پہاڑوں کی چوٹیاں برف کا تاج پہنے صدیوں سے محوِسکوت تماشائے اہل دنیا دیکھتی تھیں۔رات کی سیاہی صبح اوّلیں کی روشنی میں دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی۔لڑکپن کی دہلیز پر کھڑی فرح بشیر نے کتاب بند کی اور دادی کی جانب گھورتے ہوۓ کہا میرا تو آج پرچہ تھا تم نے ساری رات کیوں آنکھوں میں کاٹ دی۔؟
دادی نے پتھر چہرے پر ہونٹوں کو مزید کستے ہوۓ دعا کے لئے ہاتھ اُٹھاۓ اور کہا کل کے بارے کسی پر کچھ عیاں نہیں۔
فرح نے منہ پر سرد پانی کے دو چار چھینٹے مارے ،بالوں کو پیچھے بندھا اور بغیر ناشتہ کیے پرچہ دینے کے لیے روانہ ہوئی۔دادی نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا اور سڑک پر دور جاتی ہوئی فرح کو اس کی نظریں ٹٹولنے لگیں۔
فرح جیسے ہی کمرہ امتحان سے نکلی تو وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہو چکا تھا۔طالبات پرچے کے بارے ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجاۓ تیز قدم گھر کی طرف روانہ ہوئیں۔چنار کے بلند درخت راہگیروں کے منتظر سر نگوں کھڑے تھے۔سرسراتی ہوا کی کوک اداسی اور خوف کی فضا میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔فرح کرفیو کی سختی اور پوچھ گچھ سے بچنے کے لیے طویل راستہ اختیار کر کے گھر پہنچی۔
صدر دروازے کے سامنے اس نے چند پڑوسیوں کو دیکھا جو خالی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے سے گریزاں تھے۔فرح گھر میں داخل ہوئی تو وسطی کمرے میں دادی کفن میں لپٹی ابدی نیند سو رہی تھی۔فرح نے دادی کے پُرسکون چہرے پر نظر دوڑائی اور خوفزدہ سی ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ چند دن پہلے ہی تو میں مخصوص ایام سے فارغ ہوئی ہوں۔پھر یہ گردش خون میں بے قاعدگی کیوں در آئی ہے۔اس نے اپنی کیفیت کے بارے ماں کو آگاہ کیا تو اس نے بتایا یکدم ناگہانی خبر سننے کے بعد نوجوان لڑکیوں کے مخصوص ایام آگے پیچھے ہو جاتے ہیں۔
کرفیو کی وجہ سے لوگ پُرسے اور جنازے کو کندھا دینے کیسے آتے۔چند پڑوسی اور عزیز و اقارب فرح کے باپ کے گرد حلقہ کیے محوِ گفتگو تھے۔فرح کے والد نے دو ٹوک الفاظ میں فیصلہ سناتے ہوۓ کہا جنازہ کل صبح کرفیو ختم ہونے کے بعد ہو گا۔میں کرفیو کے دوران تدفین کر کے لاش کی حرمت اور جنازہ پڑھنے والوں کی جان کی حفاظت کا ذمہ نہیں لے سکتا۔
فرح باپ کے اس فیصلے سے مطمئن تھی اس نے سوچا وہ ایک اور رات دادی کے ساتھ بسر کر سکے گی۔
ایک بوڑھی کی لاش
اور سانس لیتی ہوئی ایک خوبرو جوان لڑکی
آخری رات مگر لامتناہی یادیں
زندگی بھی کس عجب دوراہے پر کھڑی تھی۔
کرفیوں کی وجہ سے چراغ گل تھے۔کمرے کے کونے میں ایک زرد شعلہ ٹمٹما رہا تھا۔فرح نے زرد شعلے سے آنکھیں چار کیں اور سوچا میں نے دادی کو برسوں پہلے بھی ایک بار مرتے ہوۓ دیکھا تھا۔
ایک جیتا جاگتا انسان برسوں حیات کی دلکش راہ پر چلتے ہوۓ صرف چند لمحموں میں ہی زندہ لاش میں بدل سکتا ہے۔
فرح نے دادی کے چہرے پر جھکتے ہوئے سوچا ،یہ آج سے چھ سال پہلے کی بات ہے جب میری عمر بارہ برس تھی۔چاند رات کو صبح عید ملن آنے والے مہمانوں کے لئے پکوان تیار ہو رہے تھے۔مہندی اور چوڑیوں سے بھرے لڑکیوں کے ہاتھوں نے فضا کو معطر کر رکھا تھا۔فرح نے ضد کی اب کی بار وہ بالوں کی بناوٹ کے لئے سیلون جاۓ گی۔ماں باپ سے اجازت ملنے پر وہ بہن کے ساتھ روانہ ہوئی۔عید کی وجہ سے وہاں خواتین کا بہت زیادہ رش تھا ان کی باری دیر سے آئی۔وہ سلجھے ہوۓ گیسو خم دار کے ساتھ باہر آئی تو شہر پر ہُو کا عالم طاری تھا۔چوڑیاں بیچنے والے گم تھے،کپڑوں کی دوکانوں کے شڑ مقفل ہو چکے تھے،حلوائی چولہے گرم چھوڑ کر اسباب سمیت جا چکے تھے۔سڑکوں پر گاڑی تو کیا پیدل چلنے والے بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ایک فوجی جیپ سے اعلان ہو رہا تھا وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہو چکا ہے حکومت ہند نے یہ فرمان جاری کیا ہے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے کو فوری طور پر گولی سے اڑا دیا جاۓ۔
پہلی کا چاند کب کا غروب ہو چکا تھا۔آسمان پر چمکنے والے ستارے بھی زرد زرد سے تھے۔اعلان سنتے ہی دونوں بہنیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آبادی کی پچھلی طرف سے پگڈنڈیوں پر سے گزرتی ہوئیں گھر پہنچیں تو سب اہل خانہ کھڑکیوں سے جھانک رہے تھے۔دادی نے سینہ پیٹتے ہوۓ فرح سے کہا مجھے تو تمھارے بناؤ سنگھار نے زندہ مار دیا تھا۔ریڈیو پر کچھ گھنٹے قبل خبر چلی کہ ہمارے ہی قبیلے کی تمھاری عمر کی ایک لڑکی کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ گولی کا نشانہ بنی۔مجھ پر یہ گھنٹے قہر کی طرح بسر ہوۓ۔اس برس چاند رات وادی کشمیر میں شب بلا کے طور پر نازل ہوئی اور عید کا دن روزِ کربلا تھا۔
زلف تراش کا ذکر کیسا ،فرح نے دادی کی حالت دیکھتے ہوۓ یہ فیصلہ کیا کہ وہ کسی بھی تہوار پر مہندی اور چوڑیوں سمیت عمر بھر ہر قسم کی زیبائش سے گریزاں رہے گی۔
گیسوۓ خم دار
شب بلا
روزِ کربلا
دلگیر
وادی کشمیر
فرح نے دادی کے پرُسکون چہرے کو دیکھتے ہوۓ اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔جن میں دادی مکھن کے ساتھ پارہ ملا کر ہفتے میں ایک بار مساج کرتے ہوۓ کوئی بھولی بسری لوری بھی گنگناتی تھی۔دادی کمسن ہی تھی کہ اس کی ماں مر گئی ،باپ نے دوسری شادی کرلی تو دادی کی پرورش کا ذمہ اس کے ماموں نے لیا۔ابھی وہ گیارہ برس کی ہی تھی کہ فرح کے دادا نے پہلی بیوی کے بانجھ ہونے کی وجہ سے دادی سے دوسری شادی کر لی۔
دادی صبر استقامت کی مجسم علامت ساری عمر خواجہ خضر سے ملاقات کی متمنی رہی۔وہ سچ بولنے اور نیک کام کرنے کی ترغیب دیتی۔وہ تکبر کو گناہ کبیرہ سمجھتی اور کہتی جو یہ اعمال اپناۓ گا اور خواہشوں کے پھیر سے خود کو دور رکھے گا تو خواجہ خضر سے ملاقات سمیت اس کی ہر مراد پوری ہو گی۔ایک بار سردیوں کی چھٹیوں میں فرح نے یہ تمنا کی کہ سکول کچھ اور بند رہیں۔وادی کشمیر میں اس برس کرفیو طویل وقفے کے لئے لگا اور سکول مارچ کی بجاۓ دوبارہ مئی میں شروع ہوۓ۔یہ خواہش پوری ہونے کے بعد فرح نے دادی سے پوچھا تھا کہ خواجہ خضر کی کوئی نشانی تو بتائیں تاکہ ملاقات ہونے پر پہچان سکوں ۔
دادی نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا ان کے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا ہڈی نہ ہونے کی وجہ سے نرم ہو گا۔مدتوں فرح ہاتھ ملانے والے کے انگوٹھوں پر توجہ مرکوز رکھتی اور شائد اس کی ایک بار خواجہ سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔
کفن میں لپٹی دادی ہمیشہ کے لئے سو چکی تھی۔زرد شعلہ ساقط ہونے کو تھا ،فرح نے کہا کاش یہ کرفیو طول کھینچے تاکہ دادی کی تدفین نہ ہوسکے اور وہ اس اجاڑ رات کے علاوہ کل کا پورا دن بھی دادی کے ساتھ گزار سکے۔
مصنفہ کا خاندان سرینگر کے بارونق محلے شہرِ خاص کے پانچ منزلہ مکان میں مدتوں سے آباد تھا۔ہر کمرے کی کھڑکھیوں سے وادیِ جنت نظیر کے دلکش منظر بدلتی رتوں کے ساتھ عجب فرحت بخش نظارے پیش کرتے۔دادی ہر کھڑکی کو مختلف لوگوں سے پیام و ملاقات کا وسیلہ جانتی۔وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوتی تو ساتھ والے گھر سے اس کی بیٹی دوڑی چلی آتی۔مرکزی کمرے کے سامنے والی کھڑکیوں کے پٹ کھلتے تو ملازم پہنچ جاتے۔شام کو وہ گلی کے رخ کھلنے والی کھڑکی کھول کر گھروں کو لوٹتے ہوۓ مسافروں کو دیکھنے کے علاوہ اپنے آشیانوں کی جانب جاتے ہوۓ پرندوں کی ڈاروں کو بھی دعائیں دیتی۔بہار رتوں میں ہر سمت کھلنے والے خودر و پھولوں سے کھڑکیوں کے راستے آنے والی خوشبو سے پورا مکان مہک جاتا۔برفباری کے شدید موسم میں بھی دادی جز وقتی طور پر منتخب کھڑکیوں کے در کھول دیتی تاکہ گھر سے تازہ ہوا کا گزر ممکن ہو۔
اسّی کے عشرے میں وادی کشمیر میں فوج اور حریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے خطے کا منظر نامہ بدل گیا۔بہار کی معطر ہوائیں آنسو گیس اور بارود کی بُو سے بھر گئیں۔پرندوں کے نغموں کی بجاۓ گرنیڈ اور گولیوں کی آواز سنائی دیتی۔دھند کی رومان پرور تہہ کی جگہ دھواں اٹھتا۔شہر میں ہفتوں کرفیو نافذ رہتا۔کئی لو گ کرفیو کے دوران تانک جھانک کرتے ہوۓ گولی کا نشانہ بنے۔اس کے بعد پوری وادی کی کھڑکیاں مقفل ہوئیں اور لوگ گھروں میں سہم کر بیٹھ گئے۔
مگر ہر شام اس پانچ سالہ مکان کی گلی کی جانب ایک کھڑکی کا در کھلا ملتا۔جس کے سامنے سے کرفیو کے نظم و ضبط کی نگرانی کرنے والی فوج کی جیپیں بندوقیں تانے گزرتی تھیں۔ہر مکیں اپنے طور پر گواہی دیتا کہ اس نے یہ کھڑکی نہیں کھولی۔
وہ شام ڈھل رہی تھی اور پہلا ستارہ نمودار ہونے کو تھا۔جب مصنفہ نے دیکھا کہ اس کی پھوپھی کھڑکی کے پاس پہنچی، پہلے اس نے پردہ سرکایا پھر شیشے کے اس پار دیکھا۔ایک پٹ کو نیم وا کرنے کے بعد ہاتھ باہر نکال کر جھلانے لگی۔کرفیو کے دوران گشت کرنے والی جیپوں کا قافلہ قریب آیا تو اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا۔قافلے تیز رفتاری سے گزرے، پھوپھی نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو مصنفہ سے نظریں چار ہوتے ہی چہرے کا رنگ زردہ ہو گیا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
پھوپھی نے جھجھکتے ہوۓ کہا یہ سلامِ خوف تھا ،کیا پتہ کرفیو کے بعد گھر گھر خانہ تلاشی ہو اور اس قافلے میں گزرنے والا کوئی فوجی بندوق اٹھاۓ ہمارے گھر داخل ہو تو وہ میرے روز سلام کرنے پر ترس کھا کر ہماری جان بخش دے۔
خوف پر مشتمل یہ سلام اس کیفیت کو بھی بیان کرتا ہے جس میں مبتلا لوگ خود کو اذیت دے کر اجتماعی دکھ کو اپنی ذات کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔مصنفہ بھی خود کو اذیت دینے کے اس کرب یا لذت سے گزرتے ہوۓ کرفیو کی طویل راتوں میں اپنے بالوں کو نوچا کرتی تھی۔
فرح نے جنازے پر سے نظریں ہٹاتے ہوۓ سوچا شاید آج پھوپھی جنازے کی رخصتی کے بعد اسی کھڑکی کو کھول کر ماں کو سلام وداع کہے۔
سلامِ خوف یا سلامِ وداع کا دکھ بدن کے ساتھ روح کو بھی شکنجے میں جکڑ لیتا ہے۔
مسلسل کرفیو نافذ رہنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں سے اس کا خوف بھی جاتا رہا۔رات کے اندھیرے میں مسلح افراد شہریوں پر حملہ کرتے۔فرح بشیر کے ملازم رزاق خاک پر ایسا ہی حملہ ہوا جس کے بعد وہ گم سم سارا دن خودکلامی کرتا رہتا۔لوریوں کی جگہ نوحے سنائی دینے لگے۔فون کی بجنے والی گھنٹی موت کے سندیسے لاتی۔زندگی جامد بھی ہوتی تو خیر تھی سرینگر سمیت پوری وادی میں گردش حیات الٹے پاؤں چلنے لگی تھی۔گولیوں سے بچنے والے نوجوانوں کو والدین نے دور دیس بھیج دیا تھا اور بوڑھے اپاہج گھروں میں پڑے لاشعور میں بسنے والے خوف سمیت زندگی کے دن پورے کر رہے تھے۔
حفاظت پر معمور کارندوں کو اپنی جان کے لالے پڑے تھے۔وہ بکتر بند گاڑیوں میں دہشت کی علامت بنے شہر بھر میں دندناتے پھرتے۔اپنے ہی دیس میں وہ بنکر بنا کر رہنے پر مجبور تھے۔بنکر کی اصطلاح شائد دادی کی نسل کے لیے نئی تھی وہ ہمیشہ بنکر کوسمجھنے کی کوشش کرتی۔فرح بشیر نے سوچا شائد دادی کو جلد ہی اس بنکر میں اتار دیا جاۓ گا جسے لوگ قبر کہتے ہیں۔قبر نامی بنکر میں اترنے والوں کی نہ ہوا کچھ خبر لاتی ہے اور نہ ہی کوئی آواز ان تک پہنچ سکتی ہے۔قبر سے محفوظ بنکر بھلا اور کہاں ہو گا۔
وادی میں پھیلے خوف کے سایوں سے نجات پا کر بڑی بی ہمیشہ کے لئے اس بنکر میں بسنے کی تیاری کر چکی تھی۔
۰*۰
دادی کا کمزور وجود کمرے کے وسط میں بے حس و حرکت پڑا تھا۔فرح کے باپ سمیت چند خواتین اور مرد قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔فرح نے خود کو سنبھالتے ہوۓ اٹھنے کی سبیل پیدا کی۔ایک کارنس پر رکھے تانبے کے جگ سے دو گھونٹ پانی حلق میں اُتارے۔جگ کے پاس رکھی اخبار کے پہلے صفحے پر بے ترتیب جوتوں کی تصویر کے نیچے مسجد میں ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد درج تھی۔فرح نے اخبار پر نظریں جماتے ہوۓ سوچا مسجد کے باہر رکھے جوتے مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
موت کی داستانوں کے درمیان فرح اور اس کی بہن حنا،نازیہ اور زوہیب حسن کی سرحد کی دوسری طرف سے سمگل شدہ کیسٹیں اس ٹیپ ریکارڈر پر سنتیں جو ان کا باپ حج کے سفر کے دوران سعودیہ سے لایا تھا۔
بوم بوم اور ڈسکو دیوانے پر فرح بے ساختہ ناچتی۔اب ٹیپ ریکارڈر پر گانے سنے ہوۓ عرصہ گزر چکا تھا وہ ٹیپ ریکارڈر اور دادی کو پہنایا جانے والا کفن ایک ہی الماری میں رکھے ہوۓ تھے۔
ہفت رنگ زندگی
موت،کفن
ٹیپ ریکارڈر،بوم بوم،ڈسکو دیوانے
مگر زندگی کے سب رنگوں پر موت بھاری ہوتی ہے۔جو زیست کے دریا کو ایک لمحے میں صحرا کر دیتی ہے۔وادی کشمیر میں زندگی کے دریا میں طغیانی تو ضرور تھی مگر اُس میں بہنے والا پانی خون سے بھرا ہوا تھا۔
بوم بوم نسل کو تشدد پسند سوچ رکھنے والا گروہ شائد ساری دنیا سے ختم کرنے کا خواہ ہے۔
اس نے برسوں پہلے لکھے ہوۓ محبت نامے کو پڑھنا شروع کیا جو ان الفاظ سے شروع ہوتا تھا۔
Salam V
Gate of memory never close,how much I miss you nobody knows….
شاداب چہرے والے وسیم سے اس کی ملاقات اپنی خالہ کے گھر ہوئی تھی جو سرینگر شہر کے مضافات میں رہتی تھی۔وسیم کشمیر سے کالج کی تعلیم مکمل کر کے بنگلور کی کسی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔بھرے ہوۓ گالوں والا دراز قامت وسیم کشمیر کی بجاۓ لداخ کا باشندہ لگتا تھا۔اس کی آنکھوں میں چھپی محبت کو فرح بھی فوراً پہچان گئی۔کرفیو کے دوران دونوں کا تنہائی میں ملنا ناممکن تھا۔بنگلور پہنچ کر وسیم نے فرح کو خط لکھا یوں ان کے درمیان رابطے کی سبیل پیدا ہوئی۔رنگ حنا اور لہو سے محبت نامے لکھنے ابھی باقی تھے کہ سرینگر کا ڈاکخانہ آگ لگنے کے بعد راکھ کا ڈھیر ہوا۔
کشمیر کی وادی پُر خار میں بوم بوم نسل سے تعلق رکھنے والی فرح کی یاد سے ڈسکو دیوانے سمیت وسیم بھی محو ہوا۔
مگر ایک بلا جو وادی کشمیر کے ہر شہری کے ساتھ آسیب کی طرح رہتی ہے اسے فراموش کرنا مصنفہ کے لئے بھی ناممکن تھا۔مصنفہ نے کمرے میں نظر دوڑائی، دادی کے پاس بیٹھی اس کی ایک بیٹی ٹھنڈی آہ بھرتے ہوۓ اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔کارنس پر رکھی دادی کی دواؤں والی ڈبی دیکھ کر اسے اپنی سہیلی عابدہ کی ماں یاد آ گئی۔عابدہ کی ماں میں پر ایک جن آتا جو جلالی تھا۔جس دن جن کی آمد ہوتی عابدہ کی ماں کی حالت غیر ہو جاتی۔تعویذ دھاگے سے وقتی آرام آتا ،پھر فیصلہ کیا گیا کہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ڈاکٹر نے تفصیلی معائنے کے بعد بتایا کہ یہ پاگل پن کی وہ قسم ہے جو مسلسل خوف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔طویل کرفیو،مسلسل گولہ باری اور دہشت کی فضا میں برسوں سے سرینگر میں رہنے والے ہر شہری میں یہ جلالی جن بستا ہے۔مصنفہ بھی اسی جلالی جن سے تحفظ کے لیے جزو وقتی آرام کی خاطر دادی کی سونے والی گولی لیتی تھی۔
بوم بوم
بولے
جن جن
۰*۰
ستارہ ء سحری
آخری ستارہ بجھنے کو تھا اور رات تمام ہونے کو تھی۔فرح نے دادی کے چہرے سے کپڑے ہٹاتے ہوۓ سوچا یہ پُرسکون چہرہ شائد اب ہمیشہ کے لیے تہہ زمین جانے کو ہے۔ان ہونٹوں سے موتیوں کی صورت جھڑنے والے الفاظ مجھے اب بے جان محسوس ہوں گے۔ان آنکھوں سے بہنے والے آنسو بھی خشک ہوۓ۔یہ آنکھیں ہمیشہ کے لیے آہن پوش ہوئیں ،یہ نظریں نہ اب کوئی نظارہ دیکھ سکیں گی اور نہ ہی ان آنکھوں میں کوئی خواب اُترے گا۔
قدامت پسند مسلم گھرانوں کی طرح مصنفہ کے ہاں بھی خوابوں کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔خواب کی تعبیر اگر بزرگ اہل خانہ بھی بیان کرنے سے قاصر رہتے تو سرینگر میں واقع شیخ یعقوب شرفی کی درگاہ میں مقیم نوری درویش کے پاس خواب سنانے کے لیے حاضر ہو جاتا۔سفید عمامہ باندھے کم گو نوری درویش ہمیشہ مصلّے پر چوکڑی مارے تسبیح پھیر رہے ہوتے۔جو خواب سننے کے بعد صدقہ کرنے کی تلقین کرتے ہوۓ خوابوں میں چھپے بھیدوں کو بیان کرنے کی کوشش کرتے۔
مگر کچھ خوابوں کی حقیقت جاننے کی جستجو انسان کو کرب میں مبتلا کر دیتی ہے اور کئی خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جو حقیقی زندگی میں واقعی آپ بھوگ چکے ہوتے ہیں۔اور کچھ خواب حقیقت کی انگلی تھامے رات کے کسی پہر آپ پر اترتے ہیں جن کو مستقبل قریب میں آپ پر آئینے کی صورت کھلُنا ہوتا ہے۔
کشمیری پنڈتوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والی لکشمیری کا گھر شہر خاص میں فرح کے پڑوس میں تھا۔بہار رتوں کے علاوہ دسمبر کی یخ بستہ صبح میں بھی وہ اپنے اپنے کمروں کی کھڑکیاں کھول کر ایک دوسرے سے گھنٹوں باتیں کرتی۔عید اور شب برات پر فرح کے گھر سے حلوے اور سوئیاں لکشمیری کے گھر بھیجے جاتے۔دوسہرہ اور دیپوالی کے روز پنڈتوں کے گھرانے سے آنے والی مٹھائی فرح اور اس کی دادی رغبت سے کھاتیں۔نسلوں سے دونوں گھرانوں کے درمیان پیار پریت کے تعلقات تھے نہ کوئی ہندو کافر نہ تھا اور نہ ہی کوئی مسلمان اچھوت تھا۔لکشمیری اور فرح میڈیکل کالج میں ہم جماعت تھیں۔فرح پنڈت جی کو ہاتھ جوڑ کر نمستے کہنا نہ بھولتی جبکہ لکشمیری بھی دادی کو آداب کہتی تھی۔لکشمیری کے گھر بھائی پیدا ہوا تو دادی نے اپنے گھر جشن کا اہتمام کیا۔دونوں نے میڈیکل کی ڈگری مکمل کی تو پنڈتوں کے گھر سے پھلجھڑیاں چھوڑیں گئیں۔
حریت پسند تحریک نے کشمیر سے تعلق رکھنے والے مرکزی حکومت کے پسندیدہ مسلم وزیر کی لڑکی کو چار شدت پسندوں کی رہائی کے عوض اغوا کر لیا۔اغوا کاروں میں یاسین ملک بھی شامل تھا۔حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان مذکرات کامیاب رہے شہر کے مرکزی چوک میں جس روز چار حریت پسندوں کو چھوڑا گیا۔سارے وادی کشمیر کے مسلمان ان کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ترنگا پاؤں تلے کچلا گیا سبز ہلالی پرچم فضا میں بلند تھا۔اس واقعہ کے بعد شدت پسندوں کی سرگرمیوں اپنے عروج پر پہنچیں۔پنڈت بے دخل ہوۓ مندروں کے جگر جگر کرتے کلس زنگ آلود ہوۓ۔حکومت کب تک خاموش رہتی وادی میں بسنے والے مسلم خاندانوں کے گھروں کی جامعہ تلاشی کا سلسلہ شروع ہوا۔ہر دوسرے روز اعلان ہوتا سب مرد گھر چھوڑ کر پریڈ گراؤنڈ جمع ہو جائیں۔مخبر پولیس کے اہلکاروں سمیت کرسی پر براجمان ہوتا مرد قطار کی صورت اس کے سامنے سے گزارے جاتے۔وہ آنکھ کی مدد سے اشارہ کرتا کہ اس نے سرحد کی دوسری طرف سے بم بنانے یا دیگر اسلحہ چلانے کی مشق میں حصہ لیا تھا۔اس کوپولیس ہتھکڑی لگاتی وہ آخری بار بھرے ہوۓ میدان میں اپنے بچپن کے ساتھیوں کو نم آنکھوں سے سلامِ وداع کرتا اور ۔۔
ایسے شناخت ہونے والوں کا نہ کوئی خط آتا نہ اطلاع ملتی کہ ان پر کیا گزری ہے۔
خواتین کو گھر ایک کمرے تک محدود کر دیا جاتا۔ہر کمرے اور الماری کی تلاشی لی جاتی۔کچھ سامان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا کچھ فوج کے اہلکار ساتھ لے جاتے۔اپنے ہی گھر میں قید ہونے کی صعوبت نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا۔فوج کے اندراج کے مطابق مصنفہ کے گھر کی نو ماہ میں گیارہ بار تلاشی لی گئی۔
خانہ تلاشی،ویرانہ دل کو شاداب رکھتی جبکہ کرفیو کی وجہ سے زندہ لوگ درگور ہوۓ پھرتے تھے۔
طویل کرفیو کے بعد اگر چند گھنٹوں کے لۓ چھوٹ ملتی تو لوگ اشیاِ روزمرہ کی خریداری کے لۓ طویل قطاروں میں لگ جاتے۔
دادی کا جنازہ تدفین کا منتظر تھا کچھ دیر کے لئے کرفیو اُٹھایا گیا تو فرح کی ماں نے رزاق خاک کو رات بھر جاگنے والے مہمانوں کے لئے ناشتے کا سامان خریدنے بھیجا۔ایک ادھ کھلی کھڑی سے تازہ باقر خانیوں کی آنے والی خوشبو سے سب کی بھوک چمک اُٹھی تھی۔اسی کھڑکھی کے ساتھ فرح کے مطالعہ کا میز پڑا تھا جس پر بیٹھ کر وہ پنڈت گوپی ناتھ سے شام کے وقت پرھتی تھی۔ایک صبح وہ باغ میں چہل قدمی کرنے جانا چاہتی تھی مگر کرفیو کے اوقات شروع ہو چکے تھے۔اس نے پُرکار سے کھرید کر میز کے تختے پر لکھا۔
Morning walk now.
ذہنی دباؤ اور مسلسل پابندیوں کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں درد رہتا۔آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی فرح گاہے گاہے اس درد کی ٹیس کو محسوس کرتی ہے۔
۰*۰
صبحِ صادق
دن کی پھوٹنے والی روشنی میں رات کسی بیتی ہوئی کہانی کا حصہ بن چکی تھی۔دادی موذن کی آواز سننے کے بعد بھی بے حس و حرکت پڑی تھی حالانکہ ساری عمر وہ اذان سے پہلے اُٹھ کر نوافل پڑھا کرتی تھی۔افسوس پر آنے والے لوگ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد میت کے قریب بیٹھے قران کی تلاوت کر رہے تھے۔مصنفہ نے غیر شعوری طور پر سورہ فیل کا ورد شروع کر دیا۔دادی نے اسے بتایا تھا سورہ فیل پڑھنے سے انسان دشمن کے عتاب اور قہر سے محفوظ رہتا ہے۔ایک بار وہ رزاق خاک کے ساتھ رکشے پر اپنی خالہ کے گھر جا رہی تھی۔راستے میں حریت پسندوں اور فوج کے درمیان اچانک جھڑپیں شروع ہو گئیں۔فوج آنسو گیس کے گولے داغ رہی تھی جبکہ حریت پسند پتھروں کی بارش کر رہے تھے۔رزاق اور مصنفہ جیسے ہی رکشہ سے اترے فوج نے حریت پسندوں پر فائیرنگ شروع کر دی۔فرح رزاق کا ہاتھ تھامے سورہ فیل پڑھتی ہوئی متوازی سڑک پر دوڑتے ہوۓ خالہ کے گھر پہنچی۔خالہ نے اپنی گھبراہٹ اور ان کے بارے پیدا ہونے والے وسوسوں کو چھپاتے ہوۓ راستے اور ہنگاموں کا احوال دریافت کیا۔فرح نے سانسوں کے زیر و بم پر قابو پاتے ہوۓ کہا سورہ فیل نے ہماری زندگیوں کو محفوظ رکھا۔
فرح نے سفید چادر سے آنسو پونچھتے ہوۓ سوچا دادی کا تو وصال ہو چکا ہے۔وہ دشمنوں کی عتاب سے محفوظ مالک دو جہاں کے ہاں پہنچ چکی ہے۔مرنے والوں کی بجاۓ ہم کشمیر میں زندہ رہنے والوں کو سورہ فیل کی حفاظت میں رہنا ہو گا۔
فرح نے خود کلامی کرتے ہوۓ کہا شائد میرے اندر چھپے خوف نے مجھے خود غرض بنا دیا ہے۔میں مرنے والے کے ایصال ثواب کی بجاۓ اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے سورہ فیل پڑھ رہی تھی۔
صبح کی تازہ ہوا سے کمرے میں بیٹھے لوگوں کو فرحت کا احساس ہو رہا تھا۔فرح نے کھڑکھی کھولتے ہوے صحن میں نظر دوڑائی قدیم درخت کے ساتھ پڑا پتھر کا کونڈا برسوں سے کسی مصرف میں نہ تھا۔بچپن میں وہ اسی کونڈے کے نیچے سکے چھپا کر دادی سے کچھ روپے اور بٹور لیتی۔سردیوں میں اس کونڈے کے اندر پڑنے والی برف کی پہلی تہہ ہٹا کر دوسری پر چینی اور دودھ چھڑک کر کھاتی تھی۔نوے کی دہائی سے پہلے جاتی بہار کی رت اس کونڈے میں سال بھر کے مصالحے پیسے جاتے تھے۔مرچوں کی مہک دلان سمیت کمروں میں بھی چھیکنے پر مجبور کرتی۔اب مصالحوں کی مہک کی بجاۓ دروازے اور کھڑکھیاں بند ہونے کے باوجود بھی آنسو گیس سے دم گھٹنے لگتا ہے۔
کشمیر
جنت نظیر
دلگیر دلگیر
دروازے کے ساتھ فرح کے کورس کی کتابیں پڑی تھیں۔ایک سال کرفیو نے طول کھینچا تو سکول سات ماہ کے قریب بند رہے۔فرح نے گھر میں ہی کورس کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیں۔وہ کتابوں کو جلد ساز کے پاس بھیجنے سے خائف تھی اسے یہ وہم تھا کہ کتابیں جلد ساز کے پاس لے کر جاتے ہوۓ وہ فوج کی گولی کا نشانہ بن سکتی ہے۔کتابیں جلد ساز کے پاس پہنچ بھی جائیں تو کیا معلوم اس کی دوکان کو نذر آتش کر دیا جاۓ۔سو اس نے پرانی اخبارات کو بطور ڈسٹ کور کتابوں پر چڑھانے کا فیصلہ کیا۔کئی برسوں کی پرانی اردو اخبارات کی سرخیاں موت اور تشدد کا اشتہار لگتی تھیں جبکہ انگریزی اخبارات میں چہروں پر مسکراہٹ سجاۓ لوگ کسی اور دنیا کے باسی لگتے تھے۔فرح انگریزی اخبارات میں چھپنے والی ماڈلز اور فلمی ستاروں کی تصاویر دیکھ کر سوچنے لگی کشمیر کے لوگ مسکرانا کیوں بھول گئے ہیں۔یہاں مسکراہٹ کی تلاش میں میں بھٹکنے والے مسافروں کی لاش بھی نہیں ملتی۔فرح کی پھوپھی نیلو فر کی کالج کی دوست راہ چلتے ہوۓ بم کی زد میں آ گئی جسم خون کی صورت سڑک پر بہنے لگا اس کے دوپٹے کے ٹکڑے کھمبے سے اتار کر تابوت میں رکھے گئے۔
فرح نے کتابوں پر نظر ڈالتے ہوۓ سوچا اہل کشمیر کیونکر مسکرائیں۔وہ مرنے والوں کے آخری دیدار سے محروم خون آلودہ کپڑوں کو قبروں میں اتارتے ہیں۔
دادی کے روزمرہ کے پہننے والے زیورات میں یاقوت کی جڑواں انگھوٹھی بھی شامل تھی۔جس کو فرح کی پھوپھی نیلوفر کسی سوچ میں مگن بے دھیانی میں گھماۓ جا رہی تھی۔دادی نے فرح سے وعدہ کیا تھا تم نے اگر میڑک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تو یہ انگھوٹھی تم کو دوں گی۔فرح میڑک کے امتحان دے کر فارغ ہوئی تو ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا اسی دوران حضرت بل کا وقوعہ ہو گیا پورے بھارت کے بچے میڑک کا نتیجہ سن چکے تھے مگر کشمیر کے نونہال کچھ مہینے انتظار کے کرب میں مبتلا رہنے کے بعد رزلٹ سے آگاہ ہوۓ۔فرح نے بورڈ میں پوزیشن لی تھی مگر انتظار کے جان لیوا لمحوں نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔وہ دادی سے انگوٹھی کا مطالبہ کرنے کی بجاۓ زیورات سے ہی متنفر ہو گئی۔
گھڑیال نے صبح کے آٹھ کا گھنٹہ بجایا فرح کی رشتے دار نیلم اور اس کی ماں اہل خانہ اور تعزیت کے ل یے آنے والے مہمانوں کے لئے قہوے کے سماوار سمیت ناشتے کا سامان لے کر پہنچیں۔نیلم فرح کی بہن حنا کی دوست بھی تھی نیلم کی سگائی کے بعد حنا کی زبان پر صرف دو الفاظ نیلم اور نکاح ہی رہتے۔حنا نے نیلم کی شادی کی تیاری مہینوں پہلے شروع کر دی تھی۔فرح کو اس حوالے سرینگر کا مشہور نیلم سینما اور فلم نکاح یاد رہ گئی تھی۔جس کا پریمئیر شو دیکھنے وہ بہن اور ماں کے ساتھ نیلم سینما گئی تھی۔نوۓ میں مسلم تشدد پسند گروپ نے وادی کے سب سینما حال بند کر دئیے۔خوف کی وجہ سے لوگوں نے اپنے وی۔سی۔آر تک بیچ ڈالے تھے۔دھیمی آواز میں ریڈیوں پر تشدد اور اموات کی خبریں سننا معمول کی بات تھی۔نوۓ کی دہائی میں نیلم سینما فوج کے کیمپ میں تبدیل ہوا۔اُس کے وسیع سبزہ زار میں گلابوں کی بجاۓ شراب کی خالی بوتلوں کے ڈھیر اُگنے لگے۔
فرح نے دل میں کہا سکول،ڈاکخانے،کشمیری پنڈت اور نیلم سینما سمیت ہم کشمیر کے نوجوانوں کے بچپن کی سب نشانیاں بھی معدوم ہوئیں۔ہم انہیں اب چشم تصور سے دیکھا کریں گے یا شائد کبھی خواب رتوں میں ان کی کوئی جھلک دھیان کی سڑھیوں سے چند لمحوں کے لئے آنکھوں میں بس سکے۔
فرح کی خالہ گھر میں سینہ پیٹتے اور بین کرتی ہوئی داخل ہوئی۔وہ ہر مرنے والے کا پرسہ دیتے ہوۓ اپنے جوان بیٹے افی کو یاد کرتے ہوۓ ماتم کرتی۔
میں بندوق کیوں نہ لا سکی۔
میں نے تمھارا کہنا کیوں نہ مانا۔
ہم نے سوچا تھا تم جلد جیل سے باہر اپنے پیاروں کے درمیان ہو گے۔
خدا گواہ تم نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔
مجھے اپنی جان و آبرو کے عوض بھی بندوق لانی چاہیے تھی۔
میں ماں تمھاری موت کی ذمہ دار ہوں۔
تم پر ابھی تو مہندی نے اپنا رنگ چڑھانا تھا اور سہرے کو سر پر سجنا تھا۔
اے میرے سپوت اے میرے لال میں تم بن کیوں زندہ ہوں۔
ایک روز افی کو پولیس والے گھر سے اٹھا کر لے گئے۔انہوں نےکہا تمھارے گھر میں بندوق ہے وہ ہمارے حوالے کر دو تو تمھیں رہا کر دیا جاۓ گا ورنہ ہماری بندق میں بھری گولی پر تمھارا نام لکھا ہے۔رات گئے افی پولیس کی بھاری نفری سمیت گھر آیا۔اس نے ماں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا مجھے معلوم ہے ہمارے گھر میں بندوق نہیں تم انہیں کہیں سے خرید کر لا دو ورنہ یہ مجھے مار ڈالیں گے۔افی کی ماں نے پولیس والوں سے تلخ لہجے میں کہا میں بندوق کہاں سے لاؤں شائد اس کی بات ابھی پوری ہیں نہیں ہوئی تھی کہ ایک گولی افی کی چھاتی کو پار کرتے ہوۓ گزر گئی۔
۰*۰
دن چڑھے
دیو قامت پہاڑوں سے بلند ہوتے ہوۓ سورج نے پوری وادی کو روشنی سے بھر دیا تھا۔کشمیر میں زندگی رات کی آغوش میں سستانے کے بعد شائد پھر سے سوۓ دار روانہ تھی۔دادی کا وقت وداع بھی قریب تھا جس دہلیز پر وہ ڈولے میں اتری تھی۔اسی چوکھٹ سے چار کندھوں پر اس کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔
لوگ تلاوت کے درمیان سرگوشیوں میں باتیں بھی جاری رکھے ہوۓ تھے۔فرح کی خالہ وقفے وقفے سے افی کو یاد کرتے ہوۓ ٹھنڈی آہیں بھرنے لگتی۔صحن میں آں آں با شاں آں کی آوز سن کر ایک لمحے کو سب لوگ خاموش ہو گئے۔فرح جانتی تھی یہ کول رو رہا ہے۔کول پیدائشی طور پر گونگا بہرہ تھا جو ایک مدت مصنفہ کے گھر مددگار کے طور پر خدمت سر انجام دیتا رہا۔کئی برس کام کرنے کے بعد اسے اشاروں سے سمجھانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔وہ صبح اور شام کے وقت دودھ خرید لاتا۔سپہر کو تازہ روٹی لانے کے لئۓ روانہ ہو جاتا۔شام کے وقت بستر لگا دیتا اگر مخصوص اوقات کار کے درمیان اسے کوئی کام کہا جاتا تو وہ بھی اشاروں کی مدد سے سمجھ کر فوری طور پر کرنے لگتا۔نوۓ کی دہائی میں حکومت نے یہ اعلان کیا وادی کشمیر کے لوگ گھروں سے باہر نکلتے وقت شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں گے۔ایک شام کول کو فوج کے اہلکاروں نے گشت کے دوران دھر لیا۔کول ان کی بات سمجھنے سے قاصر تھا اور وہ کول کے گونگے پن کو مکر سمجھتے تھے۔دو دن کول حوالات میں بند رہا کئی لوگوں کی گواہی کے بعد کہ کول پیدائشی طور پر گونگا بہرہ ہے اسے رہائی نصیب ہوئی۔اس کے بعد کول نے اس خوف سے کام پر آنا چھوڑ دیا کہ پھر اسے فوج پکڑ لے گی۔رہائی کے بعد وہ آں آں با شاں آں کرنا بھی بھول گیا تھا۔آج مدت کے بعد دادی کی موت کی خبر سننے کے بعد کول نے روتے ہوۓ یہ آوازیں نکالی تھی۔
بچپن میں مصنفہ کے منہ میں پنسل کا سکہ لگنے کے بعد وہ چند روز کے لئے قوت گویائی سے محروم رہی۔اسے وہ لمحے آج بھی یاد تھے اس نے خود کلامی کرتے ہوۓ کہا وادی کشمیر میں قوتِ سماعت اور بولنے کی طاقت سے محروم لوگ ہی شانتی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔کاش میں بہری ہوتی تو کسی کی موت یا کرفیو کی خبر نہ سن پاتی اور اگر بولنے کی طاقت نہ رکھتی تو پُر تشدد حالات کے دلخراش واقعات سنانے کی اذیت سے محفوظ رہتی۔
فرح نے سوچا اس وادی جنت نظیر میں زندگی عذاب ہے اور یہاں موت میں بھی شفا نہیں۔زندگی کی سب رونقیں اس دیس سے کہیں دور جا بسی ہیں۔دادی کی لاش گھر میں ہے اور کرفیو کے دورانیے میں صرف نرمی کا اعلان کیا گیا۔وہ وقت بھی کچھ دور نہیں جب شائد گھروں میں ہی قبرستان بنانا پڑیں۔موت کا احوال یادوں کے دھاگوں سے اُلجھ جاتا ہے مرنے والوں کی یادیں اور گزری ہوئی حیات تنہائی اور آنسووں کا خراج مانگتی ہے۔مگر ایک مدت سے وادی میں شادی کی رسوم بھی کشمیریوں نے ترک کر دی ہیں۔ڈھول،تاشے اور رنگ پچکاری عہد رفتہ کی داستان کےقصے ہیں۔کرفیو کے دوران دو گھنٹے کے مقررہ وقت میں میں صرف نکاح اور رخصتی ہی ممکن ہو سکتی ہے۔گانے،ذو معنی فقرے،کپڑوں کی نمائش کے لوازمات کیسے نوے کی دہائی کے بعد شادی میں شرکت کرنے والوں مہمانوں کو کھانا بھی لفافوں میں بند کر کے ساتھ دیا جاتا ہے۔
ایک دفعہ فرح نے شادی سے آنے والے لفافہ بند کھانے کے دو لقمے جیسے ہی حلق سے اتارے اس کے سارے بدن میں زہر پھیل گیا۔
کرفیو کی وجہ سے تمام راستے بند تھے اس نے ساری رات شدید تکلیف میں گزاری۔دوسرے روز کرفیو کے باوجود وہ خاردار تاروں سے اُلجھتی ہوئی پولیس اور فوج کے اہلکاروں کی منت سماجت کرتے ہوۓ وہ ہسپتال تک پہنچی۔ہسپتال میں شائد ڈاکٹر تو موجود تھا مگر دواؤں کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ مایوسی کے عالم میں گھر کی طرف روانہ ہوئی۔فوجی جیپ پر لگے اسپیکر سے یوم آزادی ہند کے حوالے سے تقریر نشر ہو رہی تھی۔جبکہ راستے کی ہر دیوار پر یہ نعرہ درج تھا۔
“ہم لے کر رہیں گے آزادی”
فرح نے گھر آ کر اپنی ڈائیری میں لکھا۔
زہر ۔ یوم آزادی ۔ہم لے کر رہیں گے آزادی۔
۱۵۔اگست
فرح کی پھوپھی نیلو فر نے کھڑکی پر پردہ گراتے ہوۓ سوچا مجھے اب روشنیوں سے بھی خوف آتا ہے۔ایک وقت وہ بھی تھا جب مرے گھر کے سامنے نگین جھیل پر یورپین سیاح رات کو بھی دن کیے رکھتے تھے۔وہ ہاتھوں میں جام پکڑے جب ہلکی موسیقی پر ناچتے تو جھیل کے پانی میں بھی جلترنگ بجنے لگتے تھے۔اب سیاح اور مسافر کسی اور دیس جاتے ہیں اور یہاں کے مقامی لوگ ادھر سے زندہ بھاگنے کی خواہش میں وطن بدری پر آمادہ ہیں۔
کچھ برس سے جھیل میں پیٹرولنگ پولیس حریت پسندوں کی تلاش میں کشتیوں پر سرچ لائیٹوں سے لیس رات بھر گشت کرتی۔لائیٹوں کی روشنی اور کشتی کی آواز سے ہم نگین جھیل کے کنارے رہنے والے رات بھر خوف کے عالم میں رہتے ہیں۔فوج اور پولیس کے کارندے کسی بھی شہری کو حریت پسند سمجھ کر مار دیتے ہیں۔حریت پسندوں کو چندہ نہ دینے کی صورت میں وہ ہمیں اغوا کر لیتے ہیں۔
نیلو فر نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا زندگی ایسی دشوار بھی ہو سکتی ہے یہ تو کبھی سوچا بھی نہ تھا۔اے کاش اماں مجھے ساتھ لے جاتی ہم کشمیر کے رہنے والے اب مر کر ہی چین پا سکتے ہیں۔
آخری دیدار کے بعد مرد حضرات کلمہ پڑھتے ہوۓ تابوت اُٹھانے کے لئے کمرے میں داخل ہوۓ۔طویل قامت مردانہ وجاہت کے پیکر فرح کے رشتہ دار اعجاز نے کلمہ شہادت پڑھتے ہوۓ جنازے کو سرہانے کی طرف سے اٹھایا۔اعجاز میر واعظ مولوی فاروق کے جنازے میں بھی موجود تھا جن کو نامعلوم افراد نے رات کے اندھیرے میں سوتے ہوۓ انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔کرفیو کے باوجود ہزاروں لوگوں نے تحریک آزادی کے راہنما میر واعظ مولوی فاروق کے جنازے میں شرکت کی۔جنازے کا جلوس ابھی مرکزی چوک ہی پہنچا تھا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں فوج نے جلوس پر گولیاں چلا دیں۔درجنوں بے گناہ لوگ مارے گئۓ کچھ گولیاں میر واعظ کے تابوت سے گزریں اعجاز سمیت بہت سے لوگوں نے فرشتوں کو تابوت کے ساتھ اڑتا دیکھا۔میر واعظ کی بیٹی فرح کی ہم جماعت تھی طویل المدت کرفیو کے بعد جب وہ سکول میں دوبارہ ملیں تو فرح اسے بتانا چاہتی تھی تمھارے والد کے جنازے کے ساتھ فرشتے بھی اُڑے جا رہے تھے۔
دادی کا جنازہ سامنے والی گلی سے قبرستان کی جانب رواں تھا۔فرح کی والدہ کھڑکھی سے جنازے کو دیکھتے ہوۓ انگلیوں کی پوروں پر قرآنی آیات پڑھنے کے بعد دوپٹے کے پلو پر گرہیں لگانے میں مصروف تھی۔ ایک مدت سے روز شام کے وقت زیرلب پڑھنے اور دوپٹے پر گرہیں لگانا اس کی عادت بن چکا تھا۔ جب فرح کے والد دوکان سے گھر پہنچ جاتے تو وہ سجدہ شکر ادا کرنے کے بعد دوپٹے کی گرہیں کھول روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو جاتی۔
۰*۰
زندگی کے تعاقب میں
سارے محلے میں ماسی راجو کے نام سے معروف ڈھلتی ہوئی عمر کی خاتون ساتھ والی گلی میں رہتی تھی۔جو دو چار دن بعد آہستہ خرام چادر کی بکل مارے گھر سے نکلتی اور گھڑی دو گھڑی کے لئے محلے کے ہر گھر میں ٹکتی۔قہوہ کی چسکیوں کے درمیان خبروں کی پٹاری کھولتی اور ہر گھر کے بارے کہی ان کہی باتیں بیان کرنے کے بعد روانہ ہو جاتی۔
ماسی راجو جب مصنفہ کے گھر آتی تو دادی سے سر جوڑے مسلسل دھیمی آواز میں گفتگو جاری رکھتی۔محلے میں مرنے والی خواتین کو غسل دینے کے لئے ماسی راجو کو بلایا جاتا۔کچھ عرصہ پہلے ماسی راجو کے کم سن بیٹے کو فوج نے گھر سے اٹھایا ہر دفتر اور ہر جیل کے درمیان راجو بگولے کی مانند کی چکر لگانے کے بعد قبرستانوں کے کتبے پڑھنے میں مصروف رہتی کہ شائد کسی قبر میں اس کا پھول مدفن ہو۔دادی کے انتقال کے بعد رزاق خاک ماسی راجو کو میت کی غسل دینے کے لئے بلانے گیا تو اس نے سینہ کوبی کرتے ہوۓ کہا اے رزاق تو باولا ہو گیا میں اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی کے بعد زندہ لاش ہوں ایک مردہ دوسرے مردے کو کیسے غسل دے سکتا ہے۔
میں زندہ لاش چوکھٹ پر آنکھوں کو سجاۓ بیٹھی ہوں نجانے کب میرا لال کب گھر واپس آ جاۓ۔کسی کا انتظار کرنا بھی زندگی ہی علامت ہے۔
منتظر
راجو
رواں دواں زندگی
فرح نے کھڑکی سے دیکھا جنازہ رخصت ہونے کے بعد راجو پرسہ دینے کے لیے گلی میں قدم گھسیٹتے ہوۓ ان کے گھر کی جانب رواں دواں تھی۔ساتھ والے گھر میں ظہیر کی والدہ دیوار سے Q.k کے الفاظ مٹانے میں مگن تھی۔ظہیر گھر کی چار دیواری روز مختلف انداز سے Q.K کے الفاظ لکھ کر سیاہ کر دیتا جبکہ اس کی والدہ یہ الفاظ مٹنانے میں جت بجاتی۔ظہیر ہندونستانی فوج کے بارے QUIT KASMIR کے نعرے بھی لگاتا جبکہ ماں اس خوف میں مبتلا دوپٹے اور پانی سے اس نعرہ مستانہ کو مٹاتی رہتی کہ یہ دو الفاط یعنی Q اور K پڑھنے کے بعد فوج ظہیر کو اٹھا کر ہی نہ لے جاۓ۔اور شاہد پھر وہ عمر بھر اسے دیکھنے کے لئے ترستی مر جاۓ۔
آزادی کی چاہ میں معصوم فطرت ظہیر زندہ رہنے کی آرزو رکھتا تھا۔
شہر خاص میں سب سے بلند گھر فرح کا تھا جس کی پانچویں منزل سے محرم الحرام کے جلوس اور پڑوس میں ہونے والی شادیوں کا ہنگامہ دیکھنے پورے محلے کی خواتین جمع ہو جاتی۔فرح بچپن میں اپنی بہن کے ساتھ اسی منزل کی چھت پر بادلوں کی اُوٹ سے عید کا چاند دیکھنے کی کوشش میں دوڑتی پھرتی۔بدلتے موسموں کے ساتھ بے مصرف اشیا بھی پانچویں منزل کے اکلوتے کمرے میں ٹرنکوں میں بھر کر رکھ دی جاتیں۔
وقت کے ساتھ پورے محلے میں بلند گھر کی آخری منزل خوف کی علامت میں تبدیل ہونے لگی۔حریت پسندوں اور فوج کے درمیاں گولیوں کے تبادلے میں اس منزل کی دیواریں چھلنی ہو گئی تھی۔آج مہمانوں کے لئے فرح اسی کمرے سے بستر نکالنے گئی تو سہمی سہمی سورہ فیل کا ورد کر رہی تھی۔کمرے کی دیواروں میں گولیوں کے نشان ۔۔۔عجب دلخراش ہیولے بنا رہے تھے۔اس نے کھڑکی سے جھانکا سڑک پر مشین گن سے لیس صرف فوج کی جیپ گشت کر رہی تھی۔
خوف۔مشین گن۔فوج۔جیپ مگر زندہ رہنے کی اُمنگ نے ہی اسے کھڑکی سے جھانکنے پر مجبور کیا تھا۔
وہ سڑھیوں سے اتری تو فرح کے کم سن بھانجے نے اس کا آنچل مضبوطی سے تھام لیا۔وہ اداس نسل کا خوفزدہ نمائندہ تھا۔جو نا سمجھ ہونے کے باوجود ماں،باپ کے چہرے کے تاثرات،اندھیرے اور گولیوں کی گونج سے سہم جاتا تھا۔مگر اس کی عمر کا تقاضا تھا جو خوف کے عالم میں بھی اسے کھیلنے پر مجبور کرتا۔
عمر کے تقاضے ہی افسوس کی وادی میں زندگی گزارنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے ہیں۔
نوے کی دہائی کے بچے روایتی کھیل کھیلنے کی بجاۓ حریت پسند اور فوجی فوجی کھیلتے۔وہ خاص ردھم میں آزادی کے نعرے لگاتے ہوۓ صحن میں چکر لگاتے۔کھیلوں کے ساتھ کشمیر کے پکوان بھی پھیکے ہوۓ۔کرفیو کے خوف سے ذخیرہ اندوزی لوگوں کی مجبوری تھی۔سو تازہ پھل،سبزیاں اور مچھلی کے گوشت کا ذائقہ لوگ بھولنے لگے۔جو کچھ میسر ہوتا ایک عالم مایوسی میں حلق سے اتارتے تاکہ سانس کی ڈوری سے ناطہ بحال رہے۔
دادی کو مرے چوتھا روز تھا چہارم کی رسم ادا ہونے کے بعد مہمان رخصت ہوۓ۔
فرح نے دادی کے تخت پوش کو چومتے ہوۓ کہا جب تک کشیمر کی وادی میں پھول اُگتے رہیں گے اور دھواں دھواں سے بادل درختوں کے سر چومتے ہوۓ دیس پردیس کی کہانیاں بیان کرتے ہوۓ یہاں سے گزرے گے تو تمھاری یادوں سمیت میں اپنے اندر بسے خوف کی کہانی بھی خزان رسیدہ بہار کو کسی روز ان کے سپرد کروں گی۔
کہانی ہی تو نشاطِ حیات ہے۔
میں ایک روز زندگی سے لطف کشید کروں گی۔
وقت ایک سر بستہ راز ہے۔
یہ جو سلسلہ روز و شب کا ہے۔
اس سے رات سے دن اور دن سے رات نکلتی ہے۔
یہ مسلسل تاکید جستجو اور جدوجہد کی ہے۔بدن کو تو ایک دن اندھیرا چاٹ ہی جاتا ہے۔
مگر جستجو اور جینے کی آرزو کی مشعل سورج کی طرح روشن ہے۔یہ اس دن بجھے گی جب جدوجہد کا حساب ہو گا۔اور یہ جو ہر شب اندھیرا اس مشعل کو بجھانے کا اعلان کرتا ہے۔
صبح دم اس کا خون سارے افق پر پھیل جاتا ہے۔
کہانی۔۔۔۔زندگانی
سلام زندگی
جاوداں زندگی
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں