جنگ اُن بدترین بد بختیوں میں سے ایک ہے جو کسی ملک پہ نازل ہوسکتی ہیں۔ جنگ کے لیے ساری پر جوشی ، اور سارے نغمے ، ترانے نسلِ آدم کے خون پہ ہی منتج ہوتے ہیں۔ جنگی دیوتا ایریز کا جہاں سے گزر ہوا وہاں وہ آہیں، میتیں ،ماتمیں چھوڑ گیا۔ جنگ بڑے پیمانے کی تباہی لاتی ہے ، انسانی دکھ ساتھ لاتی ہے ، معاشی بے ہوشی لاتی ہے اور عالمی عدم استحکام ساتھ لاتی ہے ۔ جنگ کروڑوں لوگوں کے لیے درد، تباہی اور خوف لاتی ہے ۔ ۔۔افراتفری لاتی ہے۔
مگر یہ جنگیں چھیڑتا کون ہے ؟ ۔مزدور کسان ، چرواہے ، اور ماہی گیر یعنی عوام تو کبھی جنگ نہیں چھیڑتے ۔ غریب کا نہ ان جنگوں میں کوئی مشورہ ہوتا ہے نہ کوئی مفاد ۔اُسے تو بس میدانِ جنگ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ جنگ تو ہمیشہ صنعتکار، بزنس کلاس، بلند ترین بیوروکریٹ ، جمہوریت کا بیوپار کرنے والے سیاست دان، جاگیردار ، انٹلیکچوئل الیٹ ،اور آرمڈ فورسز کے اعلیٰ ترین افسران چھیڑتے ہیں۔ یعنی حکمران طبقات جنگ چھیڑتے ہیں۔
یہ لڑائیاں ”ظالم و مظلوم “کے درمیان نہیں بلکہ ”ظالم و ظالم “کے درمیان والی لڑائیاں ہوتی ہیں۔ دونوں طرف کی بورژوازی منافع کے ذرائع تلاش کر رہی ہوتی ہے ،اپنے موجودہ اقتدار اور مراعات کو بچانے کے لیے جنگ میں کُودتی ہے۔
چنانچہ یہ جنگیں بظاہر خواہ قوموں یا مذاہب کے درمیان نظر آتی ہوںلیکن درحقیقت یہ سیدھا سیدھا سرمایہ دار طبقوں کے درمیان ہوتی ہیں۔
جنگ میں جنگ چھیڑنے والوں کو توکچھ نہیں ہوتا ۔ مگر اسے بھگتتے وہ ہیں جنہوں نے جنگ شروع کرنے کے حکم پر دستخط نہیں کیے ہوتے ۔یہ عام انسان ،ان جنگوں میںصرف مرتا ہی نہیں ہے بلکہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی قحط، مہنگائی، بربادی اور ریاستی جبر کا پہلا نشانہ بھی بنتا ہے۔ عوام جنگ سے پہلے بھی بھوک، بے روزگاری اور استحصال کی چکی میں پِس رہے ہوتے ہیں ،جنگ کے دوران بھی ،ماتم ، نقل مکانی اور بھوک سہتے ہیں اور جنگ کے بعد کی زندگی میں بھی، ٹیکسوں ، مہنگائی اور بھوک کا شکار ہوتے ہیں۔
حکمران طبقات اچانک جنگ نہیں چھیڑتے ۔انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کوئی جنگ شروع ہی نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس میں وہاں کے عوام میں اس کی بھرپور قبولیت نہ ہو۔ چنانچہ وہ عوام کے اندر دو چیزیں پیدا کرتے ہیں:مخالف ملک کا خوف اور اس کے خلاف نفرت ۔ ان دو نکات پہ وہ تقاریر ترانے ، اور گانے بنواتے ہیں،مین سٹریم میڈیا پہ قبضہ کرتے ہیں ، اخباروں میں لمبے چوڑے اشتہار چھپواتے ہیں اور اپنے زرخرید اینکروں کے میلے سجاتے ہیں ۔خوف تو حکمرانی کے لیے وٹامن کا کام دیتا ہے ۔ اور عوام میں مخالف ملک کے خلاف کی نفرت اس کے لیے امرت دھارا ہوتا ہے ۔حکمران عوام کے اندر ان دو باتوں کو بہت پختہ کرنے کے بعد ہی جنگ شروع کرتے ہیں۔
یہ حکمران طبقات مخالف ریاست کے ہر اقدام کو “جارحیت” قرار دیتے ہیں۔ یہی منافقت کپٹلسٹ سیاست کا بنیادی ستون ہے۔
اس کے لیے وہ ” ہم گھاس کھائیں گے “جیسے فقرے مشہور کراتے ہیں۔ ”ہزار سال تک لڑیں گے “ جیسی احمقانہ مگر جذباتی تقریریں کریں گے ۔ ”شاندار ماضی“ اور ”قومی سلامتی “ بھی بورژوا جنگی طبقات کے دو اہم الفاظ ہیں جنہیں بار بار دھرایا جاتا ہے ۔مذہب کو خوب استعمال کیا جاتا ہے ۔جنگی بورژوا عزائم کو جب مذہب، قوم پرستی ،یا قومی سلامتی کے پردے میں لپیٹ کر عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے تو یہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے ۔ عوامی جذبات بہت بھڑک جاتے ہےں اور نچلے طبقے کو ، جو کسی بھی قوم کی اکثریت پر مشتمل ہوتا ہے، جنگ کے ایندھن کے بطور استعمال کیا جاتا ہے۔
اینکرز اور تجزیہ نگار جنگی جنون کے طبلچی بن جاتے ہیں۔فرضی خبریں اور جذباتی بیانات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا کھیل جاری رہتا ہے ۔وہ دوسرے ملک کے خلاف اکساتے ہیں ۔مزدور ،کسان، اور عام آدمی کے سینوں میں حب الوطنی اور دوسرے ملک سے نفرت بھری جاتی ہے ۔
اس صورت میں پروپیگنڈہ کے زور سے عوام سے سرکار کی چھیڑی جنگ کو اپنانا ہی پڑتا ہے ۔ویسے بھی اس جنگ سے اختلاف کرناگمشدہ ہوجانا ہوتا ہے ،یا غدار ہونا ہوتا ہے ، یا پادریوں ملاﺅں حتیٰ کہ کرائے کے قاتلوں کو اپنے پیچھے لگانا ہوتا ہے ۔
جنگی ممالک بہت استاد ہوتے ہیں ۔ جب بھی سامراجی ملکوں میں ”محکمہ دفاع “یا ”وزیر دفاع “نامی لفظ سنائی دیں تو بے اختیار ہنسی نکلتی ہے ۔ مثلاًامریکہ نے آج تک صرف حملے ہی کیے ہیں مگر محکمہ کا نام ہے ”دفاع“۔یہ خود کو ”محکمہ جنگ “ کبھی نہیں کہتے ۔
جنگباز حکمران ہمیشہ ماضی میں پھنسے ہوتے ہیں ۔ یہ جب بھی حکومت چلانے میںناکام ہوتے ہیں تو آس پاس جنگ چھیڑتے ہیں ۔ اور جنگ کا ایک قانون ہے کہ اگر آپ نے ایک بار جنگ چاہی تو جنگ آپ کو بار بار چاہتی رہے گی۔
جنگ اس لیے بھی چھیڑی جاتی ہے کہ سرمایہ دار ریاست اپنے اندرونی وسائل کو مکمل طور پر نچوڑ لیتی ہے ۔جنگ کر کے وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں، مزید قرض لیتے ہیں اور مزید امداد حاصل کرتے ہیں ۔
حالیہ زمانے میں فوجی صنعت کو بہت بڑے پیمانے پر ترقی ملی ۔جنگیں یاخانہ جنگیاں پیدا کرنے، اور جنگوں کو طول دینے میں اس ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔فوجی صنعت ہمہ وقت نئے نئے تنازعات اور جنگیں پیدا کرنے کی راہیں نکالنے میں لگی رہتی ہے۔ ہم سنتے تھے کہ ایٹم بم بنایا تو آپ عام کنونشنل جنگوں سے چھٹکارا پائیں گے ۔ مگر ہم نے دیکھا کہ ملٹری انڈسٹریل کپلیکس اس کے باوجود جنگیں چھڑواتا ہے ۔
بعض اوقات جنگیں براہِ راست معاشی مفادات کے لیے نہیں بلکہ دولتمندطبقے کے سیاسی مفادات کے لیے بھی چھیڑی جاتی ہیں۔ ایسی جنگوں کا مقصد عوام کی توجہ داخلی بحرانوں سے ہٹانا، عوامی تحریکوں کو کچلنا، ریاستی جبر کو جواز دینا، یا حکمران طبقے کے اقتدار کو مستحکم کرنا ہوتا ہے۔
کپٹلزم میں عدم مساوات طبقاتی کشمکش پیدا کرتا ہے ۔کچلے ہوئے غریب طبقات حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بہت زور دار تصادم جنم لیتے رہتے ہیں۔اسے طبقاتی جدوجہد یا انقلابی جنگ کہتے ہیں ۔شاید یہ واحد ،فطری ، ہوم گرون، بنیادی، حقیقی اور جائز جنگ ہے۔
مختصر یہ کہ کپٹلزم میںجنگیں لازمی ہوتی ہیں ۔ سرمایہ دار کے مفادات ،جنگوں کے بغیر برقرار رہ ہی نہیں سکتے ۔ایسی ساری جنگیں حکمران طبقات کے مفاد کے لیے ہوتی ہیں۔یہ جنگیں معاشی بحران کو ٹالنے، ہتھیاروں کی تجارت کو فروغ دینے، اور سماجی بغاوتوں کو دبانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اچھے سیاسی ورکر کو دیہ دیکھنا ہے کہ یہ جنگ کن طبقات کے مابین لڑی جا رہی ہے۔ ماسوائے انقلابی جنگ کے باقی ساری جنگیں بے انصاف ہوتی ہیں، عورت دشمن ہوتی ہیں ،عصمت وغیرت وحمیت کے خلاف ہوتی ہیں ۔برائیوں کی جڑ ہوتی ہیں ۔
بالائی طبقات کی چھیڑی ہوئی جنگ رجعتی اور سامراجی ہوتی ہے اس لیے کہ اسے سامراجی، اور رجعتی بورژوازی کے دو عالمی گروہ لڑ رہے ہوتے ہیں ۔
اُن جنگیاتی ممالک کے غریب عوام امن کا مطالبہ کریں ، ڈائیلاگ کا مطالبہ کریں ۔ وہ دوسرے ملک کے عوام سے یک جہتی اور دوستی کی بات کرےں ۔ وہ خود بھی اور دوسرے ملک کے عوام کو بھی دشمنی کی آگ میں ملوث نہ ہونے دیں ۔ وہ بورژوا جنگ میں کود جانے کے بجائے اس بربریت سے نکلنے کے لئے فضا تیار کرنے کی کوشش کریں ۔
محنت کش طبقے اور اُن کی پارٹی کو ان جنگوں میں اچھل اچھل کر، فرمائشی حمایتوں مذمتوں میں گھس جانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ وہ ہمیشہ یہ سوچے کہ کہیں وہ شاونسٹ تو نہیں بن رہا۔ہر ملک کے عوام کو کپٹلزم کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ پہ ہی توجہ دینی ہے ۔
اور ہاں! کپٹلسٹ حکومتوں کی چھیڑی جنگ صرف اور صرف مزدوروں کے انقلاب سے ختم ہوسکتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں