آج جوکچھ ہم لوگ دیکھ رہے ہیں اسے نفسا نفسی کی عملی شکل کہا جاسکتا ہے جسے غیر منظم حکمت عملی کا نتیجہ کہایں تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن جب آپ کڑیوں سے کڑیا ں ملائیں گے تو آپ پر واضح ہوتا چلا جائے گا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ایک منظم طریقہ کار کے تحت کیا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یقین ہے کہ قیامت آنی ہے اور جو لوگ تھوڑا بہت بھی دین سے وابستہ ہیں انہیں معلوم ہے کہ قرب قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ اس سارے ماحول میں اسرائیل اپنا وہ کردار ادا کر رہا ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے آگاہ کر رکھا ہے۔ دنیا کی اکثریت شاید اس امر سے نا واقف ہو کہ اسرائیل اپنے مذہبی منشور پر کام کر رہا ہے جبکہ دنیا اسے بطور دنیاوی طاقت کے حصول کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ کھلی آنکھوں سے اس سارے منظر نامے کو دیکھیں تو واضح ہے کہ اسرائیل کیوں کسی غیر مسلم مملکت کیساتھ کسی تنازع کا شکا ر نہیں رہا۔ کیونکہ اسرائیل اپنے مذہبی مخالف مسلمانوں کو ہی تباہ و برباد کر کے دنیا میں اپنی باقاعدہ اجارہ داری قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل جو یہودیوں کی واحدآماجگاہ ہے، اگر مسلمانوں کو زیر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اسکا اگلا شکار عیسائی مذہب کی ریاستیں ہونگی۔معاملات کو عمومی سطح پر حل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔عرصہ دراز سے اسرائیل، فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے،یہ مسلمانوں کیلئے دوسری دفعہ ہوا ہے کہ کسی غیر مسلموں کو اپنی زمین دی اور انہوں نے اس پر ایسا بد ترین قبضہ کیا، فلسطینیوں نے انہیں رہنے کیلئے زمین دی تھی تو پہلی دفعہ برِصغیرکے مسلم حکمرانوں نے ایسٹ انڈیا نامی کمپنی کو بھی کاروبار کی اجازت دی تھی جو خطے میں جغرافیائی تبدیلیوں کا سبب بنی۔
اسوقت دنیا میں اسرائیل وہ نام نہاد ریاست ہے جو یہ جانتی ہے یا اس کے فیصلہ ساز دنیاوی اور اپنے مذہبی علوم کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں، یہودی اپنے مذہبی عقائد پر انتہائی شدت پسند ہیں لیکن یہ کہنے کی اعلیٰ سطح پر جرات نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہایوں سے مسلم شدت پسندی کا راگ الاپنے والے مغربی ذرائع ابلاغ کو ہندوتوا (ہندو شدت پسندی) اور یہودیوں کی شدید مسلم مخالفت نہیں دکھائی دے رہی کہ وہ اس کا چرچا کریں اور دنیا پر واضح کریں کہ درحقیقت اسلام سے محبت کرنے والے شدت پسند نہیں بلکہ ہندو اور یہودی مذاہب کے ماننے والے اس پر باقاعدہ عمل پیرا ہوکر اپنی شدت پسندی کا برملا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بھارت نے درپردہ اسرائیل اور امریکہ کی پشت پناہی کی بنیاد پر پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی مذموم سازش کی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہماری افواج نے ایسا منہ توڑ جواب دیا جس کا انہیں شاید اندازہ نہیں تھا ان کا خیال تھا کہ ہم پاکستانی جس طرح سے اندرونی معاملات میں ایک دوسرے سے نبردآزما رہتے ہیں تو ہم اندر سے بھی ایسے ہی کمزور ہونگے لیکن بھارت کیساتھ ساری دنیا کو یہ بہت اچھی طرح سے سمجھ آچکی ہے کہ پاکستانی اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے (جو اللہ کی طرف سے لاتعداد قربانیوں کی مر ہون منت دی گئی ہے)تمام باہمی اختلافات کو بھلا کر ملک خداداد پاکستان کی دفاعی لکیر بن جاتے ہیں، شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جہاں عوام فوج کے شانہ بشانہ باقاعدہ کھڑی ہوتی ہو، اس کا منہ بولتا ثبوت بھارت کیساتھ ہونے والی تازہ ترین صورتحال میں دیکھنے میں آیا اور ساری دنیا نے دیکھا۔
امریکہ اپنی داخلی حکمتِ عملیوں کی وجہ سے انتشار کا شکار دکھائی دے رہا ہے اور جگہ جگہ مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جسے ارباب اختیار طاقت سے کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکہ اپنے آپ میں اقوام متحدہ بنا ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی اہمیت صرف ایک بین الاقوامی ادارے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسرائیل کی ایران کیخلاف جارحیت اس بات کا اندازہ لگانے کیلئے بھی ہوسکتی ہے کہ ایران خطے میں اپنے اصولی موقف پر تنہا ہے یا پھرپڑوسی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر ایسا بھی تھا تو اسرائیل کو جہاں ایران کی جانب سے بھرپور جواب کا سامنا ہے وہیں خطے کے دیگر ممالک کا ایران کے حق میں سرکاری بیان جاری کرنا بھی کسی دِلی صدمے سے کم نہیں۔ اس صدمے سے جہاں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کو دھچکا لگا ، اس سے کہیں بڑھ کرخطرناک بات یہ ہوئی کہ چین کے صدر نے بھی بیان جاری کیا ہے کہ دنیا امریکہ کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے،اس بیان میں ڈھکے چھپے امریکہ کیلئے بہت سارے پیغامات ہیں تو دوسری طرف خطے میں استحکام کی خاطر ممالک کے ساتھ ہونے کی ایک بہت واشگاف دلیل ہے۔ امریکہ کا اس بیان پر ابھی رد عمل آنا باقی ہے۔ دوسری طرف روس بھی درپردہ ایران کا حمایتی ہے جو کہ وقت آنے پر واضح ہوجائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ، فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہے یا پھر ابھی دنیا کومزید بدحالیوں جھیلنا ہے۔ بطور مورخ بہت پھونک پھونک کر لفظوں کو قلم بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اگر ایسا نا کیا گیا تو ہم اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نہیں نبہا پائینگے اور تاریخ کو مسخ کرنے والوں کی صف میں کھڑے کر دئیے جائینگے۔ ہم اللہ رب العز ت کی طرف سے پیش کئے جانے والے معجزوں پر یقین رکھتے ہیں۔آج جو لوگ مادیت پر یقین رکھتے ہیں وہ مغربی طاقتوں سے انتہائی خوفزدہ ہیں وہ یقینا زمین سے جڑے لوگ ہیں لیکن ہم اس دائمی طاقت کے ماننے والے ہیں جس کیلئے کچھ بھی کرنا صرف کن کا محتاج ہوتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حق رہنے کیلئے اور باطل مٹنے کیلئے ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں