بابری مسجد سے بلدیہ ٹاؤن تک۔۔ذیشان نور خلجی

یہ بات تو طے تھی کہ فیصلہ مجرموں کے حق میں آئے گا۔ جب سالم بابری مسجد ہی اٹھا کر ہندوؤں کی گود میں رکھ دی گئی تو آپ نے یہ سوچا بھی کیسے کہ دنگا و فساد برپا کرنے والے، مسجد کو مسمار کرنے والے بلوائیوں کو کسی سزا و جزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہمیں یہ مان لینا چاہئیے کہ بھارت صرف نام کی ہی سیکولر ریاست ہے۔ ورنہ وہ ایک کٹر اور متشدد ہندو ریاست تھی، ہے اور رہے گی۔ یہ ہندو بنئیے بھلا کیوں کر اپنے بھائیوں کو ایک فرقہ وارانہ کیس میں سزا دینے لگے، کہ جسے ریاست کی پشت پناہی بھی حاصل ہو اور مقابل بھی ایک اقلیتی گروہ یعنی مسلمان ہوں۔
دھیرج رکھیے، زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ پہلے اپنا حال تو ملاحظہ کیجیے، پھر کسی دوسرے کے گھر بھی جھانک لیں گے۔ وہ تو ہندوستان ہے، بھانت بھانت کے خداؤں کا ملک۔ ادھر مسلمانوں کے ملک پاکستان کا حال تو پہلے دیکھیے۔ یہاں جو عدالت انصاف کے باہر ترازو لٹکایا گیا ہے کیا وہ بھی درست وزن کر رہا ہے کہ نہیں؟
ساہیوال میں دن دیہاڑے ایک ریاستی محکمے کی طرف سے نہتے اور بے گناہ خاندان کو بیچ سڑک کے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور پھر قاتل اعتراف جرم بھی کر لیتے ہیں۔ بعد میں عدالتی فیصلہ آتا ہے کہ عدم شواہد کی بنا پر ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
سابق ممبر صوبائی اسمبلی مجید اچکزئی کی لینڈ کروزر ڈیوٹی پر موجود ایک ٹریفک سارجنٹ کو سر عام کچل دیتی ہے۔ واقعے کی باقاعدہ تصاویر اور ویڈیو موجود ہے لیکن یہاں بھی ثبوت ناکافی سمجھے جاتے ہیں اور فیصلہ غریب ورثاء کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔
چلیے، یہ تو عام سے کیسز ہیں اور یہاں روزمرہ کا یہی چال چلن ہے۔ لیکن انتہاء درجے کی سفاکیت لئے ہوئے سانحۂ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کو بھی ایسے نمٹا دیا گیا جیسے شب برات کے موقع پر کسی ریڑھی والے کو آتش بازی کے مقدمہ میں سزا سنائی گئی ہو۔
ایک ایسی فیکٹری جس میں اڑھائی سو سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا گیا اور اس سانحہ کی وجہ سے اڑھائی ہزار سے زائد افراد بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے۔
لیکن جب اس کا فیصلہ آیا تو اڑھائی بندوں کو بھی قابل ذکر سزا نہ ہو سکی۔
پہلے تو ہم آٹھ سال انتظار کرتے رہے کہ جناب انصاف صاحب آئیں اور دکھی متاثرین کی نیا پار لگے۔ اور خدا خدا کر کے جب آپ جناب تشریف لے ہی آئے تو ہوا کیا؟ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا۔
گنتی کے دو بندوں کو سزائے موت سنائی گئی جب کہ چار دوسرے افراد کو معاونت کے جرم میں سزا ہوئی، باقی سب بری کر دئیے گئے۔
وہ تو بابری مسجد تھی۔ کوئی تیس سال پرانا کیس تھا۔ پھر ایک بلوہ تھا۔ اور بلوے میں مجرموں کو تلاشنا ایک مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ ریاست اور مجرموں کا گٹھ جوڑ بھی تھا۔ لیکن یہاں کیا ہوا؟ جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ چار سو گواہوں کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ لیکن حاصل وصول کیا ہوا؟ گلاس بھی نہ ٹوٹا اور بارہ آنے بھی دھر لئے گئے۔
کیا سانحۂ بلدیہ ٹاؤن ایک ایسا معمولی واقعہ تھا جس میں صرف چار، چھ افراد ہی ملوث تھے؟ کیا سڑک چھاپ، پستول بدمعاش قسم کے غنڈوں میں اتنی ہمت ہوتی ہے کہ وہ منہ بھر کے پہلے پچیس کروڑ بھتہ مانگ لیں اور پھر ناکامی پر اڑھائی سو بندہ زندہ جلا دیں؟ یہاں تو مشہور زمانہ لیاری ڈان عذیر بلوچ بھی کوئی جرم کرتا ہے تو پہلے سیاسی آشیر باد کا بندوبست کرتا ہے۔ بلکہ انہی کی ایما پر کوئی جرم سرانجام دیتا ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہماری عدالتیں انصاف نہیں کر رہیں اور نہ ہی میں ایسا کہہ کر توہین کا مرتکب ہونا چاہتا ہوں۔ میرا مدعا لیکن یہ ہے کہ معزز عدالتوں کے فیصلوں میں کچھ ایسا سقم ضرور موجود ہے جو عامہ کے لئے اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم ابھی تک 1860ء کے انگریز دور کے نظام انصاف کو لے کر گھسیٹ رہے ہیں اور ساتھ خود بھی ذلیل ہو رہے ہیں۔
صاحبو ! آپس کی بات ہے اس کار خیر میں صرف ہم ہی نہیں، بلکہ ہمارا ہمسائیہ ملک بھارت بھی برابر کا شریک ہے۔ لیکن اس کی تو وہ جانے، مگر ہماری عدلیہ کیا ابھی اتنی بالغ نہیں ہو سکی کہ خود سے قانون کو مرتب کر سکے؟ کیا ہمارے قانون دان موجودہ، درپیش مسائل کا خود سے احاطہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یقیناً ان میں قابلیت اور صلاحیت بھی ہے۔ تو پھر انہیں چاہئیے کہ جلد سے جلد فرسودہ اور دو سو سال پرانے گھسے پٹے نظام کی بجائے اپنا نظام ترتیب دیں جس سے کہ معیاری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے کیوں کہ قرآئن بتاتے ہیں کہ انگریزی انصاف میں اب اتنی طاقت نہیں رہی کہ ہمارے جملہ مسائل کا احاطہ کر سکے۔ اور اگر یہ کام ان کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے تو پھر کم از کم اسے اس حد تک تبدیل کر دیا جائے کہ حالات کے موافق ہو۔ کیوں کہ معیاری انصاف کی فراہمی عدلیہ کی پہلی اور آخری ذمہ داری ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply