گلگت بلتستان، جو اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، شفاف جھیلوں، اور بہتے دریاؤں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، اس وقت شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے۔ سیاحت کے فروغ کے نام پر ہونے والی بے ہنگم اور غیر قانونی تعمیرات، ماحولیاتی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں، اور انتظامی غفلت نے اس خطے کی فطری ساخت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حال ہی میں ضلع ہنزہ کے مشہور سیاحتی مقام عطا آباد جھیل پر بنائے گئے ایک لگژری ہوٹل کے خلاف مقامی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے سیل کر کے 15 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب سوشل میڈیا اور قومی ذرائع ابلاغ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک غیر ملکی سیاح نے انکشاف کیا کہ مذکورہ ہوٹل اپنا فضلہ (waste water) جھیل میں ڈال رہا ہے۔ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معروف صحافی اطہر کاظمی نے بھی اپنی ٹویٹ میں اس گھناؤنے عمل کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ عطا آباد جھیل میں ہوٹل کا سیوریج بغیر کسی تصفیے کے براہ راست پھینکا جا رہا ہے۔ اس عمل پر غیر ملکی سیاح بھی ناپسندیدگی اور حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس واقعے کو ملک دشمنی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہوٹل کا نام بھی افشا کیا جائے اور صحافت کو کاروباری مفاد کی نذر نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا بجا ہے، کیونکہ یہ صرف ایک ہوٹل یا ایک مقام کا مسلہ نہیں، بلکہ گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی علاقوں میں یہی المیہ دہرایا جا رہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی انتہائی قابل غور ہے کہ جب مذکورہ ہوٹل کی تعمیر شروع ہوئی تھی تو مقامی سیاسی رہنماؤں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کسی غیر مقامی کاروباری شخصیت یا ادارے کو زمینوں کی خریداری کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ آزاد کشمیر میں قوانین نافذ ہیں۔ اسی قانونی اور سیاسی پس منظر میں بابا جان سمیت کئی مقامی کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جو آج تک اس ظلم کی قیمت چکا رہے ہیں۔ ایک طرف تو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کی مخالفت کرتا ہے، دوسری طرف گلگت بلتستان میں وہی پالیسی لاگو کی جا رہی ہے جس پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پس عطا آباد جھیل کا واقعہ محض ایک علامتی مثال ہے۔ لیکن دوسری طرف پورے خطہ اس مسلے سے دوبار ہیں اور ضلع شگر میں دریا کے کنارے بنائے گئے ہوٹل کا سیوریج براہ راست دریا میں ڈالنے کا انکشاف ہوا تھا اور بدقسمتی سے مقامی صحافیوں کو وہاں تک رسائی بھی نہیں دی تھی۔ دریائے شگر کنارے بنائے لگژری ہوٹل کے تمام سیوریج کو کھدائی کرکے زمین کے اندر چھوڑا گیا ہے جو کچھ فاصلے پر نکل پر باہر آجاتا ہے اور یہ پورے گلگت بلتستان میں معمول کی بات جس پر توجہ دینے اور سورہج کی اخراج کیلئے متبادل انتظام کرنے کی ضرورت ہے جو ندی نالوں اور دریا میں شامل نہ ہوسکے ۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں سیاحت کی فروع کے ساتھ ماحولیاتی الودگی کی روک تھام کیلئے کوئی پلاننگ ہے، نہ ماحولیاتی تحفظ کا کوئی ضابطہ۔ ضلع کھرمنگ، گانچھے اور دیگر علاقوں میں بھی ہوٹلوں کی بھرمار ہو رہی ہے۔ دریاؤں، ندی نالوں، جھیلوں کے کنارے بغیر کسی ماحولیاتی احتیاط کے ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر تعمیرات جاری ہیں۔ واٹر ٹریٹمنٹ، سیوریج سسٹم، اور کوڑا کرکٹ کے تصفیے کے بغیر یہ تمام سرگرمیاں گلگت بلتستان کے قدرتی ماحول کو زہر آلود کر رہی ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔درحقیقت سیاحت کا مقصد مقامی معیشت کو سہارا دینا، ثقافت کو فروغ دینا، اور فطری حسن کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سیاحت کی آڑ میں گلگت بلتستان کو ایک کنکریٹ جنگل میں بدلا جا رہا ہے۔ ہر دریا، ہر جھیل، ہر پہاڑ کی قیمت لگائی جا رہی ہے، اور مقامی آبادی کا استحصال ہو رہا ہے۔صاف پانی کے ذخائر، جو کبھی اس علاقے کی پہچان تھے، اب بدبودار گندے نالوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ جنت نظیر خطہ جلد ہی ماحولیاتی تباہی کا شکار ہو جائے گا، جس کا خمیازہ نہ صرف مقامی باشندوں بلکہ پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور مقامی حکومت فوری طور پر گلگت بلتستان میں ہوٹلوں اور دیگر تجارتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (EIA) لازمی قرار دیا جائے۔ قدرتی علاقوں میں کنکریٹ کی تعمیرات پر پابندی عائد کی جائے، اور Eco-tourism کے اصولوں پر مبنی پالیسی نافذ کی جائے اور فیصلوں میں مقامی آبادی کو شریک کیا جائے تاکہ وہ خود اپنی سرزمین کے محافظ بنیں۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان یا گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ کو اس مسئلے کا ازخود نوٹس لینا چاہیے تاکہ ماحولیاتی جرائم پر سخت ایکشن گلگت بلتستان ایک عالمی قدرتی ورثہ ہے۔ اسے تباہ ہونے سے بچانے کے لیے محض ٹویٹس یا جرمانے کافی نہیں۔ ہمیں اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں