وقوف عرفات حج کے اہم ترین مناسک میں سے ایک ہے اور اس کے بغیر حج کی ادائیگی نہیں ہوتی۔لاکھوں مسلمان اس موقع پر میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ اس موقع پر مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ دیا جاتا ہے۔ یہ خطبہ رسول اللہ ﷺکی پیروی میں دیا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے بھی اپنے آخری حج کے موقع پر میدان عرفات میں خطبہ دیا تھا۔پیروی کے لحاظ سے تو بلاشبہ یہ اسی خطبے کا تسلسل ہوتاہے لیکن روح کے اعتبار سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ وہ دل سے دیا گیا تھا اور یہ محض حلق سے دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا بھی کی جاتی ہے۔ اسی رسم پر عمل کرتے ہوئے اس سال بھی دعاکرتے ہوئے مسجد الحرام کے امام صاحب نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ وہ فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرمائے، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والوں کو برباد کرے اور ان کے قدم اکھاڑے وغیرہ وغیرہ۔
1446ہجری کے اس خطبہ کا 10ہجری کے خطبہ سے موازنہ کریں۔1446ہجری کے خطبے میں اور 10ہجری کے خطبے میں سوائے مقام اور دن کے کسی چیز کی بھی مماثلت نہیں۔اندازہ کریں کہ وسائل سے مالا مال اور مسلم دنیا کی قیادت کے اکلوتے دعویدارہونے کے ملک کے اہم عہدوں پر فائز مذہبی افراد بھی اتنے بے بس ہیں کہ سوائے دعا کے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ دعا بھی ایک رسم بن چکی ہے۔ جہاں تک زمینی حقائق کی بات ہے، اہل فلسطین بالکل تنہا ہیں اور اپنی اپنی صلیب اٹھائے مقتل کی جانب رواں دواں ہیں۔ ان کی لاچارگی اور بے بسی پر کسی کو رحم نہیں آتا۔ اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھاتے اٹھاتے وہ خود زندہ لاشیں بنتے جارہے ہیں۔ سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کے لیے قرارداد پیش کی جاتی ہے تو امریکہ بہادر ویٹو کردیتا ہے۔ کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ وہ امریکہ بہادر سے اس ظلم کی باز پرس کرے۔ کیا کوئی مسلمان ملک امریکہ کو ویٹو پاور استعمال کرنے سے روک سکتا ہے؟ جنھوں کی ٹرمپ بہادر کی خوشنودی کے لیے رقص پیش کیے،لگژری جہاز گفٹ کیے، اربوں کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے، ان میں اتنی بھی جرات نہیں کہ ہاتھ باندھ کرہی سہی، امریکہ بہادر سے کہہ دیں کہ اپنی ناجائز اولاد صیہونی ریاست کو نہتے اور بے کس مسلمانوں پر ظلم کرنے سے روکے۔ غزہ قبرستان بن چکا ہے۔ کوئی عمارت سالم نہیں بچی۔ کوئی خاندان ایسانہیں رہا جس کا کوئی نہ کوئی فرد صہیونیوں کی درندگی کا نشانہ نہ بنا ہو۔جو گولیوں سے بچ گئے وہ بھوک سے مررہے ہیں۔ لیکن ہم یہاں بیٹھے صرف ان کے لیے دعا کررہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ مسلم ریاستوں پر چن چن کر وہ حکمران خاندان مسلط کیے گئے جن کو خوف صرف امریکہ کا ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ اگر امریکہ ان سے ناراض ہوگیا تو ان کا اقتدار نہیں بچے گا۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلم دنیا اس قدر بے بس ہوچکی ہے کہ انھیں اہل غزہ کی چیخیں اور پکاریں سنائی ہی نہیں دے رہیں۔اگر آپ ان کی مدد نہیں کرسکتے یا کرنا نہیں چاہتے تو خدا کے لیے ان کے لیے دعا بھی نہ کریں۔ انھیں مرنے دیں۔ انھیں صہیونی درندگی کا شکار ہونے دیں۔ اگر وہ اس درندگی سے بچ جائیں تو انھیں بھوک سے مرنے دیں۔آپ دعائیں کرکے خود کو بری الذمہ نہ قرار دیں۔ہم بے بس نہیں ہیں۔ ہم بے بس بننے کی ایکٹنگ کررہے ہیں کیونکہ ہم بزدل ہیں۔ بے بس اہل غزہ ہیں اور بہادر بھی وہی ہیں جو اب تک صہیونی درندگی کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ چلیں ہم سب اپنی باری کا انتظارکرتے ہیں جو ہماری بزدلی کی وجہ سے آکر رہے گی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں