جس طرح ورلڈ اکنامک فورم سے پہلے سول سوسائٹی کی جانب سے ورلڈ سوشل فورم منعقد کیا جاتا ہے۔اسی طرح ہیگ میں ہونے والی ناٹو کانفرنس سے پہلے وہاں کی سول سوسائٹی نے اپنی امن اور انصاف کی تحریک کے تحت اکیس جون کو ”نو نیٹو وار سمٹ“منعقد کی جس میں مقامی اور مختلف ممالک سے آنے والے تین سو ایکٹوسٹس نے شرکت کی۔شرکا کی رائے میں یوکرین کی جنگ،غزہ میں نسل کشی اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دیگر مسلح تنازعات کے نتیجے میں عسکریت پسندی اور فوجی اسلحہ اور سازوسامان کی تیاری اور خریداری میں اضافہ ہوا ہے جس کے عوام اورماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اور مزید تنازعات جنم لیں گے۔سول سوسائٹی دنیا بھر کے سیکورٹی کے مسائل، ماحولیاتی تبدیلی،ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے اور دنیا میں پائے جانے والی عدم مساوات کے پیش نظر اقوام متحدہ میں اصلاحات لانے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔
کانفرنس کے کلیدی مقرر جیریمی کوربن کچھ اچانک مصروفیا ت کی وجہ سے تشریف نہیں لا سکے۔لیکن ان کا ویڈیو میسیج سنایا گیاجس میں انہوں نے کانفرنس کے مقاصد سے یک جہتی کا اظہار کیا۔کانفرنس کے دوسرے کلیدی مقرر پیٹر مرٹنس جو بلجیم کی ورکرز پارٹی کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ہیں، اور ہر یورپی ملک پر ناٹو کے پانچ فی صد اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری کے خلاف ہیں۔ان کے
بقول امریکہ یورپی ممالک پر تو یہ ذمہ داری ڈالتا ہے اور اسے خود اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتا۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ پیسا امریکہ کی اسلحہ ساز فیکٹریوں سے اسلحہ خریدنے پر خرچ ہوتا ہے یعنی آخری تجزئیے میں فائدہ تو امریکہ کو ہوتا ہے۔
جب آپ سیکورٹی پر زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں تو لامحالہ سوشل سیکورٹی یعنی تعلیم، صحت اور پنشن پر کم پیسہ خرچ کرتے ہیں۔اگر جنگوں پر یونہی پیسہ خرچ کیا جاتا رہاتو سوشل سیکورٹی سسٹم ختم ہو جائے گا۔
ہندوستان کی ورشا گاندیکوٹانے بڑی بہادری اور سچائی کے ساتھ اپنے ملک اور دنیا بھر میں ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔کانفرنس کے ماڈریٹرز نے یورپ، ایشیااور افریقہ کے عوام کی باہمی محبت اور یکجہتی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ان کی رائے میں اس یکجہتی کو ٹھوس اقدامات اور حکمت عملی کی شکل دینی چاہیے۔
چینی نژاد آسٹریلین حال بلجین کیری نے اس امتیازی سلوک کا ذکر کیا جس کا انہیں کووڈ کی وبا کے دوران سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں اور ہم عوام کے ساتھ مل کر ہی خود کو طاقت ور بنا سکتے ہیں۔ایک اور ایکٹوسٹ کیتھرینا کی رائے میں اگر ہمارے مسائل اسلحہ کے زور پر حل ہو سکتے یا اسلحہ کے ذریعے امن قائم ہو سکتا تو اب تک کھربوں روپے اسلحہ کی خریداری پر صرف کئے جا چکے ہیں لیکن دنیا میں امن قائم نہیں ہوا۔اس سے ثابت ہوا کہ ہتھیار مسئلے کاحل نہیں ہیں۔بین الاقوامی یکجہتی کے ذریعے دنیا کی ساری تحریکوں کو امن کے پرچم تلے اکٹھے ہو جانا چاہیے۔
فلسطین میں نسل کشی کے بارے میں سیشن میں ماحول بہت افسردہ تھا۔سب کی آنکھوں میں نمی تھی۔فلسطین کے اسمعٰیل جو نیدر لینڈ آنے والے ریفیوجیزکی دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں،نے بتایاکہ 2020سے غزہ کے شہریوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔2014میں غزہ میں ان کے چار منزلہ مکان کو بمباری سے تباہ کر دیا گیا۔ان کی والدہ، تین بھائی اور دو دیگر رشتہ دار شہید ہو گئے۔ڈچ شہری ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اسرائیل پر مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی لیکن ڈچ عدالتوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ان کے دائرہ ء اختیار میں نہیں آتا، اب ان کا مقدمہ انسانی حقوق کی عدالت میں سماعت کا منتظر ہے۔
خواتین کی اکثریت کو جس سیشن کا بے چینی سے انتظار تھا، وہ تھا ”فیمنزم۔جنگ اور بے رحم پدر سری کا متبادل“۔ماڈریٹر ارجنٹائن کی الہیندرا یا الیگزینڈرا تھیں۔وہ انقلابی والدین کی بیٹی ہیں۔ان کو دکھ اس بات کا تھا کہ ان کے والد کو تو انقلابی ہیرو کا درجہ ملا ہوا ہے اور کئی شاہراہیں اور جگہیں ان کے نام پر ہیں لیکن والدہ کو بھلا دیا گیا ہے۔
ہوتا یہی ہے کہ عورتیں انقلابی اور مزاحمتی تحریکوں کا حصہ تو ہوتی ہیں لیکن اقتدار اور اختیار مردوں کو ملتا ہے۔ بیلاروس جو پہلے سوویت یونین کا حصہ تھا، اس کی نمائندگی نتاشا نے کی جو گراس روٹ خواتین کی عالمی خواتین کانگرس سے تعلق رکھتی ہیں۔نکاراگوا کی چندری گواہرے انقلاب کی تیسری نسل ہیں، ان کے والدین بھی انقلابی تھے۔وہ فیمنسٹ ہیں اور بچپن میں لیلیٰ خالد نے انہیں متاثر کیا۔افغانستان کی سمیرا رامیش 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ نیدرلینڈ چلی آئیں۔وہ شاعرہ اور آرٹسٹ ہیں۔انہیں شکوہ تھاکہ خواتین کے فورمز پر افغان خواتین کی حقوق تلفی پر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔جرمنی کی مندوب نے جنگ عظیم اول سے لے کر اب تک تخفیف اسلحہ اور عورتوں کے حقوق کی تحریکوں کا جائزہ لیا۔
جنگ کے خلاف ہونے والی اس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومتوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ انہیں ہتھیاروں اور جنگی تیاری پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں