تعلیمی نصاب/قاسم یعقوب

تعلیمی نصاب خاموش سافٹ پاور ہے بالکل اُن رینگتے حشرات کی طرح جن کو طاقت ور ہوائیں قابلِ توجہ ہی نہیں سمجھتیں، مگر وہ زمینی تبدلیوں میں پوری طرح شاملبھی ہوتے ہیں اور اپنا الگ کردار بھی رکھتے ہیں۔ تعلیمی نصاب ایک خطے کے ذہنی میلانات بلکہ ڈیزائنز کو ترتیب دینے میں سب سے موثر ذریعہ ہے۔ نیو مارکسیوں نے اسے آئیڈیالوجیکل اسٹیٹ اپریٹس کا نام دیا تھا جو طاقت ور طبقے کے خیالات کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تعلیمی نصابات کو سادا سمجھنے سے ایک غلطی یہ واقع ہوتی ہے کہ ہم اسے سماج کا عکس قرار دیتے ہیں حالاں کہ یہ سماجی اقدار سے آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے، یعنی نصاب محض سماجی اقدار یا رسومات کا عکس بننے کی بجائے ذہنوں کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نصابات پر بہت لکھا گیا ہے، اسے رسمی کہیں یا غیر رسمی میں تقسیم کریں مگر یہ طے ہے کہ نصابات کے ذریعے اُن فکری ڈیزائنز کو لاگو کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے جو مخصوص خطوں میں رہنے والوں کو کچھ سوچنے سمجھنے سے محروم کر دیتے ہیں۔اس حوالے سے اس بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ ہمارے نصابوں میں سکول کالج سطح پر بچے کو اپنے ماحول سے اس قدر نابلد رکھا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کی فنگشننگ تو دور کی بات ، تعارف تک سے آگاہ نہیں ہوتا۔ پڑھا لکھا فرد سماج کسی بھی ادارے کے کردار کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ وہ اسے اس وقت پتا چلتا ہے جب اس کا ان اداروں سے ’’ واسطہ‘‘ پڑتا ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک پڑھا لکھا طالب علم اپنے قانونی حقوق سے آگاہ کیوں نہیں ہوتا۔ اسے نہیں علم کہ قانون ساز ادارے کیسے کام کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ، سینیٹ کیا ہوتا ہے؟وزارتوں کی فنگشننگ کیسے ہوتی ہے؟ اُسے یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اپنے ساتھ ظلم و زیادتی کی ایف آئی آر کیسے درج کروانی ہے؟ عدالتوں سے انصاف کیسے لینا ہے؟
چلیں اور آسان کر دیتے ہیں۔ ہمارے طالب علم کو ٹریفک قوانین تک کا علم نہیں ہوتا۔ سماجی اخلاقیات کی بنیاد ٹریفک آداب ہیں مگر اس حوالے سے ہمارے نصابات مکمل خاموش ہیں۔وجہ صرف یہ ہے کہ طاقت ور کو طاقت ور اور کمزور کو کمزور تر رکھا جائے۔
نصابات کو ماحول دوست بنانا ہے تو سماج اور فرد کے درمیان ذہنی رخنوں Gapsکو دورکیجیے۔ اپنی سوچ کو سماج کی ضرورت اور پھر سماج کی سوچ کو فرد کی ذہنیت بنانے سے گریز کیجیے ، ورنہ افراد کی بجائے مخصوص خیالات اور مزاج رکھنے والوں کی فوٹو کاپیاں ہی نکلیں گی، تخلیقی اذہان کی موت ہوتی رہے گی۔ نصابات میں اپنے سماج کی اقدار کو چیلنج کرنے کا رویہ بھی رکھیں۔ ضروری نہیں کہ سماج میں تبدیلی ہمیشہ غلط واقع ہو۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply