میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں جو عظیم دستوفسکی ، ٹالسٹائی ، گوگول کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم انھیں کوشش کے باوجود پڑھ سکے ہیں نہ سمجھ سکے۔
اگرو ہ واقعی بڑے ہوتے تو خود کو ہم سے پڑھواتے۔
مجھے ایک واقعہ یا دآتا ہے۔
ایک بار یہی بات ، ایک چیچن شاعر نے ابوطالب کے سامنے کہی۔ ابوطالب کو غصہ آتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک عوامی شاعر ہے، اور لوگ ،اس کی کہی ہوئی ایک ایک بات کا گہرا اثر لیتے ہیں۔
ابوطالب نے اسے کہا کہ غلطی تمھارے باپ سے ہوئی۔ اسے چاہیے تھا کہ تم سے پہلے پوچھ لیتا کہ تم اس کے نطفے کے ذریعے دنیا میں آنا چاہتے ہو یا کسی اور کے نطفے سے۔
ٹالسٹائی کو یہ چاہیے کہ وہ خو دکو تم سے پڑھوائے۔ وہ تمھاری خاطر دنیا میں واپس آئے، تمھاری ضیافت کرے، تمھیں شوربا اور شراب پیش کرے، پھر درخواست کرے کہ لو میرے عزیز، اب میری زبانی ’’امن اور جنگ‘‘ کا وہ حصہ سنو ،جس میں ، میں نے لکھا ہے کہ اگر دنیا میں ہر شخص محض اپنے عقائد کے مطابق جنگ کرے تو دنیا میں کوئی جنگ نہ ہو۔
تم اگر یہ سنتے ہوئے ہونقوں کی طرح ٹالسٹائی کی طرف دیکھتے تووہ تمھیں پیار سے قریب بلاتا، تمھیں خشک میووں کی طشتری پیش کرتا ،اور کہتا کہ پہلے انجیر کھالو، پھر اخروٹ ، بعد میں بادام کا شربت پیو ،اور سنو کہ جنگوں میں شریک سپاہ کے ہاتھ میں تلواریں اور بندوقیں، دوسروں کے عقائد …اور مفادات کے تحفظ کی خاطر ہوتی ہیں۔
تم اگر پھر بھی نہ سمجھ پاتے تو تمھیں ایک پہر کے لیے سلادیتے ، پھر پوچھتے کہ اب حضور کا مزاج گرامی ، ہست وبود کی کچھ سچائیوں کو سمجھنے کے لیے آمادہ ہے؟ اگر تم ہاں میں جواب دیتے تو پھر وہ ناول کا اگلاحصہ پڑھتے۔جب تم واپس جانے لگتے تو تمھیں گھر کے دروازے تک چھوڑنے آتے، تمھیں تحائف کے ساتھ رخصت کرتے اور تم اسے اگلی ملاقات کا وقت طلب کرتے۔
اس وقت ہم ایک لیزگین میں ،ایک ادبی مجلس کے سلسلے میں موجود تھے۔ میں نے ابوطالب کومشکل سے روکا ۔ لیکن ابوطالب نے ،اس چیچن شاعر کو کھینچ کر اپنے قریب کر لیا ۔ا س کے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ تمھارے سینے میں وہ جگر کہاں ہے جو تم سے کہلواتا ہے کہ عظیم ٹالسٹائی کو چاہیے کہ وہ خو د کو تم سے پڑھوائے۔
یہ تو ایسے ہی ہے کہ تم کہو کہ تم سامنے والی پہاڑ کی چوٹی کی بلندی اور عظمت کو تب مانو گے،جب وہ چل کر تمھارے قدموں میں آگرے۔ تف ہے تم پر۔ اب وہ چیچن شاعر بھی غصے میں آگیا اور ابوطالب کو برابھلا کہنے لگا ۔ میں ابوطالب کو کھینچ کر ایک طرف لے گیا۔
ابو طالب نے سخت درشت اور اہانت آمیز انداز میں ایک درست بات کہی۔آدمی کو زیبا نہیں کہ وہ اپنی حد کو دنیا کی حدکہے۔آدمی کو ہر اس شے کے بارے میں خاموش رہنا چاہیے ، جو آدمی کی حد ، ذوق اور استطاعت سے باہر ہو۔
مجھے اوروں کا نہیں پتا، میرے لیے تو ایسی چیزوں کا شمار بھی مشکل ہے جو میری حدسے باہر ہیں۔میں انھیں دیکھتا ہوں، کچھ کچھ جاننے اور سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں، مگر ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہوں۔ سرسری اورسطحی طورپر دیکھی اور سمجھی ہوئی چیزوں پر گفتگو ، بالآخر فساد کا موجب ہوا کرتی ہے۔
کئی سالوں بعد اس واقعےکو یاد کرتاہوں تو سوچتا ہوں کہ وہ چیچن شاعر سادہ لوح اور ضدی تھا،وہ بنیادی سچائیوں کو سرسری طور پر دیکھنے کا عادی تھا، مگر کیا اس کا احساس محض اس کی ضد اور سادہ لوحی کا پیداکردہ تھا کہ ٹالسٹائی کو خود کو پڑھواناچاہیے؟
اس لمحے تو میں دل سے ابوطالب کے ساتھ تھا، مگر اب ، اس وقت ،اپنے کمرے میں بیٹھا، یہ داستان لکھتے ہوئے، میں محسوس کرتا ہوں کہ ابوطالب کو غصہ ٹالسٹائی کے فن سے زیادہ ،ٹالسٹائی کی عظمت کو معرض ِ سوال میں لانے پر آیا تھا۔ سچ یہ ہے کہ چیچن شاعر اپنے احساس میں غلط نہیں، صرف ناپختہ تھا،اور اس کے اظہار میں ان گھڑ۔ وہ کہیں دل میں گہرائیوں میں، گو سرسری ہی سہی، یہ حقیقت محسوس کرتا تھا کہ فن میں ایک بے مثل طاقت ہو اکرتی ہے، اسے سحر، طلسم ، جادو ، افسوں،نیرنگ ، اعجا ز یا کوئی اور نام دے دیجیے۔
وہ فن کے اس اعجاز کا تو قائل تھا کہ فن آدمی کے وجود میں کہیں ایک رخنہ تلاش کرتا ہے،اور اس میں سے داخل ہوکر، پورے وجود کو محویت آمیزوجد میں لے آتا ہے، آدمی بھول جاتا ہے کہ وہ کون ہے، اسے کیا کیا کہنہ ، مزمن اور بالکل تازہ اور نادر عارضے لاحق ہیں۔ وہ کن کن زخموں پر پنبہ اور پھاہا رکھتا آیا ہے۔وہ اپنی انا کی سطح پر معدوم اور ہست کی لامحدود سطح ، احساسات کی ایک بالکل نئی نومولود تازگی کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
ہم سب اپنے درون میں ،اس طلسم و اعجاز کے متلاشی ہوا کرتے ہیں۔ ہم اپنی ساری کمزوریوں ،خرابیوں ، نیکیوں ، بدیوں کے باوجود، یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہم خود کو اس طلسم واعجاز کے سپرد کرنے کی بنیادی انسانی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ چیچن شاعر بس اس حوالے سے ناپختہ تھا کہ آدمی کی اپنی بنیادی اہلیتوں، یہاں تک کہ اس کے اپنے بنیادی استحقاقات کو مجروح کرنے کا سامان بھی ،خود آدمی ہی میں ہر وقت موجود ہوا کرتا ہے۔
آدمی کا ایک عدد عدو، ہر لمحہ اس کے ساتھ چمٹا ر ہتا ہے، اور کئی بار اس کے ایک گہرے دیرینہ رفیق کی صورت۔ وہ چیچن شاعر یہ تو جانتا تھا کہ فن کا طلسم مضمر کہاں ہوتا ہے( ٹالسٹائی کے جنگ اور امن میں )،مگر یہ بات بھول گیا کہ اس کا ظہورکیوں کر اور کہاں ہوتا ہے؟ فن کا طلسم ، کاغذ، کینوس، پتھر، آواز میں مضمر ہوتا ہے، اسے نمودو ظہور کے لیے ایک الگ’ مقام ‘ چاہیے۔ یہ مقام ،آدمی کے دل میں کہیں موجود ہے۔
یوں سمجھیے فن کے اعجاز کا پھول ، آدمی کے دل کے ایک خاص گوشے میں کھلتا ہے۔ آدمی اگر فن کو اس مقام کے راستے کی خبر نہ دے، اپنے وجود میں ایک ایسا رخنہ ، فن کے رخ پر نہ کھولے ، جہاں سے ، فن داخل ہوسکے تو فن اپنے صفحے میں مضمر رہتا ہے، نمود و ظہور سے قاصر رہتا ہے۔ ایک ہی فن پارہ کروڑوں دلوں میں، نمود وظہور کیا کرتا ہے۔ ہر دل میں اس کے ظہور کا ڈھنگ جدا ہوتا ہے۔
کسی میں بس اس کی کوئی ایک تجلی، کوئی ایک شعاع، کوئی ایک جھلک اور کسی میں ، اس کی شعاؤ ں میں کہیں مخفی سایوں کی ایک مبہم قطار ظہور کیا کرتی ہے۔ کیا کوئی ایسا دل ہے،جس میں فن کا اعجاز پورے کا پورا ظاہر ہو ؟ یہ نہیں کہ اس کی تاب لانا مشکل ہے، مشکل یہ ہے کہ کوئی دل ، فن کے نیرنگ کو ظاہر ہونے کے لیے جگہ اور اطراف کتنی مہیا کرتا ہے۔ فن کی تمام صداؤں کو اپنی ہمہ سمت گونج پیدا کرنے کے لیے کوئی دل ، کتنا گہرا ، مطلق سکوت مہیا کرتا ہے کہ نہیں؟
چیچن شاعر شاید چاہتا تھا کہ ٹالسٹائی کا فن ،اس کے دل میں داخل ہوکر خود ہی یہ راستہ تلاش کرے؛ خود ہی اپنے سحر کے سب اسرار ،اس پر کھول دے ، اسے ایک طرح سے نوازدے ، اس کی طلب و استعداد کو دیکھے بغیر ۔وہ ایک فن کار سے ،خدائی صفات منسوب کررہا تھا۔یہ ناسمجھی اور ضد کے سواکچھ نہیں۔
اگر وہ مجھے دوبارہ کہیں ملے تو میں اس سے کہوں کہ تم نے کب کب ،کوہستانی پھولوں ،پرندوں ،خزاں میں سرخ ، نارنجی ، گہر ے بھورے پتوں ، آسما ن میں قوسِ قزح کے جمال کو محسوس کیا ہے؟ کیا ہر بار یا کبھی کبھی ؟ فطرت میں حسن کی اتنی فراوانی کے باوجود، ہمارے دل اتنے پژمردہ ، اکتائے ہوئے اور سفاک کیوں ہیں؟
آخر کیا وجہ ہے کہ کبھی رات کی گہری خاموشی میں ،کسی جھینگر کی چرچراہٹ ہمیں جہانِ طلسم میں پہنچادیتی ہے اورعین بہار میں ، جب ہر طرف پھول ہی پھول ہوتے ہیں، کوئل کی کوک ہمارے دلوں پر سنگ ریزے کی مانند پڑتی اور ہمارے کھرنڈ نوچتی محسوس ہوتی ہے؟ کبھی کسی اخبار کےبوسیدہ ٹکڑے پر درج کوئی سطر ہماری مردنی کو ختم کردیتی ہے اور ہومر ، رومی ،شیکسپیئر، ٹالسٹائی کی کتابوں کے پر شکوہ ایڈیشن ہمارے سوختہ وافسردہ دلوں میں ایک چنگاری تک پیدا نہیں کرتے۔ وہ چیچن شاعر ا ن دوباتوں کا فرق اور سبب نہیں جانتا تھا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں