رابی پیرزادہ ! یہ تم نے کیا کر دیا ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے عین درمیان جب قلمکاروں کے اذہان میں ہر وقت میڈیا پر موجود خبروں پر تجزیات کرنے میں مصروف رہتا ہے, عین اس کے بیچ رابی پیرزادہ کی نہاتے وقت کے 3 ویڈیو کلپس اور بیڈروم میں ایک ذاتی کلپ لیک ہونے نے کھلبلی مچا دی- رابی پیرزادہ سے راقم کا ہرگز کوئی تعارف نہیں رہا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سفر کے دوران یا کسی محفل میں اگر رابی سامنے بھی بیٹھی ہو تو راقم اسے پہچان بھی نہیں سکے گا- رابی پیرزادہ کا نام بطور گلوکار معلوم ہونے کے باوجود بھی اس کے بارے میں ذہن میں پہلی جھنجھلاہٹ اس وقت ہوئی جب سوشل میڈیا پر نمائشی خود کش جیکٹ پہنے انڈین وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی کو دھمکی دیتے ہوئے اس کی ایک فوٹو نظر سے گزری- اس فوٹو کو دیکھ کر بے اختیار یہ نکلا کہ اس بھونڈی حرکت سے انڈین سوشل میڈیا کو دنیا بھر میں ہمارا ٹھٹھہ اڑانے کا موقع مل جائے گا کہ “دیکھا, ہم نے کیا کہا تھا کہ پاکستانیوں کا کوئی بھروسہ نہیں- ان کا کوئی بھی فرد کبھی بھی خود کش بمبار بن سکتا ہے”- دنیا میں ہمارے پاسپورٹ کی پوزیشن صرف عراق, یمن, سوڈان اور صومالیہ جیسے ممالک سے کچھ بہتر ہے اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ جنرل ضیاء اور جنرل حمید گل کی دنیا بھر پر غلبہ پانے کی وہ آگ ہے جو اوروں کی بجائے ہمیں ہی بھسم کر رہی ہے- اس آگ سے جنرل ضیاء اور جنرل حمید گل کی اولاد تو بالکل محفوظ ہے اور اربوں روپے کی جائیدادوں کے ساتھ اسی زندگی میں جنت کی طرح عیش و عشرت سے زندگی گزار رہی ہے جبکہ ان کے دہشت گردانہ نظریات کی پیروی کرنے والوں نے اپنے ساتھ ساتھ دنیا بھر کو جہنم بنایا ہوا ہے-

رابی پیرزادہ کی اس بےوقوفانہ فوٹو کے بعد دوسری دفعہ دوبارہ اس وقت وہ راقم کی نظر میں آئی جب پتہ چلا کہ نیلم منیر کے آئٹم سونگ اور ٹھمکوں پر اس نے تنقید کی ہے- اس کے بیان سے کچھ ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ نیلم منیر کو یہ موقع دئیے جانے پر دل گرفتہ ہے اور اس کی یہ خواہش تھی کہ یہ موقع اسے دیا جاتا تاکہ وہ گانا گاتے ہوئے اس پر زیادہ اچھے طریقے سے ٹھمکے لگاتی- رابی پیرزادہ کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو اس کے بارے جاننے والے کچھ واقفان حال نے بتایا کہ رابی پیرزادہ مسلسل اور متعدد کوششوں کے باوجود پاکستان کی نمبر ون سیلیبریٹی بن سکنے میں ناکام رہی ہے- اس کی بہت کوشش ہے کہ وہ خبروں میں رہے, اس لئے وہ متنازعہ بیانات بھی دینے کی عادی ہے جن کا موضوع عام روایت سے ہٹ کر ہوتا ہے تاکہ اسے نمایاں حیثیت مل سکے- (واضح رہے کہ متنازعہ بیانات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ جھوٹے ہیں- وہ سچے بھی ہو سکتے ہیں- مگر اصل بات یہ ہے کہ صرف شہرت اور اہمیت حاصل کرنے کے لئے بولے گئے زہر آلود سچ کی بجائے مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہوتا ہے)-

مثال کے طور پر پاکستان میں “می ٹو” مہم کی مخالفت کرتے ہوئے رابی پیرزادہ نے پچھلے سال 2018ء کی دوسری سہ ماہی میں یہ کہا تھا شوبز میں اسے مردوں کی نہیں بلکہ عورتوں کی طرف سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا- اس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ “مجھے یہ بتاتے ہوئے بالکل برا نہیں لگ رہا کہ شوبز میں مجھے کسی مرد نے نہیں بلکہ خواتین نے ہراساں کیا ہے۔ مجھے یہ پتہ نہیں تھاکہ خواتین بھی ایسا کرسکتی ہیں اور جب مجھے سمجھ آیاکہ یہ خواتین کا پیار نہیں ہے بلکہ کچھ اورہے تو میں ان سے دورہوگئی”۔ رابی پیرزادہ نے مزید کہا کہ لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے خواتین کی طرف سے خود کو ہراساں کرنے کا مؤقف سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنایا ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے- اگر مجھے شہرت چاہیے ہوتی تومیں کسی مرد پر ہراساں کرنے کاالزام لگا دیتی۔ شوبز کی خواتین ’می ٹو‘ مہم کا غلط استعمال کررہی ہیں”- رابی پیرزادہ کے اس بیان کے بعد شوبز کی دنیا میں ان افواہوں کو بہت تقویت ملی تھی کہ ہمارا معاشرہ بھی مغرب کی طرح خواتین کی ہم جنس پرستی سے محفوظ نہیں ہے نیز یہ کہ ہمارے شوبز حلقہ کی خواتین میں بھی یہ چلن عام ہے-

ان سکینڈلز کے علاوہ بھی گزشتہ ماہ ستمبرمیں صوبہ پنجاب کے محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے اس شہرت یافتہ پاکستانی کلوگارہ رابی پیر زادہ کو چار عدد اژدھوں اور ایک عدد مگرمچھ رکھنے پر چالان کیا تھا۔ اس چالان میں یہ درج تھا کہ محکمہ وائلڈ لائف کو سوشل میڈیا اور دنیا نیوز کے ذریعے سے اطلاع ملی کہ رابی پیر زادہ نے غیر قانونی طور  پر چار عدد اژدھے اور ایک عدد مگرمچھ اپنے سیلون میں رکھے ہوئے ہیں جو کہ وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ لہذا وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی پر ملزمہ مذکورہ کا وائلڈ لائف ایکٹ 1972ء ترمیم شدہ 2007 ءکے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ ان اژدھوں اور مگر مچھ والی یو ٹیوب پر موجود 50 سیکنڈز کی ایک وڈیو میں رابی پیر زادہ کو اژدھے اور مگرمچھ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ “ایک کشمیری لڑکی اپنے سانپوں کے ہمراہ بالکل تیار ہے اور یہ سب مودی (انڈین وزیر اعظم) کے لئے ہیں اور ان کے لئے تیار ہوجاؤ، یہ سب میرے دوست ہیں”- جس کے بعد وہ کشمیر سے متعلق گنگنا رہی ہوتی ہے- اس الزام پر رابی پیر زادہ کا کہنا تھا کہ” میرے خلاف کارروائی کی باتیں درحقیقت انڈین وزیر اعظم مودی کو خوش کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔ یہ ویڈیو خصوصی طور پر جی این این ٹیلی وژن کے اسٹوڈیو میں اپنے ایک شوٹ کے دوران بیک اسٹیج پر تیار کروائی تھیں کیونکہ میں کشمیر کے متعلق بات کرنا چاہتی تھی”۔

اب اگر کوئی ہوش مند شخص رابی پیرزادہ سے پوچھے کہ بی بی تمہیں کس احمق نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ایسی بھونڈی حرکتیں کر کے تم انڈین وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کی طرف متوجہ کر سکتی ہو- نیز یہ بھی بتاؤ کہ پاکستان کے محکمہ وائلڈ لائف میں کون ایسا شخص یا کون ایسا گروپ ہے جو پاکستان میں بیٹھ کر انڈین وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی کو خوش کرنے کی کوششیں کر رہا ہے- محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کا کہنا ہے کہ سانپ، اژدھا، مگر مچھ یا دیگر رینگنے والے جانور قانون کے اندر محفوظ قرار دئیے گئے ہیں۔ ان کے شکار, گھروں میں پالتو رکھنے یا خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے۔ گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنی وڈیو خود شیئر کی ہے جس میں وہ 4 عدد اژدھوں  اور مگرمچھ کے ساتھ ہیں جس پر اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوئی ہے۔ عدالت کو چالان بھجوا دیا گیا ہے جہاں پر وہ اپنا مؤقف بھی دیں گی جس کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ محکمہ وائلڈ لائف نے وڈیو میں نظر آنے والے مگرمچھ اوراژدھے برآمد کروانے کے لئے عدالت سے تلاشی وارنٹ کی درخواست کر رکھی تھی۔تحریک انصاف کی ڈائی ہارڈ سپورٹر رابی پیرزادہ کے خلاف اس معاملہ پر مزید پیش رفت بالکل ویسے ہی چل رہی ہے جس طرح تحریک انصاف کے راہنماؤں کے خلاف چلنے والی نیب انکوائریاں, جن میں نہ انہیں گرفتار کیا جاتا ہے اور نہ ان کے خلاف تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں پیش کیا جاتا ہے-

رابی پیرزادہ کی ان حالیہ برہنہ ویڈیو کلپس کا جائزہ لینے کے بعد یہ تو کنفرم ہے کہ اس نے یہ کلپس اپنی مرضی سے بنوائے ہیں- یہ عام موبائل کیمرے سے بنے ویڈیو کلپس نہیں ہیں بلکہ ان ویڈیوز کوالٹی اور فریمنگ سے صاف ظاہر ہے کہ ان تصاویر اور ویڈیوز کو رابی نے سیلف شوٹ کے نام پر تنہا نہیں سر انجام دیا بلکہ اس میں ویڈیوز اور فوٹو شوٹ کرنے والے کم از کم ایک یا 2 لوگ اور بھی اس کے معاون رہے ہیں۔ راقم یہ بات ماننے سے انکاری ہے کہ رابی پیرزادہ نے اپنے بوائے فرینڈ کے لئے یہ ویڈیوز اور فوٹوز بنائیں جس نے کسی بات سے ناراض ہو کر انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا- کیونکہ اگر بات صرف بوائے فرینڈ, عاشق یا فنانسر کی ہوتی تو اس کے لئے ویڈیوز اور فوٹوز شوٹ کرنے والے معاونین کی ضرورت نہیں تھی۔ ان ویڈیوز اور فوٹوز لیک ہونے کے حوالہ سے رابی پیرزادہ نے بتایا کہ اس نے ان ویڈیوز اور تصاویر کے حوالے سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی درخواست دے دی ہے- اس نے مزید بتایا کہ ان کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز ان کے سمارٹ فون میں موجود تھیں جو اس نے کچھ عرصہ پہلے فروخت کر دیا تھا۔ جہاں اس نے یہ موبائل فروخت کیا تھا, اس دکاندار کے خلاف بھی کاروائی کی درخواست دے دی ہے۔

رابی پیرزادہ سے پہلے اداکارہ میرا کی اپنے سابق شوہر نوید پائیلٹ کے ساتھ انتہائی نازک لمحات کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے جس پر موصوفہ نے کہا تھا کہ وہ ویڈیو جعلی ہے جس میں ان کی بجائے ان کی کسی ہم شکل کو پکچرائز کیا گیا ہے- لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس برہنہ کلپ میں خود میرا ہی تھی اور وہ کلپ بھی میرا کی مرضی سے ہی بنایا جا رہا تھا- ان دونوں کے علاوہ پاکستانی اداکارہ اور ماڈل رُبیہ کا وڈیو سکینڈل, پاکستانی کینیائی اداکارہ، ماڈل اور گلوکارہ متیھرا کا مشہور زمانہ اور, اور, اور سکینڈل کے علاوہ دوسرے سکینڈلز, اداکارہ وینا ملک کا بھارتی اداکار کے ساتھ “بگ باس” نامی پروگرام میں انتہائی قربت کا سکینڈل, وینا ملک کا ہی پورا جسم عریاں کر کے اس پر ISI پینٹ کروانے کا سکینڈل سمیت ایک ٹی وی اداکارہ کی برہنہ تصاویر بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ عام لوگوں تک وائرل ہو چکی ہیں-

SHOPPING

سوال یہ ہے کہ ایسی کچھ پاکستانی اداکارائیں، گلوکارائیں اور ماڈلز ایسی اخلاق بافتہ ویڈیوز اور فوٹوز شوٹ کرواتی ہی کیوں ہیں؟- آخر لذت حاصل کرنے کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ وہ اپنی برہنگی کو کیمرے میں شوٹ کرواتی ہیں اور پھر کیمرے اور شوٹ کرنے والے کیمرہ آپریٹرز سے توقع کرتی ہیں کہ ان کا یہ راز ہمیشہ ان کے پاس راز ہی رہے گا- جو انسان اپنے مقام کو نہ پہچانے اور اس سے گر کر کوئی حرکت کرے, اس کے بارے میں عقل مندوں کی نصیحت یہی ہے کہ ان کے شر سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے- تحریک انصاف اور کشمیر کے لئے اپنے تئیں اہم کردار ادا کرنے والی رابی پیرزادہ یہ تم نے کیا کر دیا-

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *