طنز یا طعن و تشنیع؟-اظہر حسین بھٹی

میرے نزدیک تنقید، طنز یا طعنے سے بڑی موٹیویشن اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ ایسے الفاظ جو دل کو جلا کر رکھ دیں، جو کلیجہ ساڑ دیں، ایسے جملے سننے کو مل جائیں کہ جو ساری محنت یا پورے دن کو خراب کر دیں۔ اِن سے بڑی موٹیویشن کوئی کیسے ہو سکتی ہے بھلا؟

آپ نے ایک کہانی تو ضرور سُنی ہوگی جس میں لمبرگنی ٹریکٹر کا مالک اپنے لیے فراری گاڑی خریدتا ہے اور جب وہ اُسے کچھ دن چلاتا ہے تو اُسے معلوم پڑتا ہے کہ گاڑی کا کلچ اچھے طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ چونکہ یہ امیر آدمی ہوتا ہے تو سیدھا فراری انڈسٹری کے مالک سے ملتا ہے اور اپنی شکایت کے متعلق بتاتا ہے جو کہ فراری کے مالک کو بالکل پسند نہیں آتی اور وہ لمبرگنی کے مالک سے کہتا ہے کہ تم صرف ٹریکٹر چلایا کرو، یہ لگژیری گاڑی چلانا تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔

لمبرگنی کے مالک کو یہ بات بہت چوٹ پہنچاتی ہے اور وہ خاموشی سے وہاں سے واپس لوٹ آتا ہے اور پھر ورکنگ کرنے کے بعد لمبرگنی گاڑی تیار کرتا ہے جسے آج پوری دنیا جانتی ہے۔ لمبرگنی جیسی بہترین اور شاندار گاڑی کے وجود میں آنے کی وجہ صرف ایک طنز بنا تھا۔ وگرنہ یہ گاڑی کبھی مارکیٹ میں نہ آتی۔ صرف ایک طنز نے لمبرگنی کمپنی کے مالک کو اور اونچا کر دیا، اور بڑا بنا دیا۔

دیکھا جائے تو آپ کے اندر نکھار لانے کی سب سے بڑی وجہ تنقید یا طنز ہی تو بنتا ہے۔ ورنہ آپ اپنے کام کو اِتنا سنجیدہ کیوں لینے لگتے ہیں؟ کام میں زیادہ توانائی کیوں خرچ کرنے لگ جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود کی ذات پر اٹھائے گئے سوالوں کے جواب دینے ہوتے ہیں اور یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ کسی سے کم نہیں ہیں۔ آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

آپ اس دنیا کے کسی بھی کامیاب انسان کی کہانی پڑھ لیں آپ کو وہاں اس شخص کی کامیابی بعد میں نظر آئے گی لیکن تنقید پہلے ملے گی۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ جس شخص نے جہاز بنانے کا سوچا تھا اور پہلی دفعہ جب لوگوں سے اس نے اپنے اس منفرد خیال کا اظہار کیا ہوگا تو کیا لوگوں نے تالیاں بجائی ہونگی۔۔ یقینا نہیں۔۔ بلکہ مذاق اڑایا تھا۔۔ اور جی بھر کے اس کی سوچ پہ ہنسے تھے۔۔ پاگل کہنے لگے تھے اسے۔

ایسے ہی عجیب ایجادات والے تمام لوگوں نے سب سے پہلے تنقید کا سامنا کیا اور پھر وہ کامیاب ہوئے۔۔ پتہ ہے کیوں؟

کیوں کہ یہ صرف وہی جانتے تھے کہ جو خواب وہ دیکھ رہے ہیں وہ اسے سچ ثابت کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ اور وقت نے دکھایا بھی جب ہوائی جہاز کرسیوں، ڈھیروں آدمیوں اور ٹنوں من وزنی لوہے کے ساتھ ہوا میں اڑا۔ ایسے ہی پھر ریڈیو، ٹی وی، موبائل فون اور کمپیوٹر جیسی عظیم ایجادات ہوئیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

یاد رکھیں، آپ تنقید کا دریا عبور کر لیں۔ دوسرے کنارے کامیابی آپ کو باہیں کھولے ملے گی۔ تنقید سے بچیں اور مستقل مزاجی نہ چھوڑیں۔ کامیاب ہونے کی گارنٹی میری طرف سے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply