جب ہم امریکی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں، تو بظاہر باراک اوباما جیسے شخص کو “امن کا پیامبر” (Nobel Peace Prize) بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ انہی کے دورِ حکومت میں عراق، افغانستان، پاکستان اور لیبیا جیسے ممالک میں لاکھوں معصوموں پر جنگیں مسلط رہیں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ، جو بارہا “End Endless Wars” جیسے بیانیے کے ساتھ سامنے آیا، جس نے افغانستان سے فوج نکالنے کی بات کی، اور ایران پر حملے سے آخری لمحے پر پیچھے ہٹا, اسے امریکی میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ نے “خطرناک” اور “پاگل” ثابت کرنے کی پوری کوشش کی۔
یہ تضاد کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اس نظام کی اصل چالاکی ہے۔ نوم چومسکی نے اسے خوبصورت انداز میں بیان کیا تھا:
“The smart way to keep people passive and obedient is to strictly limit the spectrum of acceptable opinion, but allow very lively debate within that spectrum.”
“لوگوں کو خاموش اور تابعدار رکھنے کا سب سے ہوشیار طریقہ یہ ہے کہ رائے کی حدود کو سختی سے محدود کیا جائے، لیکن انہی حدود کے اندر بحث کو خوب چمکایا جائے۔”
یعنی بائیں بازو (Left) اور دائیں بازو (Right) کی لڑائیاں ہوں یا مذہبی اور سیکولر گروہوں کی ۔۔۔ اکثر صرف ایک “منظور شدہ ڈرامہ” ہوتی ہیں، اصل طاقت کہیں اور بیٹھی ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے ٹرمپ ہو، اوباما ہو یا کلنٹن۔۔کوئی conservative بن کر آئے، کوئی liberal، کوئی خود کو امن کا علمبردار کہے، اور کوئی کھلے عام جنگ کا حمایتی ہو۔۔
یہ سب دراصل اسی نظام کے نمائندے (spokespersons) ہوتے ہیں۔ ان کا دائرہ اختیار اسی نظام کی دی گئی لکیر تک ہوتا ہے، وہ کبھی اس سے باہر نہیں جا سکتے۔ وہ صرف نقابیں بدلتے ہیں، تاکہ عوام کو یہ لگے کہ تبدیلی آئی ہے، لیکن دراصل چالاکی سے وہی طاقت بچائی جاتی ہے۔اور لوگ بار بار بیوقوف بنتے ہیں ، اصل گیم سمجھ سے باہر رہتی ہے ۔
یہی کیفیت پاکستان میں بھی ہے۔ باجوہ ہو، راحیل شریف ہو، یا عاصم منیر،نام بدلتے ہیں، وردی وہی رہتی ہے، پالیسیاں وہی رہتی ہیں، اور عوام کو صرف یہ تسلی دی جاتی ہے کہ “اب کوئی اچھا آگیا ہے”۔ یہ سب عوام کو بے وقوف بنانے کا کھیل ہے، جہاں چہرے تو بدلتے ہیں، مگر حقیقی فیصلے کرنے والا نظام وہی رہتا ہے۔
جیسا کہ علی شریعتی نے خوب کہاتھا
“جب کبھی تمہیں کسی قوم میں ظلم، غربت اور پستی دکھائی دے اور وہاں کے حکمران بار بار بدل رہے ہوں، تو سمجھ لو کہ مسئلہ افراد میں نہیں بلکہ نظام میں ہے۔”

لہٰذا چاہے وہ ٹرمپ ہو یا اوباما، نواز ہو یا زرداری ، اگر نظام وہی ہے، تو تبدیلی صرف ایک سیاسی سراب (illusion) ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں