تبدیلی آگئی ہے ۔۔۔محمود چوہدری

لوگ اس کا مذاق اڑاتے رہے ، جملے کستے رہے ، اسے” فیس بک کا وزیر اعظم“ جیسے طعنے دیتے رہے ۔ ناتجربہ کار ، سیاست کے داﺅ پیچ سے نا آشنا جیسے طنز کے تیر چلاتے رہے ۔ اس کے ذاتی کردارکو نشانہ بناتے رہے لیکن وہ اپنی دھن میں مگن رہا ۔ اس نے کسی جملے، کسی پھبتی ،کسی طنز کو در خوراعتنا نہ سمجھا ۔دوسری جانب مایوسی پھیلانے والے دانشور اس ملک کے لئے جمہوری نظام کوہی غیر موزوں گردانتے رہے ۔ ان کا خیال تھا کہ اس ملک کے اقتدار پر جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اوروڈیروں کا قبضہ ہے یہاں کسی بھی نئے چہرے کے مسند اقتدار پر آنے کی کوئی گنجائش نہیں لیکن عمران خان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر کسی بھی مقصد کے لئے آپ کی لگن پکی ہو تو کامیابی سے آپ کو کوئی روک نہیں سکتا۔عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھا لیا ہے اورتاریخ میں اپنا نام لکھوا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کے لئے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔

معروف برازیلین مصنف پاﺅلو کویلو اپنی شہرہ آفاق تصنیف الکیمسٹ میں لکھتا ہے کہ اگر آپ دل سے کسی چیز کو چاہو تو ساری دنیا آپ کو اس سے ملانے کی سازش میں شامل ہوجاتی ہے ۔آج آپ عمران خان کی کامیابی کوبے شک نادیدہ قوتوں کا شاخسانہ قرار دے لیں ۔اپنی تاویلوں ، دلیلوں اور بحثوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر لیں کہ یہ مینڈیٹ جعلی ہے ۔ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ،یہ کسی خلائی مخلوق کی کارستانی یا کسی ایمپائرکی ریشہ دوانی ہے۔مگر آپ کی یہ دلیلیں محض باتیں ہیں حقیقت اس وقت یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کا وزیر اعظم بن چکا ہے ۔وہ تاریخ کے صفحوں میں بطور وزیر اعظم پاکستان اپنا نام لکھوا چکا ہے ۔اب اس کے مخالفین صرف کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ سکتے ہیں لیکن آج کے اس جدید ترین دور میں ان کا یہ بیان اپنی موت آپ مر گیا ہے کہ سارا گاﺅں بھی مرجائے پھر بھی کسی عا م شہری کابچہ نمبردار نہیں بن سکتا۔

عمران خا ن پر نادیدہ قوتوں کی مدد کا الزام لگانے والی سیاسی پارٹیوں نے شاید کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت گوارہ نہیں کی ہے کہ ان کی اپنی سیاسی جدو جہد کے آغاز سے لیکر کامیابی تک کا سفر ایسی ہی پگڈنڈیوں سے ہو کر گزرا ہے انہیں بھی ایسی ہی بیساکھیوں اور سہاروں کی ضرورت درپیش رہی ہے ۔ اور اگر وہ اس نظام کو تبدیل نہیں کر سکے تو یہ ان کی اپنی سیاسی ناکامی ہے ۔ عمران خان کی کامیابی میں صرف بیرونی عناصر ڈھونڈنے والے کیا اس حقیقت سے نظریں چرانا چاہتے ہیں کہ انتخابات سے پہلے بھی پاکستان تحریک انصاف بطور سیاسی پارٹی اپنا وجود منوا چکی تھی ۔ کیا عمران خان بطور سیاستدان ہر دلعزیز شخصیت نہیں بن چکے تھے ۔ کیاان کے لاکھوں چاہنے والے نہیں ہیں کیا ان کا اپنا  کوئی ذاتی ووٹ بنک نہیں ہے ،کیا سوشل میڈیا سے لیکر عام گلی محلوں تک اس کے فالورزموجود نہیں ہیں ، کیا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں ان کی جماعت سب سے زیادہ پاپولر نہیں ہے ۔ کیا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد ان کے سیاسی جلسوں ، دھرنوں اور انتخابی مہم میں شمولیت کے لئے پاکستان نہیں گئی ہے

کوئی بھی غیر جانبدارنہ تجزیہ یہ ثابت کر ے گا کہ اس وقت سیاسی طور پرسب سے باخبرکارکن عمران خان کا ہی ہے ۔ اس پارٹی کا سوشل میڈیا ونگ متحرک ہے ۔وہ دلیل کے ہتھیار سے لیس ہیں ۔ وہ پراپیگنڈہ کا جواب دے سکتے ہیں وہ بحث کر سکتے ہیں ، وہ جنون کی حد تک اپنے لیڈر کی محبت میں گرفتار ہیں ۔ وہ حالات حاضرہ کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ سیاستدانوں کی کرپشن اور بددیانتی کواپنی بحث کا موضوع بناتے ہیں وہ وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی بات کرتے ہیں وہ پروٹوکول کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ وہ پاکستانیوں کی لوٹی ہوئی دولت پر بے رحم احتساب کی بات کرتے ہیں ۔تمام دیگر سیاسی کارکنوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے کارکنان اپنی پارٹی پالیسیوں کاسب سے زیادہ دفاع کرنے والا ہے ۔ اس لئے عمران خان کی کامیابی کو محض جعلی مینڈیٹ قرار دینا زیادتی ہے

عمران خان کی بطور وزیر اعظم کامیابی سے کچھ پہلو واضح ہوئے ہیں جو پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں سنگ میل ثابت ہوں گے جن میں سب سے پہلا نقطہ یہ ہے کہ پاکستانی ووٹر کو اب اپنے لیڈر کی ذاتی زندگی میں انفرادی معاملات سے خاص دلچسپی نہیں ہے ۔ ان کے لیڈر کا امیج پلے بوائے کا ہو یا اس کی زیادہ شادیاں موضوع بحث ہوں ۔ ا س کے کردار کے خلاف کتابیں منظر عام پر آجائیں یا اس کاگھر کئی سو کنال پر مشتمل ہو ۔اس کے گھر میں کتے پلتے ہوں یا پھر اس کا دینی علم واجبی ہو ۔وہ ٹریک سوٹ پہنتا ہویا چولہ ،عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عوام یہ دیکھتی ہے کہ ان کا لیڈر ان کی بنیادی ضروریات اور ان کے مسائل کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ ۔

عمران خان کی کامیابی میں دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ ہمارے بزرگ سیاستدانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ انہیں اپنے ووٹروں کا مزاج سمجھنے میں بہت بڑی غلطی ہوئی ہے انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ملک میں ایک نئی نسل تیزی سے جوان ہو گئی ہے اور وہ یہ پسند نہیں کرتی کی اقتدارمیں موروثیت جاری رہے ، وہ بڑا بھائی وزیر اعظم ،چھوٹا بھائی وزیر اعلی اور پھر ان کے بچوں کو نئی قیادت کے طور پر پسند نہیں کرتے ان کے ذہن میں اس تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ باپ کے بعد بیٹاحکمران بن جائے ۔ ہمارے سیاسی قائدین نے اپنی اپنی جماعتوں میں ایک قسم کی آمریت کو فروغ دیا ہواہے ۔ انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر ضروری سمجھاجاتا ہے ۔ پارٹی میں فیصلہ سازی کے مراحل میں کارکنان تو درکنار منتخب نمائندوں کے مشورہ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور قائدین پارلیمنٹ میں حاضر ہوناتک غیر اہم سمجھتے ہیں ۔

عمران خان کی کامیابی میں تیسرا اہم نقطہ یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستانی قوم اب ملک میں سیاست میں بھی جدت چاہتی ہے وہ سیاست کے کھڑے پانی میں ارتعاش چاہتی ہے ۔ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے ، لوگ یورپی سیاستدانوں کو سائیکل پردفتر جاتے دیکھتے ہیں تو ا ن کے سیاسی شعور پر بھی دستک ہوتی ہے ۔ کارکن ہر قسم کے سیاسی فیصلوں میں عوام کی رائے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں اسی لئے پی ٹی آئی کے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم سے لیکر اہم وزارتوں کے سونپے جانے تک کے معاملات میں بھی اس کے کارکنان نےعمران کے گھر کا گھیراﺅ کیا ۔کارکنان میں سوال کرنے کا کلچر پیدا ہوا ہے ۔وہ ہر سیاسی امیدوار کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اس کی سابقہ سیاسی جدو جہد ، اس کی کرپشن اس کے اوپر چلنے والے کیسوں کا کچا چٹھا سامنے لاتے ہیں

ان انتخابات میں چوتھا اہم نقطہ یہ ثابت ہوا ہے کہ کارکنان مذہب کے معاملے میں اعتدال پسندی کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ایسی سیاسی پارٹیاں جو مذہبی کارڈ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں وہ ناکام ہوگئی ہیں پاکستان دوبارہ اپنے بانی پاکستان کی حکمت عملی کی جانب لوٹ رہا ہے ۔مذہب عوام کا انفرادی معاملہ ٹھہراہے ۔عوام نے انتہا پسندی کو رد کر دیا ہے ۔ انہوں نے اقتدار ان ہاتھوں کو سونپا ہے جو جدید معاشرے کے تقاضوں کو بھی پورا کرے اور دین اسلام کے معاملے میں بھی اعتدال کی راہ پر گامزن ہوں انہوں نے دیکھا کہ عمران خان نماز بھی پڑھتا ہے اور اولیا ءاللہ سے عقیدت بھی رکھتا ہے ۔وہ مدینے کے سفر میں جوتے اتار کر چلتا ہے ۔ عاجزی اختیار کرتا ہے ۔ اور اپنی شادی کے لئے ایسی خاتون چنتا ہے جوباپردہ ہے اور جو روحانیت کی جانب راغب ہے ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان کی کامیابی پاکستانی سیاست کا نقشہ تبدیل کر دے گی ۔ عمران خان نئی نسل کے لئے ایک امید نوبن کر سامنے آیا ہے ۔ جو عناصر یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ یہ قوم ڈنڈے سے ہی صحیح ہو سکتی اس نظام سیاست میں کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا انہیں ناکامی ہوئی اور اس ملک میں نئی قیادت سامنے آئی ہے ۔ ا ب عمران خان پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کے نوجوان طبقے کو سیاست میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع دے ۔ سیاست کے میدان میں چند خاندانوں کا قبضہ چھڑوائے ۔ ملک میں بلدیاتی نظام لیکر آئے تاکہ گراس روٹ لیول تک سیاسی اثرات پہنچیں ۔ سکولوں اور کالجوں میں طلباءیونینز کو سرگرم کرے ۔ ملک میں ٹریڈیونین کو متحرک کرے تاکہ ملک میں جمہوری کلچر کی نمو ہو اور نئی قیادت سامنے آسکے ۔

سوا ل کرنے کا جوکلچرعمران خان نے متعارف کرایا ہے  اس کا خمیازہ خود ا سکو بھی بھگتنا پڑے گا ۔ خود اسے بھی اپنے کارکنان کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اب اس کا امتحان ہے کہ اصل منزل اونچائی تک پہنچنا نہیں ہے بلکہ وہاں جا کر عملی اقدامات کرنا ہے۔

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *