عزاداری: خلوص سے تجارت تک/ابوجون رضا

ایک زمانہ تھا جب عزاداری خالص خلوص اور سادگی کی علامت ہوا کرتی تھی۔ کالے کپڑے خریدنے کا کوئی رواج نہ تھا۔ محرم سے پہلے لوگ اپنے سفید کپڑوں کو رنگوا کر سیاہ کروالیا کرتے تھے، اور انہی میں مجالس و ماتم میں شریک ہوتے تھے۔ محرم کا چاند نظر آتے ہی گھروں میں سلائی مشینیں رک جاتیں، کڑھائیاں سمیٹ لی جاتیں، اور ایک سکون طاری ہو جاتا۔ جیسے کسی مقدس مہینے کا احترام دلوں پر نقش ہو گیا ہو۔

نوحہ خوان اکثر سفید شلوار قمیض میں، سادہ مگر پُراثر انداز میں نوحہ خوانی کرتے۔ ان کی یہ سادگی عزاداروں کے مجمع میں انہیں ممتاز بناتی، مگر یہ امتیاز عجز سے بھرا ہوتا۔

کسی نوحہ خواں  یا ذاکر کو اجرت وغیرہ دینے کا تصور نہ تھا۔ مجالس کے اختتام پر اگر کہیں کھانے کا اہتمام ہوتا تو وہ صاحبِ حیثیت افراد کا مخصوص عمل ہوتا۔ ایک طرح سے قورمہ یا بریانی کی دعوت عزاداری کا حصہ نہیں، ایک نجی میزبانی ہوا کرتی تھی۔

مجھے یاد ہے، میں اپنے والد کے ساتھ نشتر پارک کی مجالس میں جایا کرتا۔ وہاں مرحوم علامہ طالب جوہری خطاب کرتے تھے۔ ان کی علمی گفتگو میری سمجھ سے باہر ہوتی، مگر مصائبِ کربلا دل میں اتر جاتے۔ میں انہیں یاد کر لیتا، اور جب گھر آتا تو دادی مرحومہ مجھ سے پوچھتیں:

“بیٹا، آج مجلس میں کیا سنا؟”

میں مصائب سنا دیتا، اور وہ زاروقطار رونے لگتیں۔

یہ تربیت کا ایک طریقہ تھا۔ بچہ جان لے کہ وہ سیر و تفریح کے لیے نہیں بلکہ ایک مقدس محفل میں کچھ سیکھنے گیا ہے۔ اُسے سکھایا جاتا کہ محفل کا تقدس کیا ہوتا ہے، اور سننے کے آداب کیا ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ گھر پہنچ کر اسے جواب دینا ہے:

“آج کیا سیکھا؟”

میرے والد کی لائبریری میں کتابوں کے انبار تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں بھی کتابوں کا شوقین بنوں، اور خدا کا شکر ہے کہ اُس نے میرے دل میں علم کی طلب ڈال دی۔ میں دو مرتبہ اپنی ذاتی کتب لائبریری کو عطیہ کر چکا ہوں، لیکن آج بھی میری چھوٹی سی ذاتی لائبریری میں چار سو سے پانچ سو کتابیں موجود ہیں۔

میری عادت ہے کہ دن کے اختتام پر خود سے سوال کرتا ہوں:

“آج میں نے کیا نیا سیکھا؟”

اگر کچھ سیکھا، تو دن کامیاب۔ اگر نہیں، تو یوں سمجھیے کہ زندگی کا ایک قیمتی دن ضائع ہو گیا۔

آج عزاداری کی وسعت حیران کن ہے۔ مگر اس میں خلوص کی جگہ تجارت نے لے لی ہے۔ نوحہ خواں، ذاکر، واعظ، سب کے لیے یہ پیشہ بن چکا ہے۔ شہرت، عزت، اور ساتھ ہی ساتھ بینک بیلنس میں اضافہ۔ غیر ملکی دورے، لگژری گاڑیاں، مہنگے ہوٹل، ایمریٹس کے بزنس کلاس ٹکٹس اور غیر ملکی کرنسی میں ہدیے، یہ سب کچھ اس نظام کا حصہ بن گیا ہے۔

کاش لوگ جان لیں کہ عبادت اور عزاداری کی اصل طاقت اس کے خلوص میں ہے۔

ائمہ معصومین علیہم السلام سے مروی ہے کہ

“اگر مومن کو رمضان کی برکتوں کا اندازہ ہو جائے، تو وہ چاہے کہ سارا سال رمضان رہے”

آج ذاکروں اور نوحہ خوانوں کی خواہش ہے کہ سارا سال محرم رہے اور وہ ہمیشہ نوٹ چھاپتے اور نفرتیں پھیلاتے رہیں۔

آیت اللہ دستغیب نے لکھا تھا کہ

جو انسان خالص سجدہ کرتا ہے، اس کو فرشتہ پکار کر کہتا ہے کہ

“اگر تجھے معلوم ہوتا کہ تجھ پر خدا کی کتنی رحمتیں برس رہی ہیں، تو تو کبھی سجدے سے سر نہ اٹھاتا۔”

ایک سجدہ امام حسین ع نے جلتی ریت پر ادا کیا۔

سر اٹھا نہیں — اٹھا لیا گیا۔

بدلا ہے وقت ، بدلے ہیں انداز نوحہ کے
بازار میں بکتی ہے اب کرب و بلا کی بات

“وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ”
اور ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کو پلٹ کر جائیں گے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply