طرح خیالات اور علم کو خاص حالات کی ضرورت ہوتی ہے (جو اس معاملے میں معاشرتی حالات ہیں)۔ جب یہ حالات ٹھیک ہوں تو گنجان آبادیوں میں اور ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے والوں میں آبادی کے افراد ایک دوسرے کو علم کی انفیکشن پھیلاتے ہیں۔ کلچر پھیلتا ہے اور ارتقا کرتا ہے۔ مفید خیالات، خیالات کی اگلی نسل پیدا کرتے ہیں۔

جینیٹسٹ مارک تھامس کے مطابق، “اہم یہ نہیں کہ آپ کتنے سمارٹ ہیں۔ اہم یہ ہے کہ آپ کتنے کنکشن بنا سکتے ہیں”۔ کنکشن کلچرل ریچٹ کا کلیدی مکینزم ہیں۔ یہ نیولیتھک انقلاب کا اہم تحفہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم نیولیتھک دور سے جو سوال کرتے آئے ہیں، ہمیں ان میں سے کئی کے ابھی بھی جواب معلوم نہیں لیکن یہ سوال اس سفر کے بیج تھے۔ انہوں نے وہ اوزار تخلیق کئے جن سے یہ ممکن ہو سکے۔ یہ ذہنی اوزار تھے۔

ابتدائی اوزار زیادہ شاندار نہیں تھے۔ یہ کیلکولس یا سائنسی طریقہ کار نہیں تھا۔ یہ سوچنے کے ہنر کی بنیادی اوزار تھے۔ یہ اتنے عرصے سے ہمارے پاس ہیں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ کتنے اہم ہیں۔ ترقی کے لئے محنت کی تقسیم اور پھر وہ پیشے درکار تھے جو کھانا اگانے یا شکار کرنے کے بجائے خیالات پر توجہ دے سکیں۔ استاد اور فلسفی، آرٹسٹ اور لکھاری۔ اور اس میں لکھنے کا فن سب سے اہم ایجاد تھی۔ کیونکہ اس سے خیالات محفوظ ہو سکتے ہیں، آسانی سے ان کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ اور ریاضی تخلیق ہو سکتی ہے جو بعد میں سائنس کی بولی بن گئی۔ قانون کا تصور ایجاد ہوا۔ سترہویں صدی میں آنے والا انقلاب فکری ہیروز کی عظیم سوچ سے زیادہ ابتدائی شہروں کی زندگی کا بائی پراڈکٹ تھا۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *