مشرق وسطی کچھ دہائیوں سے اک ایسی نئے طرز کی آگ میں جل رہا ہے، جس میں ریاستوں سے ہٹ کر بے شمار گروہ اور اسٹیک ہولڈرز ہیں، اور اس “نئے” مشرق وسطیٰ میں بدقسمتی ہے کہ عسکری گروہ (عملا ًوسائل کی بنیاد پر) اور سیاسی تنازعے کی تمام اہم قوتیں یا اسٹیک ہولڈرز عرب نہیں ہیں، بدقسمتی سے اس میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں ایران، اسرائیل اور ترکی سب سے زیادہ قابل فہرست ہیں۔ ہاں یہ بھی ہے کہ اس کے پس منظر میں واضح طور پر امریکی طاقت ہے۔ مزید ظلم کی بات ہے کہ لبنان و شام میں انہی تین ممالک نے اور فلسطینی عسکریت گروہوں نے ہر بربادی کی بنیاد رکھی، اور آج جنگ کا آخری باب اب فلسطین، یروشلم یا غزہ بھی نہیں رہا بلکہ اس کے بجائے اس کے دوسرے ابواب اور موڑ بھی شروع ہوچکے ہیں،
اس تمام قضیہ کا سب سے بھیانک چہرہ اسرائیل ہے، نیتن یاہو نئے مشرق وسطیٰ کے بارے میں اس طرح بات کرتا ہے، جیسے وہ اپنے گھر کے باغیچے کی توسیع یا حدود کی بات کررہا ہو، اس کے مقابل ایران بھی فلسطین کے بارے میں اسی طرح بات کرتا ہے، جیسے عرب غیر ملکی دخل اندازی کرتے ہیں۔ ترکی اپنے جغرافیائی دباؤ میں اپنا وقت نکال رہا ہے تاکہ اب تک جو کچھ ہوا ہے اسے خراب نہ کرے۔ آتش فشاں کی دہائی میں آج دہشت کا وہ تماشا شامل ہے جو کئی دہائیوں سے چھایا ہوا ہے، جوہری عنصر کے خوف سے تصادم کی گرمی یا سردی میں اضافہ ہوتا ہے، جو نہ صرف سونے اور تیل کی منڈیوں بلکہ آٹے کی منڈی میں بھی خوف پھیلانے کے لیے کافی ہے۔
اسرائیل نے میزائلوں، ڈرونز اور طیارہ شکن میزائلوں کی جنگ کے ساتھ ایران کے ساتھ اپنے تنازع کی نوعیت کو “حتمی محرک” کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے جو دونوں ممالک کے بڑے شہروں کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں۔ اسرائیلیوں نے جان بوجھ کر قم اور تہران کے قلب جیسی اہم نشانیوں کو نشانہ بنایا، اصفہان اور تبریز جیسے تاریخی شہروں کا رخ نہیں کیا۔ یہ لفظ کے ہر معنی میں ایک جامع جنگ ہے، غزہ کے زلزلے کے بعد سے جاری جنگ کے اندر، جو نیتن یاہو کی طرف سے تکبر اور ہٹ دھرمی کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں کے سلسلے میں بگڑ گئی ہے، جس کی ماضی کی جنگوں میں مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل کے جواب میں ایران کا حملہ ہفتے کی رات تل ابیب اور حیفہ کا ماحول آتش بازی کے مظاہرے جیسا دکھائی دے رہا تھا، لیکن زمین پر، یہ حقیقتاً ایک خونریز جنگ ہے۔
اسرائیل ایک طاقتور اور متکبر غاصبانہ کیفیات میں اپنے ہر مقابل آنے والے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ٹھان کر بیٹھا تھا،اسی گھمنڈ میں وہ ایران پر چڑھ دوڑا ،مگر اسے بالکل امید نہیں تھی کہ جوابی کاروائی اس کے لیے کس درجہ تکلیف کا باعث بنے گی، اسرائیل میں سویلین آبادی کے مرنے کا افسوس تو ہے مگر یہ افسوس اپنی اہمیت اس وقت زائل کر دیتا ہے، جب 70 ہزار انسانی جانوں اور غزہ میں لاکھوں گھرانوں، عمارتوں اور پورے انفرااسٹرکچر پر اس کی ظالمانہ بمباری دیکھیں، انسانی لہو میں ڈوبا غزہ ایسی ہولناک تصویر پیش کرتا ہے، جہاں کٹے پھٹے بچوں کے لاشے ان کے والدین اٹھائے ہوئے ہیں، جہاں پورے غضب میں شائد کوئی بھی ایسا خاندان نہیں ہے، جس نے اپنے گھر کا کوئی فرد نہ کھویا ہو، اس بے مہار اسرائیل کے خلاف یہ مزاحمت اسی لیے قابل قبول ہورہی ہے، کیونکہ اس صدی کی سب سے بدترین نسل کشی کا ذمہ دار بلاشبہ اسرائیل ہی ہے۔ اس سے شائد اسے کچھ ہوش آجائے ۔
یہ جنگ کس نتیجے تک پہنچتی ہے، نہیں معلوم، مگر آج ایران کی حمایت صرف اسی لیے ہے کہ وہ اس مرحلے میں مظلوم ہے، اس کا ظلم اپنی جگہ ہے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نیشن اسٹیٹ کے تصور میں ہی مشرق وسطی کا فیصلہ وہاں کے مقامی لوگوں یا ریاستوں کو ہی کرنا ہے، اس خطے کو کبھی بھی ترکیہ اور ایران کی پراکسیز سے امن نہیں ملے گا، لبنان و شام فلسطین میں عسکری گروہوں اور پروکسیز نے ہی بربادی کا ہر راستہ کھولا ہے۔ مشرق وسطی کے مقامی ریاستوں کو ہی مشرق وسطی کا فیصلہ کرنے دینا اسے قبول کرنا سب سے قابل عمل حل ہے، ہمارے ہاں کے مذہبی ان پراکسیز کے مظالم کو اور بدقسمتی سے ہمارے لبرل اسرائیل جیسے فاشسٹ کو نجانے کیوں گلیمرائز کررہے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں