ادب محض تخیل کا کھیل نہیں، بلکہ وہ شعور و لاشعور کے مابین پل ہے، جہاں انسانی تجربات کی تلخ ترین پرتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف جسم کو نہیں، روح، شناخت اور روایت کو مجروح کرتے ہیں۔ یہی وہ ’صدمہ‘ ہے جو نہ صرف فرد کے وجود میں دراڑ ڈال دیتا ہے بلکہ پورے سماج کی تہذیبی بناوٹ کو بھی ہلا دیتا ہے۔ 2025 میں شائع ہونے والے “بنیاد” جریدے کے گراں قدر اداریہ میں “نظریۂ صدمہ”، “صدماتی ادب” اور “نوآبادیاتی صدمے” پر ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے جو علمی و تنقیدی بحث کی ہے، وہ اردو تنقید کے دامن میں ایک فکری اضافہ ہے۔
صدمہ (Trauma) صرف ذہنی دباؤ یا وقتی نفسیاتی خلل نہیں، بلکہ ایک دیرپا، ناقابلِ اظہار، مگر کائناتی سچائی ہے، جو نہ صرف لاشعور میں چھپتا ہے بلکہ زبان و بیان سے کتراتا ہے۔ ادبی سطح پر صدمہ وہ زخم ہے جس کا دہن ہمیشہ کھلا رہتا ہے، جو مکمل اظہار سے انکاری اور مکمل خاموشی سے بیزار ہوتا ہے۔ جیسا کہ اداریہ میں کہا گیا: “صدمہ وہ زخم ہے جو دکھائی نہیں دیتا، مگر اندر چیخوں کی طرح گونجتا رہتا ہے۔”
ناصر عباس نیر نے سگمنڈ فرائیڈ کو صدمے کے نظریہ کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے، جنہوں نے “اختلالِ ذہنی”، “ہیسٹیریا”، اور “لاشعور” کے زخم کو علامتی خوابوں، تکرار اور فکشن کے ذریعے ظاہر ہوتے ہوئے دیکھا۔ فرائیڈ کے مطابق صدمہ “اندونِ خانہ ایک ناتمام چیخ” ہے، جس کا اظہار خواب، تکرار یا لاشعوری ردِعمل میں ہوتا ہے۔ ژنگ نے اس زاویے کو روحانی، اساطیری اور اجتماعی لاشعور سے جوڑ کر زیادہ جامع تناظر دیا، جبکہ کیتھی کروتھ نے صدمے کو ایک ’تشنۂ تکمیل تجربہ‘ (unfinished business) قرار دیا جو ادب میں بالواسطہ اور غیر متعین علامتوں کے ذریعے اپنا وجود ظاہر کرتا ہے۔
اداریہ کا فکری نکتہ یہ ہے کہ فکشن صدمے کا سب سے قریب ترین مگر بے وفا ترجمان ہے۔ کیونکہ صدمہ ایک ایسا مظہر ہے جو براہِ راست بیان کی اہلیت کو چیلنج کرتا ہے، چنانچہ ادیب اس کا اظہار استعارات، علامتوں، ٹکڑوں اور تکراری منظرناموں میں کرتا ہے۔
“فکشن صدمے کا بیان ضرور ہے، مگر اصل واقعے سے ہمیشہ بے وفائی کرتا ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ صدمے کا ادب کبھی مکمل نہیں ہوتا، بلکہ ہر بار ایک نئی چیخ، ایک نئی لہر، اور ایک نئی فکری توجیہ کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
اس مضمون کا سب سے بلیغ پہلو نوآبادیاتی صدمے کی تفہیم ہے، جس میں نہ صرف جسمانی غلامی بلکہ ثقافتی، لسانی، تاریخی اور نفسیاتی تسلط کو بھی صدمے کی شکل قرار دیا گیا ہے۔ نوآبادیاتی طاقتوں نے مقامی اقوام کی زبانیں، روایات، اور شناختیں مسخ کیں، اور انھیں ایک ایسے وجودی بحران میں دھکیل دیا جو ’non-being‘ یعنی “غیر وجود” میں بدل گیا۔ فرانتز فینون کی “Black Skin, White Masks” اور “Wretched of the Earth” جیسی کتابوں کو ماخذ بناتے ہوئے ناصر عباس بتاتے ہیں کہ کس طرح استعماری ماحول میں ایک فرد اپنی ذات سے بیگانہ، اپنے وطن سے جدا، اور اپنی زبان سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔
اردو ادب میں صدمہ سب سے نمایاں طور پر مرثیہ نگاری، منٹو کے افسانے، اور تقسیم ہند کے بیانیے میں ظاہر ہوتا ہے۔ سکینہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو وغیرہ اجتماعی صدمے کے آئینے ہیں۔ اردو کا یہ ادبی سرمایہ، صدمے کو محض بیان نہیں کرتا بلکہ اسے نسل در نسل یادداشت (post-memory) کے طور پر محفوظ بھی رکھتا ہے۔
ادبی متون صدمے کے زخم کو مندمل نہیں کرتے بلکہ اسے محفوظ رکھتے ہیں؛ ایک ایسی ثقافتی چیخ کی صورت جو تاریخ کی تہوں میں دفن ہونے کے بجائے متن میں زندہ رہتی ہے۔
“صدمے کا ہر متن ایک غیر مکمل لیکن ضروری بیانیہ ہے، جو قوموں، نسلوں اور شناختوں کو جوڑتا ہے- ”
اداریے کے آخر پہ یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدمہ ایک ایسا کرب ہے جو صرف نفسیات کا مسئلہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور سیاست کا بھی سوال ہے۔ صدماتی ادب ہمیں نہ صرف زخموں کی جمالیات سے روشناس کراتا ہے بلکہ ہمیں ان غیبی لہجوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو ہمیشہ بولتے رہے، مگر ہم نے انھیں سنا نہیں۔
صدمے کا ادب یقیناً ایک نیا حسیاتی افق فراہم کرتا ہے، جو ماضی کے سائے اور مستقبل کی پیش گوئی، دونوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ یہی وہ ادب ہے جو ہمیں آئینے میں ہمارا اصل چہرہ دکھاتا ہے، مجروح، چیختا ہوا، مگر زندہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس اداریہ کے ذریعے ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اردو تنقید میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے، جو بلاشبہ قابلِ مطالعہ، قابلِ فہم اور قابلِ فکر ہے-
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں