میں لبرل کیوں نہیں؟-یاسر جواد

ہمارے زیادہ تر لبرلز فرار پسند ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ریاست پہلے ہر شعبے میں مذہبی مداخلت ختم کرے، ہمیں بولنے کا موقع دے، ہماری بات سنے، تب ہم بتائیں گے کہ معاشرہ کیسا ہونا چاہیے۔ دریں اثنا وہ مقدس مہینوں رمضان اور محرم یا مقدس تہواروں کے دنوں میں بڑے سرگرم ہونے لگتے ہیں۔ دوسری طرف دائیں بازو کے لوگ اُنھیں لبرل دہشت گرد یا دیسی لبرلز کہہ کر تضحیک اور نفرت کا نشانہ بناتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی فراریت پسند ہیں۔ ایک صرف سوال اٹھانا فرض سمجھتا ہے تو دوسرا صرف بنے بنائے مافوق الفطرت جوابات دینا۔ دونوں کی روشن خیالی کے دشمن ہیں۔
ایک پوسٹ میں وضاحت کی تھی کہ لبرل ازم ایک اخلاقی فلسفہ ہے، اِس لیے اِس پر لڑنے والے بھی اخلاقی وار کرتے ہیں۔ لبرل ازم ذمہ داری سے ایک فرار بھی ہے، اور ہمارے ہاں یہ نراجیت یا انارکزم کے قریب قریب پہنچ چکا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر اپنی راہ گم کر چکے ہیں۔ مثلاً اندرون یا دیہی سندھ والے کراچی کے خلاف ہیں، زیریں اور دیہی پنجاب والے لاہور اور پنڈی کے خلاف۔ ذرا کبھی گجرات یا جہلم جیسے شہر جا کر دیکھیں، آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ شہر کس قدر پست اور بے کیف ہیں۔
آج کے دور میں حالات کی پسماندگی ہمارے ذہن کی صلاحیتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ کو پوٹھوہار کا غالب یا چکوال کا میر جیسے القابات بھی سننے کو ملیں گے۔ اب یہی معاملہ ہمارے لبرل دوستوں کے حلقوں میں بھی در آیا ہے۔ جب سامنے کی کوئی راہ نظر نہ آتی ہو تو ہم امیبا کی طرح تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر دوست اپنی آزادیوں اور غیر ذمہ داریوں کو پناہ دینے کے چکر میں لبرل ہیں، نہ کہ کسی تخلیقی کام یا نظریے کی وجہ سے۔ بالکل اُسی طرح جیسے کوئی رقاصہ چٹکی کاٹے جانے پر فیمنزم کی آڑ لے یا خواجہ سرا LGBTIQ کا جھنڈا اُٹھا کر کھڑا ہو جائے، یا کوئی تنقید نگار تقریر آنے کی وجہ سے پوسٹ ماڈرن ازم وغیرہ کی جھک جھک کرنے لگے۔ (ویسے لبرل ازم کا وائرس پوری فیمنسٹ تحریک کو کھا گیا)۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ خود کو لبرل کہنے والے لوگ سوشلزم پر سب سے بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود کبھی سوشلسٹ نہیں رہے ہوتے۔ ذرا سوچنا چاہیے کہ آپ کو دنیا نئے سرے سے بنانے کا کہا جائے تو آپ کن اصولوں پر بنائیں گے؟ کیا آپ سماجی انصاف، برابری وغیرہ کے اصول لاگو نہیں کریں گے؟ تب آپ کا اپنا لبرل ازم کسی کام نہیں آئے گا۔

Facebook Comments

یاسر جواد
Encyclopedist, Translator, Author, Editor, Compiler.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply