جدت اور روایت کا توازن کیسے قائم ہو ؟-سائرہ رباب

ہم جدت اور روایت کے درمیان توازن کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ یہ سوال صرف ثقافت کا نہیں، بلکہ شناخت، خودمختاری، اور ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے postcolonial ملکوں میں یہ اور بھی اہم ہے، کیونکہ نوآبادیاتی طاقتوں نے نہ صرف ہماری زمینوں پر قبضہ کیا بلکہ ہمارے علم، شناخت ، طرزِ زندگی اور روایتی حکمت کو بھی رد کر دیا۔
برطانوی استعمار نے ہمارے مقامی علوم جیسے یونانی و آیوروید طب، دیسی زراعت، لوک حکمت، صوفیانہ روایت، اور تعلیم کو غیر معیاری کہہ کر ان کی جگہ مغربی نظام رائج کیا۔ اس سے مقامی معمار، کاریگر، کسان، اور شعرا معاشرے کے حاشیے پر چلے گئے۔ یہ سب علم، جو صدیوں کے تجربے پر مبنی تھا، آہستہ آہستہ مٹنے لگا۔
زراعت
روایتی فصلیں جیسے باجرہ، جوار، سرسوں اور کنگنی ہماری مٹی اور موسم سے ہم آہنگ تھیں۔ یہ فصلیں کم پانی میں اگتی تھیں اور گرمی یا خشک سالی برداشت کر سکتی تھیں۔ دیسی بیج قدرتی طور پر کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحمت رکھتے تھے اور صحت بخش بھی تھے۔ لیکن استعمار نے ان کی جگہ ہائیبرڈ بیج، کیمیکل کھادیں اور مونو کراپنگ کو فروغ دیا۔
اس کے نتیجے میں زمین بنجر ہونے لگی، زیر زمین پانی کم ہوتا گیا، اور کسان مہنگے بیج، ادویات اور قرضوں میں جکڑ گئے۔ وہ خود کفیل نہ رہے بلکہ بڑی کمپنیوں کے محتاج ہو گئے۔ دیسی بیج ختم ہو گئے اور دیہاتی زندگی غیر محفوظ ہو گئی۔
تعمیرات: قدرتی ٹھنڈک اور سماجی ہم آہنگی کا خاتمہ
برصغیر کی روایتی تعمیرات ۔۔۔ مٹی، لکڑی، بانس، گھاس، اور سرکنڈے پر مبنی ۔۔۔۔ نہ صرف ماحول دوست تھیں بلکہ گرمی میں ٹھنڈی اور سردی میں گرم ہوتی تھیں۔ ان گھروں میں جھروکے، صحن، برآمدے، اور کھڑکیاں صرف ڈیزائن نہیں بلکہ میل جول، گفتگو، اور تہواروں کا مرکز تھیں۔
استعمار نے concrete، سریا اور بند ڈبہ نما عمارات متعارف کروائیں، جو برصغیر کے موسم کے لیے غیر موزوں تھیں۔ ان میں گرمی میں A/C اور سردی میں ہیٹنگ کی ضرورت پڑی، جس سے بجلی اور ایندھن کا ضیاع بڑھا۔ سیمنٹ اور سریا کے کارخانے ماحول میں کاربن بڑھاتے ہیں، جو عالمی حدت کا بڑا سبب ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی معمار اور لوک فنکار بے روزگار ہو گئے۔ فنون، جھروکے، چبوترے، اور دیسی طرزِ زندگی ختم ہونے لگی۔ یہ صرف عمارتیں نہیں بدلیں، بلکہ ہماری یادداشت، اقدار اور شناخت پر بھی ضرب پڑی۔
لباس: فیشن، موسم اور ماحول سے بے ربطی
برصغیر میں کھدر، سوتی کپڑا، پشمینہ، اور اجرک جیسے لباس ہمارے موسم کے لیے موزوں تھے۔ یہ نہ صرف گرمی میں ٹھنڈک دیتے تھے بلکہ خوبصورت بھی تھے۔ مردوں کی شلوار قمیض ، تہبند اور خواتین کے لباس اور دوپٹے موسم کی مناسبت سے دھوپ، دھول اور گرمی سے تحفظ دیتے تھے۔
استعمار کے دور میں مانچسٹر کا کپڑا در آمد ہوا، اور آج synthetic fabrics جیسے جینز، پولی ایسٹر، نائلون عام ہو گئے ہیں۔ یہ کپڑے گرمی میں جسم کو سانس لینے نہیں دیتے، خارش، الرجی اور دیگر مسائل پیدا کرتے ہیں، اور نہ ہی یہ ماحول دوست ہیں۔ یہ کپڑے بایو ڈیگریڈیبل نہیں اور دھونے پر microplastics پیدا کرتے ہیں جو آبی زندگی کو نقصان دیتے ہیں۔
تعلیم: علم کا نوآبادیاتی تصور
نوآبادیاتی تعلیم نے صرف انگریزی اور مغربی سائنس کو “علم” قرار دیا۔ ہماری صوفی شاعری، لوک کہانیاں، دیسی حکمت، اور زبانی روایات کو غیر سائنسی کہہ کر نصاب سے نکال دیا گیا۔ بلھے شاہ، شاہ لطیف، بابا فرید، وارث شاہ، اور سچل سرمست جیسے شعرا جن کی شاعری میں فطرت، مزاحمت، اور روحانیت تھی، نظر انداز کر دیے گئے۔
صوفی روایت محض مذہب نہیں بلکہ سماجی انصاف، مساوات، اور فکری آزادی کا پیغام تھی۔ اگر ہم دوبارہ ان تعلیمات کو نصاب، ادب، اور معاشرت کا حصہ بنائیں تو یہی ہماری فکری آزادی اور postcolonial مزاحمت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک دوبارہ مقامی علم کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ بھارت نے AYUSH وزارت بنا کر آیوروید، سدھا اور یونانی طب کو زندہ کیا۔ یوگا کو عالمی سطح پر فروغ دیا۔ کینیا، ایتھوپیا اور یوگنڈا نے مقامی بیج، permaculture، اور indigenous healing کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا۔ لاطینی امریکہ میں Buen Vivir (خوبصورت جینا) جیسا فلسفہ مقامی دانش اور فطرت پر مبنی ہے۔
پاکستان میں ممکن اقدامات
دیسی بیج، فصلیں، اور قدرتی کھادیں دوبارہ استعمال کی جائیں
یونانی و آیوروید طب، دیسی غذا، اور صوفیانہ تعلیمات کو نصاب میں شامل کیا جائے
مقامی زبان، لوک ادب، اور روایتی قصے کہانیوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے
کھدر، ہینڈلوم، اور بلوچی و سندھی کڑھائی کو فیشن اور معیشت میں جگہ دی جائے
گرین بلڈنگ اور سادہ تعمیرات کو فروغ دیا جائے
ثقافتی مزاحمت: روایت اور جدیدیت کا ملاپ
جنوبی بھارت میں “کانتارا” جیسی فلموں نے دیسی رسوم، لوک علم اور عقیدے کو جدید فلمی تکنیک کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی جدت پیش کی۔انڈیا میں اے آر رحمان نے روایتی اور جدید موسیقی کو ملا کر نیی تاریخ رقم کی ، پاکستان میں Coke Studio نے صوفی کلام کو جدید انداز میں پیش کیا، جس نے نئی نسل کو روحانی جڑوں سے جوڑا۔ آج کئی ڈیزائنرز کھدر، اجرک اور مقامی کڑھائی کو جدید فیشن میں شامل کر رہے ہیں۔ یہ سب صرف فیشن نہیں بلکہ ثقافتی مزاحمت ہے۔
یہ سب محض choices نہیں، بلکہ شناخت کی بازیابی اور فکری استعمار کے خلاف مزاحمت ہے۔ جب ہم دیسی لباس پہنتے ہیں، مقامی زبان میں لکھتے یا سیکھتے ہیں، دیسی طریقوں سے زمین کاشت کرتے ہیں، یا اپنے صوفی ورثے سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں تو ہم محض روایت نہیں نبھا رہے، بلکہ استعماری نظام علم اور طاقت کے خلاف ایک متبادل دنیا کا اعلان کر رہے ہیں۔
اصل جدت وہ ہے جو مقامی مسائل کا مقامی حل دے، اور اصل روایت وہ ہے جو صرف ماضی پرستی نہیں بلکہ زندہ تجربہ ہو۔ اگر ہم اس توازن کو شعوری طور پر بحال کریں، تو ہم نہ صرف اپنی شناخت اور خودداری کو بچا سکتے ہیں بلکہ ایک پائیدار، باوقار اور آزاد مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

جدت،روایت،توازن،

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply