ہم سوئے حرم چلیں گے شہِ ابرار کیساتھ۔۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

14فروری 2019 کو علامہ خادم رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ان کے چاہنے والے دراصل حب محمدﷺمیں اکٹھے ہوتے تھے اور ختم نبوت کے مرکز کو اپنا جسم وجاں بنائے ہوئے تھے۔ اگرکوئی یہ سمجھے یہ کسی خاص نقطہ نظر، نظریے یا کلاسیفیکیشن کے تیار کردہ لوگوں نے حکومت مخالف دھرنوں میں مسلم لیگ ن اور پھر تحریک انصاف کی حکومت کو ٹف ٹائم دیا تو یہ غلط ہے کیوں کہ نبی ﷺ کی محبت میں ہر مسلمان کسی بھی فرقے یا سیاسی و مذہبی ہم آہنگی سے بالا تر ہو کر سوچتاہے اور محمد ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے جس کے بارے میں شارح قرآن نے کہا تھا کہ ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں۔“(صحیح بخاری)

یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ خادم رضوی کوئی دہشت گرد، غدار یا فساد فی الارض پھیلانے والوں میں سے نہیں ہیں بس نبی ﷺ کی محبت میں جذباتی ہیں اور دونوں عالم کے لاڈلے کے خاتم ہونے پر شک کرنے والے ہر شاکی کو بتانا چاہتے ہیں کہ نبی کی حرمت کے لئے ہم سب مسلمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ امید واثق ہے کہ اب جب علامہ خادم رضوری رہا ہو کر آئے ہیں تو وہ اپنی دینی جدوجہد کیساتھ ساتھ سیاسی و معاشرتی جدوجہد کو بھی ایک بہترین ٹیم کیساتھ میدان میں جاری رکھیں گے۔ علامہ خادم رضوی کا مشن سب سے اعلی و عرفی مشن ہے مگر مشن کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال اور ریاست کی رٹ کو اپنے ہاتھ میں لینے کو جائز و خوش آئند قرار دینا کم عقلی اور ریاست کے کاموں میں برائے راست در انداز ی ہے۔امید ہے کہ وہ کسی بھی ہڑبونگ یاملکی حالات کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھائیں گے کیوں کہ ہمارے پیار آقا محمد مصطفی ﷺ نے بھی پیار محبت آشتی، رہن سہن اور امن و امان کا درس دیا ہے۔ بقول مظہر الدین مظہر:

ہم سوئے حرم چلیں گے شہِ ابرار کیساتھ،

قافلہ ہو گا رواں قافلہ سالار کیساتھ

دوسرا موضوع عمران خان کے کیے گئے عوامی وعدوں اور ارشادات کی لمبی فہرست ہے جسے انہوں نے اپنی حکومت کیساتھ لازم وملزوم ہونے کے دعوے کیے تھے اور کہا تھا کہ(1)جب ڈالر مہنگا ہو تو سمجھنا کہ حکمران چور ہیں اور رشوت خوری کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ (2) جب ہم آئیں گے تو قوم کے لوٹے ہوئے اربوں ڈالر ز واپس لائیں گے اور سوس اور سرے محل کے اکاؤنٹس کو خالی کرا ک ملکی خزانہ بھریں گے۔ (3) قوم کے اوپر ٹیکسوں کی بھرمار نہیں کریں گے(4)مصنوعی مہنگائی ختم کریں گے۔(5) جب کپتان آئیگا تو غریب اور امیر کے لیے ایک قانون ہو گا، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع مساوی بنیادوں پر میسر ہوں گے(6) آئی ایم ایف کو چھٹی دے دی جائیگی کیوں کہ آئی ایم ایف میں جانے سے بہتر چوائس ہوگی کہ خودکشی کر لی جائے۔(7) پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنائیں گے۔(8) کسانوں کو سبسڈی دیں گے اور غریبوں کو جینے کے مختلف مواقع دیں گے۔(9) ہم لوگوں کو 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دے گے وغیرہ وغیرہ اور ایسے بیسیوں وعدے جو تحریک انصاف کی قیادت نے کیے اور آہستہ آہستہ ہر وعدے سے مفر کو ہی عافیت جانا۔

عمران خان نے 2013 سے لیکر 2018 تک کوئی دن ایسا جانے نہیں دیا جس میں یہ نہ کہا ہو کہ ہم اپنی حکومت میں شاہ خرچیوں، فضول خرچیوں اور باہر کے دوروں کی مد میں کیے جانے والے اللے تللوں پر مکمل کنٹرول کریں گے۔عمران خان نے گاڑیوں، ہیلی کپٹر اور بھینسوں کو نیلام کرنے کے کچھ نمائشی کام تو ضرور کیے مگر ان کی فروخت پراشتہاراتی خرچے اس سے زیادہ کردیے۔ سرکاری عمارتوں اور گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنا ہو، وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنا نے کاعزم ہویا سیاحت کا فروغ ہو تمام کے تمام خواب چکنا چور ہوتے نظر آتے ہیں۔ اب لگتا ہے چل سو چل ہے جیسے زرداری اور نواز شریف کیا کرتے تھے اب یہ انصاف کے نام پر بننے والی حکومت بھی عوام کو اسی پرانے روایتی سیاسی انداز میں ڈیل کرتی نظر آتی ہے۔ جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو نواز شریف کا ہر کام غلط،اور یہاں تک کہ اس کی ہر مثبت بات بھی غداری اور مودی سے یاری کے زمرے میں آئی۔ اور اب جب کہ مودی کی جیت کی دعائیں کی جائیں اوربنگلہ دیش سمیت ہر قرضہ دینے والے ملک کی طرف ردائیں پھیلائی جائیں تو اپنی باری میں سب درست ہے۔

بس درخواست ہے ان کے چاہنے والوں اورلانے والوں سے کہ ذرا غور فرمالیں کہ معیشت کدھر جارہی ہے اور ہم آج کدھر کھڑے ہیں؟ اب توہر سو آوازہ لگ رہا ہے کہ پاکستانی کرنسی دنیا کی بدترین کرنسیوں میں شامل ہو چکی ہے۔ پاکستان اپنے خطے میں بھی سب سے پیچھے ہو گیا ہے۔اگر خرید و فروخت کی جائے تو پاکستانی 207 روپے کے بدلے بھارتی 100 روپے، پاکستانی 171 روپے کے بدلے بنگلہ دیشی 100 ٹکا، پاکستانی 183 روپے کے بدلے 100 افغانی اور پاکستانی 120 روپے کے بدلے 100 نیپالی روپے ملیں گے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *