نوٹ : یہ اس مضمون کی پہلی قسط ہے جس میں ہم نے چار ایسے سماجی فلسفیوں کے خیالات پیش کیے ہیں جنھیں ہم اپنے آسانی کے لیے زیر بحث موضوع پر مارکس واد کے چار نمائندہ فلسفی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ مضمون مصباح نوید کے اٹھائے سوال کے تھیورٹیکل /فلسفیانہ جہت کو لیکر ہے لیکن اس کا مقصد ان لبرل الحاد پرستوں پر بھی تنقید ہے جو “مذہب” کو ایک سماجی ادارہ “نظریاتی ٹول” اور اس کے موجودہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار سے “ساختیہ Construed ” ہونے کو نظر انداز کرکے اسے محض ایک “بیانیہ” کے طور پر لیتے ہیں ۔ اور “مذہب ” کے خلاف “اعلان جنگ” کرتے ہیں ۔ ان کی اس کوشش کا اب تک کی معلوم تاریخ میں ایک ہی نتیجہ نکلا ہے کہ یہ “مذہبی جنونیت و فسطائیت” کو اور طاقتور بناتے ہیں ۔ اینگلز نے اینٹی ڈھورنگ کتاب میں لکھا تھا کہ جو فلسفی سرمایہ داری کے خلاف جنگ کی بجائے “مذہب ” کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں وہ مذہبی حلقوں کے سب سے رجعتی Reactionary اور فسطائی ٹولے کو طاقتور بناتے ہیں اور انہیں نئی زندگی بخشتے ہیں ۔ مغرب میں “اسلامو فوبیا” کے علمبردار نسل پرست نیو لبرل دانشوروں کی “الحاد پرستی اور مذہب کے خلاف جنگ ” کا نتیجہ اینگلز کی پیشن گوئی بالکل درست ثابت کرچکا ہے۔ یہ مضمون بالواسطہ طور پر برطانوی سامراج اور پھر امریکی سامراج کے دور میں سرمایہ داری کے حامی ان عالمی بنیاد پرست سیاسی اسلام پسند تحریکوں کے بانیان کے پروپیگنڈے کا بھی رد ہے جو نوآبادیاتی دور ، مابعد نوآبادیاتی دور اور سرد جنگ کے زمانے میں عالمی سوشلسٹ تحریک کے خلاف یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے رہے کہ یہ تحریک “مذہب کے خلاف ” جنگ ہے حالانکہ وہ خود جس سرمایہ دار مغرب کے ساتھ کھڑے تھے اس سرمایہ داری مغرب کی اولین سرمایہ دار طبقے (مغربی بورژوازی ) نے خرد افروزی Enlightenment تحریک میں اپنا نصب العین الحاد پرستی اور مذہب کا جور و زبردستی سے خاتمہ اور مذہب کے خلاف جنگ قرار دیا تھا جبکہ مارکس وہ پہلا فلسفی اور سماجی سائنسدان تھا جس نے مذہبی بیانیوں کو ٹھوس مادی جدلیاتی اور سماجی بنیادوں کی روشنی میں جانچا اور اس بات کا سراغ لگایا کہ کون سا مذہبی بیانیہ “حکمران طبقات ” کا وضع کردہ اور کون سا مظلوم اور مجبور گروہوں کا تخلیق کردہ تھا اور اسی بنیاد پر اس نے جرمن مثالیت پسند فلسفے کے رد میں “جرمن آئیڈیالوجی” جیسی کتاب لکھی تھی ۔ سوشلسٹ تحریک کبھی بھی “الحاد پرستی اور مذہب کے خلاف جنگ ” کی تحریک نہیں رہی ۔
ترقی یافتہ اور سائنسی طور پر مضبوط معاشروں میں بھی مذہب ایک مؤثر قوت کے طور پر باقی رہتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ تعصبات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جسے سمجھنے کے لیے سماجی سائنس کے مختلف نظریات کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ معاشرتی اور نفسیاتی مفکرین نے مذہب کے کردار اور اس کی پائیداری کی وجوہات کو اپنے اپنے زاویوں سے بیان کیا ہے۔ بالخصوص سوشلسٹ مفکرین (کارل مارکس، فریڈرک اینگلز، انٹونیو گرامشی، لوئی التھیوسر) اور کلاسیکی سماجی و نفسیاتی مفکرین (ماکس ویبر، ایمیل دورکائم، سگمنڈ فرائیڈ، ولہم رائخ) نے مذہب اور معاشرے کے تعلق پر اہم آراء پیش کی ہیں۔ آگے چل کر ہم جب بھی “مذہب” کی اصطلاح استعمال کریں گے تو اس سے مراد وہ “تعبیرات” ہوں گی جو سرمایہ دارانہ نظام میں حکمران طبقات اس نظام کے تقاضوں کے مطابق “گھڑی ” ہوں گی ۔
کارل مارکس نے مذہب کو بنیادی طور پر ایک نظریاتی اوزار (Ideology) کی حیثیت سے دیکھا جو موجود معاشی اور سماجی حالات کا پرتو ہوتا ہے۔ مارکس کے مشہور قول میں (سرمایہ داری معاشروں میں حکمران طبقات کی تعبیرات پر مبنی) مذہب کو “عوام کا افیون” کہا گیا ہے – یعنی یہ ایک ایسی دوائی یا نشہ ہے جو محنت کش طبقے کو ان کی حقیقی تکالیف کا احساس مدھم کرنے میں مدد دیتا ہے
مارکس کے مطابق مذہب انسان کے حقیقی دکھوں اور ظلم کے خلاف ایک ”آہ“ (سسکی) ہے جو مظلوم مخلوق کے دل سے نکلتی ہے۔ وہ اسے “بے دل دنیا کا دل” بھی کہتا ہے، کیونکہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں جہاں ہر طرف خودغرضی اور بے حسی ہے، وہاں مذہب بظاہر تسلی اور امید کا سہارا فراہم کرتا ہے۔
مارکس اس سکون کو مثبت نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے حقیقی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ گردانتا تھا۔ ان کے نزدیک مذہب طبقاتی ظلم کو جاری رکھنے کا ایک ذریعہ ہے: حکمران طبقہ مذہب کی مدد سے اپنا اقتدار قائم رکھتا ہے اور محنت کشوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ان کی موجودہ حالت “خدا کی مرضی” ہے، یوں انہیں بغاوت سے روکا جاتا ہے –
مارکس کا استدلال تھا کہ جب تک محنت کش طبقہ اس ”مصنوعی تسلی“ (افیون) کے زیرِاثر رہے گا تب تک وہ اپنے حالات بدلنے کے لیے انقلابی جدوجہد نہیں کر سکے گا – مارکس نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک کامیاب اشتراکی انقلاب کے نتیجے میں جب استحصال ختم ہوگا تو مذہب کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی اور یوں یہ مٹ جائے گا –
مارکس کے نظریے کی افادیت یہ ہے کہ وہ مذہب کو معاشی اور سماجی ڈھانچے کے ساتھ جوڑ کر اس کے سماجی کردار کو سمجھاتا ہے، خصوصاً یہ بتاتا ہے کہ مذہب کیسے موجودہ طاقت کے ڈھانچوں کو سہارا دیتا ہے۔ مارکس کی تحریروں کا بغور جائزہ بتاتا ہے کہ مذہب کو سماج میں صرف حکمران طبقہ کی نظریاتی اوزار کے طور پر استعمال نہیں کرتا بلکہ مظلوم ، مجبور ، استحصال کا شکار طبقات اور گروہ بھی اسے “نظریاتی اوزار ” کے طور پر ظالم و جابر حکمران طبقات کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں ۔ وہ عرب تاریخ پر اپنے نوٹس میں کئی جگہوں پر لکھتا ہے کہ ماقبل سرمایہ داری سماج میں جب مسلمانوں کی قبائلی جمہوریت (خلافت) بتدریج غلام داری ، جاگیردارانہ ملوکیت میں بدلی اور اس سماج میں کسانوں ، غلاموں ، کنیزوں ، لونڈیوں ، دستکاروں ، تاجروں پر ظلم و ستم اور جبر ، استحصال شدید ہوگیا تو ملوکیت پر مبنی حکومتوں کے خلاف مجبور و مظلوم گروہوں کی بغاوتیں “مذہبی نعروں” کی شکل میں ہی سامنے آئیں اور اس وقت کی بادشاہتوں نے ان مزاحمتی تحریکوں کو “گمراہ فرقوں” ، زندیق و مرتد گروہوں کا نام دے دیا ۔ وہ مسیحی مذہب کے ابتدائی ابھار کو بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ بعد میں حکمران طبقات کی نوکری کرنے والی مذہبی اسٹبلشمنٹ نے یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے سرکاری اور درباری ایڈیشن متعارف کرائے۔ وہ نوآبادیاتی دور میں بھی کئی ایک مذہبی تحریکوں کی سماجی بنیادیں عوامی طبقات کے اندر دیکھتا ہے اور انہیں سماجی انصاف کی یوٹوپیائی تحرکیں خیال کرتا ہے۔
اینگلز، جو مارکس کے قریبی ساتھی تھے، نے بھی مذہب کو تاریخی مادیت کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی، ان کا رویہ مارکس کی سرسری فکر کو زیادہ جامع اور مربوط انداز میں پیش کرنے والا تھا۔ اینگلز مارکس کا ہم خیال ہوکر کہتا ہے کہ مذہب کا کردار دوہرا (dual character) رہا ہے: ایک جانب یہ حکمران طبقے کا ساتھ دے کر موجودہ نظام کو قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے، تو دوسری جانب بعض حالات میں یہ مظلوم طبقوں کو مزاحمت اور تبدیلی کی تحریک بھی فراہم کر سکتا ہے- اینگلز نے ابتدائی مسیحیت کی مثال دی کہ رومی سلطنت کے دور میں مسیحی تحریک بنیادی طور پر غلاموں اور مظلوموں کی تحریک تھی جو اپنے دور کے ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی تھی – وہ کہتے ہیں کہ جس طرح پہلی صدی کے مسیحی ایک ظالمانہ سلطنت کے خلاف “خطرناک انقلابی گروہ” کے طور پر اُبھرے تھے، اسی طرح جدید دور میں مزدور تحریک بھی ابتدا میں زیرِ زمین ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ غالب آ سکتی ہے ۔ اس تجزیے سے اینگلز یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگرچہ مذہب کو اکثر طاقتوروں نے ایک نقاب کے طور پر استعمال کیا جس کے پیچھے دنیوی مفادات چھپے ہوتے تھے، لیکن مذہبی نعروں کے پیچھے کبھی کبھار حقیقت میں معاشی اور سماجی مطالبات کارفرما ہوتے ہیں۔ اینگلز کے مطابق “جدیدیت اور سماجی ارتقا کے ساتھ مذہب کی سماجی ضرورت ختم ہو جائے گی”، یعنی جیسے جیسے معاشرے میں مادی حالات بہتر ہوں گے اور ظلم میں کمی آئے گی، مذہب کا کردار خودبخود ماند پڑ جائے گا۔ نہوں نے مشاہدہ کیا تھا کہ صنعتی معاشرے میں محنت کش طبقہ عملی طور پر مادیت پسندی کی راہ اختیار کر رہا ہے اور مذہب سے دور ہوتا جا رہا ہے- اینگلز نے سوشلسٹ تحریک کو مشورہ دیا تھا کہ مزدوروں پر الحاد زبردستی مسلط کرنے کی کوشش الٹی پڑ سکتی ہے کیونکہ اگر اوپر سے مذہب پر پابندی لگائی گئی تو محنت کش ردعمل میں پھر سے چرچ کے زیرِ اثر جا سکتے ہیں- اس لیے وہ آہستہ روی سے علمی شعور بیدار کرنے کے حق میں تھے۔
مارکس اور اینگلز کا امتیاز یہ ہے کہ وہ مذہب کو یک سرے سے رد کرنے کے بجائے اس کے پیچیدہ کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ مذہب کبھی انقلابی قوت کا لبادہ بھی اوڑھ سکتا ہے (جیسا کہ ابتدائی عیسائیت یا بعض مذہبی اصلاحی تحریکوں میں ہوا) اور یہ بنیادی فرق ہے “مذہب” کے بارے میں مارکس و اینگلز اور سرمایہ داری کے لبرل ملحدین کی سوچ میں ۔
گرامشی ایک اٹالین مارکسی مفکر تھے جنہوں نے ثقافتی بالادستی (ہیجمونی) کا تصور متعارف کرایا۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف سیاسی اور معاشی کنٹرول ہی نہیں، بلکہ نظریاتی اور ثقافتی کنٹرول کے ذریعے بھی حکمران طبقہ معاشرے پر حکومت کرتا ہے۔ گرامشی کے مطابق سرمایہ دار طبقہ تعلیم، ذرائع ابلاغ اور بالخصوص مروجہ خیالات کے ذریعے ایک ایسی عام مرضی (کامن سینس) پیدا کر دیتا ہے جو اس کے مفادات کے مطابق ہوتی ہے۔ اس ثقافتی غلبے میں مذہب کا اہم کردار ہے؛ مذہب ایک ایسا نظریاتی ڈھانچہ فراہم کر سکتا ہے جو عوام کے ذہنوں میں حکمران قدروں کو ’’فطری‘‘ اور ناقابلِ چیلنج بنا کر پیش کرتا ہے ۔
مثال کے طور پر ایک قدامت پسند مذہبی بیانیہ لوگوں کو یہ سکھا سکتا ہے کہ موجودہ سماجی درجہ بندی خدا کی مرضی ہے، یوں لوگ ظلم و نابرابری کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ گرامشی مارکس، لینن اور التھیوسر کی طرح اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مذہب حکمران طبقے کی مرضی کے غلبے (hegemonic ideology) کو تقویت دیتا ہے- لیکن گرامشی یہیں پر نہیں رکتے – وہ کہتے ہیں کہ مذہب صرف سٹیٹس کو کا حصہ نہیں رہتا بلکہ اسے بدلنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ ان کے نزدیک معاشرے کے مظلوم طبقے “حیاتیاتی دانشور” (organic intellectuals) پیدا کر سکتے ہیں جو اسی مذہبی روایت کو ایک جوابی غلبے (counter-hegemony) کے لیے استعمال کریں –
یعنی، اگر مذہبی رہنما یا علما مظلوموں کے حق میں کھڑے ہوں اور مذہبی تعلیمات کی نئی تشریح پیش کریں تو یہی مذہب عوام کو متحرک کرنے اور انقلاب یا اصلاح کی جدوجہد کا وسیلہ بن سکتا ہے۔ گرامشی اس کی مثال کے طور پر انقلابی تھیالوجی (Liberation Theology) اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی تحریکوں کو پیش کرتے ہیں جہاں مذہبی اصولوں کو سماجی انصاف اور حقوق کے حق میں استعمال کیا گیا-
خلاصہ یہ کہ گرامشی مذہب کو ایک ثقافتی میدان (arena) کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں طاقتور اور کمزور کے مابین معنوی جنگ چلتی ہے۔ اگر حکمران طبقہ مذہب کو اپنا آلہ بنا کر تعصب اور تعقل کو فروغ دیتا ہے تو وہیں پسماندہ طبقے اسی مذہب سے اخذ کردہ اخلاقیات کو ظلم کے خلاف ڈھال بھی بنا سکتے ہیں۔
گرامشی کا نقطۂ نظر منفرد ہے کیونکہ وہ مذہب کو جامد شے نہیں سمجھتے بلکہ اسے طاقت کی کشمکش کا حصہ مانتے ہیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ آخر عوام صدیوں سے حکمران نظریات (مثلاً مذہبی تقدیر کا عقیدہ) کو کیوں قبول کرتے آئے ہیں – کیونکہ یہ عقائد ان کے ’’عام فہم‘‘ کا حصہ بن چکے ہیں-
ساتھ ہی، گرامشی امید بھی دلاتے ہیں کہ مذہب خود حکمران بیانیے کو چیلنج کرنے کا وسیلہ بن سکتا ہے اگر اس کی تشریح مظلوموں کے حق میں کی جائے-
تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ یہ نظریہ کچھ زیادہ ہی خوش فہم ہے: عملی سیاست میں یہ دیکھنا کم کم نصیب ہوا کہ مذہبی ادارے حقیقی معنوں میں موجود نظام کے خلاف کھڑے ہوئے ہوں (اگرچہ بعض مثالیں موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر مرکزی دھارے کے مذاہب اکثر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہے)۔ مزید یہ کہ گرامشی کا نظریہ پیچیدہ ہے اور عام حالات میں یہ تمیز کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ کب مذہب ہحکمران طبقات کے نظریاتی تسلط کو سہارا دے رہا ہے اور کب اس کو للکار رہا ہے۔ پھر بھی، گرامشی کی فکر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مذہب محض عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سماجی ادارہ ہے جس پر جاری کشمکش کے اثرات پڑتے ہیں – یہی کشمکش تعین کرتی ہے کہ مذہب کسی وقت تعصب کو ہوا دے گا یا انصاف کو۔
فرانسیسی مفکر لوئی التھیوسر نے مذہب کو ریاست کے نظریاتی ریاستی آلات (Ideological State Apparatuses, ISA) میں شمار کیا ہے- التھیوسر کے مطابق ریاست صرف فوج، پولیس، عدالت جیسے جبری ذرائع (Repressive Apparatuses) سے ہی اپنی حاکمیت قائم نہیں رکھتی بلکہ اسکول، خاندان، ذرائع ابلاغ اور مذہب جیسے نظریاتی اداروں کے ذریعے بھی لوگوں کے ذہن اور رویے اس طرح تشکیل دیتی ہے کہ وہ خود بخود غالب طبقے کے مفادات کے مطابق سوچنے لگیں-
مذہب کو وہ خاص طور پر ایک مضبوط نظریاتی آلہ سمجھتے تھے جو انسانوں کو ایک مخصوص شناخت (subject) دیتا ہے – یعنی مذہب انسان کو یہ بتاتا ہے کہ وہ دنیا میں کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور اسے کن قدروں پر چلنا ہے۔
مثال کے طور پر التھیوسر کہتا ہے کہ عیسائی مذہبی نظریہ فرد کو خدا کی آواز کے ذریعے یہ سکھاتا ہے کہ دنیا میں اس کا مقام اور فرض کیا ہے- اس طرح کے نظریاتی اثرات کے ذریعے لوگ معاشرے میں موجود عدم مساوات اور طاقت کے ڈھانچوں کو خدا کا قائم کردہ نظام سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ”غلط شعور“ (False consciousness) کی یہ کیفیت طبقاتی تقسیم کو جاری رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔
التھیوسر لکھتے ہیں کہ مذہب، تعلیم اور میڈیا مل کر غالب نظریات کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں اور یوں عوام اپنے استحصال کو پہچان نہیں پاتے۔ ایک مذہبی مثال میں بائبل کے ایک گیت کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے: ”امیر آدمی اپنے محل میں، غریب دروازے پر – یہ درجات خدا نے بنائے ہیں“؛ اس قسم کی تعلیمات دراصل لوگوں کو یہ باور کراتی ہیں کہ معاشرتی اونچ نیچ فطری یا الٰہی ہے۔ یہی سوچ تعصب کو بھی جنم دیتی ہے، کیونکہ اگر ایک خاص عقیدہ ریاستی نظریے کا حصہ بن جائے تو دوسرے عقائد یا فرقوں کے خلاف نفرت کو بھی حق بجانب ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ التھیوسر کا یہ بھی استدلال تھا کہ نظریاتی ڈھانچہ معاشرے کو جوڑے رکھنے کے لیے ہر دور میں ضروری ہوتا ہے – یہاں تک کہ ایک غیر طبقاتی (کمیونسٹ) معاشرے میں بھی کچھ نظریات لوگوں کو اجتماعی شناخت دیں گے۔ گویا انسانوں کو مربوط رکھنے کے لیے ’’تصوراتی کہانیاں‘‘ درکار رہتی ہیں، اس لیے مذہبی طرز فکر کا مکمل خاتمہ شاید ممکن نہ ہو؛ شکل تبدیل ہو سکتی ہے مگر ”نظریاتی ہستی“ برقرار رہتی ہے۔
التھیوسر کی تھیوری کی خوبی یہ ہے کہ یہ واضح کرتی ہے کہ ریاستیں اور طاقتور ادارے کیسے لوگوں کے لاشعور تک میں اثرانداز ہو کر انہیں اطاعت گزار شہری بناتے ہیں۔ مذہب کو ایک نظریاتی ریاستی آلہ کے طور پر دیکھنے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جدید اور تعلیم یافتہ معاشروں میں بھی مذہبی تصورات اتنی گہرائی سے کیوں پیوست رہ جاتے ہیں – کیونکہ بچپن سے سماجی تربیت کا حصہ ہوتے ہیں-
اس نظریے پر تنقید یہ ہوتی ہے کہ یہ انسانی ایجنسی (اختیار) کو بہت کم جگہ دیتا ہے؛ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہر انسان محض ایک اندرونی پروگرامنگ کے تحت چلنے والا روبوٹ ہے جسے مذہب یا ریاست چلا رہی ہے۔ حقیقت میں لوگ سوال بھی کرتے ہیں، بغاوت بھی کرتے ہیں اور اپنے عقائد خود بھی تشکیل دیتے ہیں۔ مزید برآں، التھیوسر مذہب کے جذباتی اور اخلاقی پہلوؤں کو تقریباً نظرانداز کر دیتا ہے – مذہب صرف سماجی کنٹرول کا ذریعہ نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے شناخت، تسلی اور امید کا منبع بھی ہے جسے محض ریاستی منصوبہ کہہ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے باوجود، یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ تعصب پر مبنی مذہبی خیالات کو کئی ریاستیں اور طاقتور گروہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ التھیوسر کا فریم ورک اسی عمل کو سمجھنے میں معاون ہے کہ جدید معاشروں میں بھی مذہبی نظریات نظام کو قائم رکھنے کے لیے کس طرح فعال رہتے ہیں۔

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں