پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے۔۔محمد عماد عاشق

ہم میں سے ہر ایک نے شاید درج بالا جملہ اپنی زندگی میں ضرور سنا ہے۔ یہ جملہ اس تناظر میں کہا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے کے معیاری یا استاذ کے قابل ہونے سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ طالب علم نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ہی کامیابی لینی ہوتی ہے اور اگر طالب علم محنتی نہ ہو تو کوئی ادارہ یا استاذ اس کی مدد نہیں کر سکتا۔ گو کہ اس جملے سے کچھ حد تک اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ تاہم آج ایک کوشش کر کے اس مفروضے یا نظریے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی بناء پر یہ جملہ قائم ہے۔

یہ جملہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم ایک ایسے عمل کا نام ہے، جس میں طلباء کو کسی تعلیمی ادارے میں داخل فرما کر ان کے ہاتھ میں کچھ کتابیں تھما دی جاتی ہیں، اور پھر چھ آٹھ ماہ بعد اس بات کا امتحان ہوتا ہے کہ کس طالب علم کو کونسی کتاب کتنے اچھے طریقے سے یاد ہے۔ یہ جملہ تعلیم کو ایک ایسا  سلسلہ سمجھتا ہے جس میں طلباء کے مابین حافظے کی قوت کا امتحان ہی اس سلسلہ کی معراج ہے، اور جو امتحان میں یاد کیا ہوا سبق بہترین طریقے سے لکھ آیا، وہ انعام و  کرام کا مستحق ٹھہرا اور جو ایسا نہ کر سکا، وہ معتوب ہوا۔ پھر امتحانات میں اعلیٰ   کارکردگی دکھا کر ملنے والی ڈگری روزگار کے حصول کی ضمانت ہے، جس کے بعد آپ اپنا پیٹ پالنے کے بعد نہایت آسودگی سے دارِ فانی سے کوچ فرما سکتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی یاد آئے:

ہم کیا کہیں احباب کیا کارِ  نمایاں کر گئے
بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی ،پھر مر گئے!

صاحبو ، یہ ہے وہ بنیاد جس پر اس جملے کی شکستہ حال عمارت کھڑی ہے۔ جب ہم نے تعلیم کو شخصیت   بنانے اور سنوارنے کا آلہ سمجھا ہی نہیں، تو پھر “پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے”۔جب تعلیم محض روزگار کے حصول کا ذریعہ ہے، تو “پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے”۔جب اوّل جماعت سے لے کر یونیورسٹی کے آخری سمسٹر تک نفسِ مضمون کو سمجھے بنا صرف حافظے میں محفوظ رکھنا ہی مقصود و مطلوبِ مومن ہے تو “پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے”۔

عالمی اقتصادی فورم کی جاری کردہ ہیومن کیپٹل رپورٹ میں ہماری تنزلی کی وجہ ہی یہی ہے کہ “پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے”۔ ہر سال فرنچائز نظام پر چلنے والے  سکول اور کالج اسی وجہ سے کھمبیوں کی طرح اُگے ہوئے ہیں کیونکہ “پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے”۔چند سال قبل تک صرف شہرِ لاہور میں ہی پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور اداروں کا سیلاب اسی لیے امڈ آیا کیونکہ “پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے”۔

کاش اربابِ اختیار، والدین اور اساتذہ کی کوئی ایسی پود پیدا ہو، جو اس “اپنا پڑھنے والے بچے” سے اس کی کتابیں چھین کر انہیں آگ لگا دے، تاکہ یہ بچہ کبھی دوبارہ “اپنا ” نہ پڑھ سکے۔ کاش ہمارے ادارے طلباء کے حافظے کا امتحان لینے کے بجائے ان کی ذہنی وجسمانی نشو ونما پرتوجہ دیں، تاکہ طلباء کو تعلیم کے اصل مقصد سے روشناسی ہو۔ کاش یہ بچے “اپنا “پڑھنا چھوڑ کر اعلیٰ صحبتیں اختیار کریں۔ کاش ان بچوں کو کتب بینی کا شوق پیدا ہوا۔ کاش یہ بچے اس بات کا احساس کریں کہ ہمارے اجداد نے علم کی دنیا میں کتنی محنت کی ہے اور آج کے دور میں جدید سہولیات کے ہوتے ہوئے قدرے آسانی سے بہت سے علوم اور ہنر سیکھے جا سکتے ہیں۔

یقین جانیں، ہماری تنزلی کی سب سے بڑی وجہ یہ بچہ ہےجو “اپنا ” پڑھنا نہیں چھوڑ رہا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *