امید کی طاقت اور سامراج کی شکست/سائرہ رباب

ایران حملے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر تین طرح کے بیانیے نمایاں نظر آ رہے ہیں: کچھ لوگ سامراج کے آگے بالکل بےبس اور مایوس ہیں، کچھ ایران کی مزاحمتی تاریخ اور موجودہ موقف کی تعریف کر رہے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو یا تو ایران کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں یا اسے عالمی تنہائی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان جو چیز یکسر غائب ہے، وہ یہ سوال ہے کہ بطور محکوم یا نیم خودمختار قومیں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم مسلسل عالمی سیاست میں کیوں پِس رہے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر ہمیں اس وقت کیا سوچنا، کہنا اور کرنا چاہیے تاکہ امید صرف جذبات نہ رہے، بلکہ شعور اور عمل کی شکل اختیار کرلے

پاؤللو فرارے کہتا ہے:
“امید کا مطلب انتظار کرنا نہیں، امید وہ لڑائی ہے جو بصیرت کے ساتھ لڑی جاتی ہے۔”

تاریخ گواہ ہے کہ سامراجی طاقتیں ہمیشہ ناقابل شکست دکھائی دیتی ہیں، لیکن وہ عوام کے شعور، اتحاد اور مزاحمت کے سامنے بالآخر ٹوٹتی ہیں۔ سامراج کبھی بھی ابدی نہیں ہوتا۔ ایران ہو، فلسطین ہو، یا کوئی اور خطہ ۔۔۔ سچائی کی طاقت اور عوامی شعور وقت کے ساتھ سامراج کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔ تاریخ میں سب سے بڑے سامراج برطانیہ، فرانس، سوویت یونین سب بکھر چکے۔ آپ مزاحمت، یادداشت، اور دانش کو جوڑے رکھ کر وقت کے ساتھ سامراج کو تھکادیتے ہیں۔

مزاحمت صرف بندوق سے نہیں ہوتی۔ وہ زبان سے ہوتی ہے، لفظ سے ہوتی ہے، تعلیم، شاعری، کہانی، اور بیانیے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن سے سامراج ڈرتا ہے، کیونکہ ان کو وہ ختم نہیں کر سکتا۔ سامراج تھکتا ہے جب عوام سوال اٹھائیں، جب نوجوان تاریخ کا سامنا کریں، جب ادیب مزاحمت لکھیں، جب ماں باپ بچوں کو غیرجانبدار نہیں بلکہ باخبر بنائیں۔

سامراج طاقت سے نہیں، وقت سے تھکتا ہے۔ جب امید بغاوت بن کر سامنے آنے لگے ، اور شعور عام ہو جائے ، تو سامراج کانپنے لگتا ہے۔ جب آپ ایک مسلسل، غیر متزلزل، عوامی شعور کی تحریک چلاتے ہیں تو وہ خوف میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ آپ قابو میں نہیں آتے۔ وہ پروپیگنڈے سے لڑنے لگتا ہے جب آپ اپنا بیانیہ خود بناتے ہیں۔ وہ اخلاقی شکست کھاتا ہے جب دنیا آپ کی مظلومیت کو پہچاننے لگتی ہے۔

سامراج کو تھکانے کے لیے جاننا ضروری ہے کہ اس کا مقابلہ بیانیہ، ثقافت، اور وحدت سے کیا جائے ۔ علاقائی، قومیتی اور نسلی تعصبات سے ہر صورت بلند ہونا ہوگا۔ تعلیم ایسی ہو جو آپ کے شناختی شعور کو بیدار کرے۔ ادب و ثقافت ایسی ہو جو غلامی کی جمالیات کے بجائے مزاحمتی اور مقامی جمالیات پیدا کرے، جیسا کہ نگوگی واتیانگو نے زور دیا۔

اتحاد نا گزیر ہے ۔ ملت کے اندر فرقوں، قوموں، اور طبقات کے مابین سامراجی دراڑیں بند کی جائیں۔ سوشل میڈیا پر سچ، حقیقت اور عوامی بیانیہ کا پھیلاؤ ہو۔ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ
“سچ بولنا ایک انقلابی عمل ہے جب جھوٹ عام ہو چکا ہو”

۔سامراج ہمیشہ میڈیا، تعلیم، اور مذہب جیسے اداروں کو قابو میں رکھ کر “جبر کو نارملائز” کرتا ہے۔ جب آپ سچ بولتے ہیں، تو آپ سامراج کی سب سے مضبوط دیوار پر ضرب لگاتے ہیں۔

مقامی مزاحمتی تحریکوں کو سپورٹ کیا جائے۔ ہماری کہانی ہم خود لکھیں، شعور کی جنگ لڑیں، عالمی تناظر میں ایران کی حقیقت عام کریں، فلسطین، یمن، لبنان، کشمیر جیسے بیانیوں کو مرکزی دھارے میں لایا جائے۔ انگریزی، اردو اور علاقائی زبانوں میں آگاہی پھیلائی جائے۔ ثقافتی مزاحمت کو زندہ رکھا جائے ، سامراجی زبان، لباس، رویے، اور احساسِ کمتری سے آزادی حاصل کی جائے۔ اپنی زبان، شاعری، موسیقی اور تاریخ کو بحال کریں۔

نظام کی مخالفت کریں، ریاست کی نہیں۔ اگر حکومت ظالموں کی حمایتی ہے، تو عوامی سطح پر آواز بلند کریں۔ عوامی دباؤ، مظاہرے، تحریری مہمات، اور بائیکاٹ کی تحریکیں منظم کریں۔

ایران کی حمایت کیسے کی جائے؟

جہاں تک ایران امریکا جنگ کا تعلق ہے تو ایران کی حمایت یا تنقید صرف ایک جذباتی ردعمل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک شعوری موقف ہونا چاہیے۔عالمی تناظر میں یہ صرف ایران اور اسرائیل کی جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے بیانیے اور مفادات کا تصادم ہے، جہاں ہر حملہ دراصل طاقت کے توازن کو نئی ترتیب دینے کی کوشش ہے۔ ایران کی مزاحمت اس وقت ایک ملک کی ضد نہیں، بلکہ سامراجی بالا دستی کے خلاف ایک عالمی علامت بنتی جا رہی ہے، جس کی زد میں آج مشرق وسطیٰ ہے تو کل کوئی اور خطہ ہو سکتا ہے۔ خود پاکستان بھی اس خطرے سے باہر نہیں.

کسی بھی سطح پر آواز اٹھائیں کہ ہم جنگ اور جارحیت کے خلاف ہیں۔ بائیکاٹ کریں ان برانڈز اور حکومتوں کا جو اس جنگ کے حمایتی ہیں۔ ایران کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بیانات، پوسٹرز، ویڈیوز، اور دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کریں۔

ایڈورڈ سعید نے خبردار کیا تھا:
“سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب محکوم ہار مان لیتا ہے اور ظالم کے مؤقف کو سچ ماننے لگتا ہے۔”

اسی لیے، اگرچہ آج مسلمان اور تیسری دنیا کے محکوم عوام کمزور نظر آتے ہیں، مگر جب سچ بولنے والے زندہ ہوں، مزاحمت کرنے والے قلم ہاتھ میں ہوں، اور سامراج کے مقابلے کا خواب دل میں ہو، تو دنیا کے نقشے بدل سکتے ہیں۔

آج ہمیں نہ صرف امید کو زندہ رکھنا ہے، بلکہ اسے تنظیم، اخلاقی جرات، اور فکری پختگی سے جوڑنا ہے۔ خاموشی سے آنسو بہانا ، بددعایں دینا بے سود ہے ، اسکی بجاۓ سوال اٹھانے ہیں۔ نہ صرف احتجاج کرنا ہے، بلکہ متبادل فکر، متبادل میڈیا، متبادل نصاب، اور متبادل سیاست کی طرف بڑھنا ہے۔

julia rana solicitors

امید وہ وقت ہے جو ہمیں اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے۔ اور اگر ہم نے یہ نہ کیا، تو ہم وہ نسل ہوں گے جس نے ظلم کے وقت قلم رکھ دیے، اور سچائی کے لمحے میں خاموشی اختیار کی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply