بھائی/تحریر-جمیل آصف

میرے آبائی شہر میں ایک رقبہ خالی پڑا تھا ساتھ میں سیم نالہ اور شہر کے اختتام پر موجود بھٹے کی جگہ تھی ۔یعنی   اس وقت آئیڈیل جگہ کے معیار پر اترنے سے قاصر تھی ۔ایک پارٹی نے جگہ لی پلاٹنگ کی گلیاں وغیرہ بنا دیں اور مارکیٹ کے لیے ایک بھائی کو ہائیر کیا جو مذہبی جماعت سے وابستہ تھے ۔

مارکیٹ کرنے کا طریقہ کار بڑا دل موہ لینے والا ہوتا تھا ۔محترم آتے، بڑے پیارے انداز میں جماعت میں وقت لگانے کی بابت دریافت کرتے اور پھر مدعا پر آ جاتے، اس ٹاؤن کا بڑا دلکش نقشہ کھینچتے اور بتاتے اس میں تقریباً سب پلاٹ بک چکے ہیں ۔

شہر کے تمام بھائیوں کا ذکر کرتے جو جماعت سے وابستہ ہوتے پھر کہتے آپ کا اگر پروگرام ہے تو ایک اچھے ماحول اور بہترین پڑوسیوں کے ساتھ میں ایک آدھ پلاٹ کی گنجائش نکال سکتا ہوں ۔اس طرح وہ بندے کو دام  میں لے آتے پھر دھیرے دھیرے قیمت بڑھاتے ہوئے اگلی ملاقاتیں کرتے ۔

اکثریت پلاٹ یہی کہہ کر بیچ دئیے کہ بک چکے ہیں لیکن میں گنجائش نکلوا دوں  گا ۔ ان کا ہر فرد کے ساتھ لب لباب یہی ہوتا کہ آپ بھلے مانس طبعیت کے شریف انسان ہیں اور شریف ہی لوگوں میں آپ کی رہائش ہو یہ کوئی گھاٹے کا سودا تو نہیں ہو گا ۔اور اس طرح ایک ایسی سوسائٹی فروخت کر ڈالی جس کی طرف کوئی جانے کا سوچتا بھی نہیں تھا ۔

اب سوشل میڈیا پر ایسے ہی مزاج کے افراد کو اسی طرح کی چرب زبانی کے ساتھ دیکھتا ہوں تو وہ بھائی یاد آ جاتے ہیں ۔معاشرہ میں اس حد تک مفاد پرستی بڑھ چکی ہے جس کی آڑ میں لوگوں کے مذہبی عقائد، قبیلے اور زبان تک کو کیش کروا لیا جاتا ہے ۔

julia rana solicitors london

افسوس تو ہم جیسے افراد پر ہوتا ہے جو ایسے اشخاص کی باتوں میں آ کر سرمایہ کاری کر جاتے ہیں اور پھر پچھتاتے پھرتے ہیں ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply