ایک محاورہ ہے ’ زبان میں بواسیر ہونا ‘ ، کچھ لوگ اسے ’ منھ میں بواسیر ہونا ‘ بھی کہتے ہیں ، خیر جو بھی درست ہو ، یہ محاورہ اِن دنوں بی جے پی کے کئی لیڈروں پر صادق آ رہا ہے ۔ یہ جان لیں کہ اس محاورے کا مطلب ہے ، بغیر سوچے سمجھے جو منھ میں یا زبان پر آئے بَک دینا ، ہانک دینا یا خوب ہانکنا ۔ ویسے جن کی بات کی جا رہی ہے ، انہوں نے جو کچھ بکّا ہے یا ہانکا ہے ، وہ بغیر سوچے سمجھے نہیں ہے ، سوچ سمجھ کر ہی ہے ۔ اس کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت ، خود وزیراعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے نہ ’ بواسیری کلمات ‘ کی مذمت کی ہے ، اور نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی ! معاملہ سنگین ہے ، اتنا سنگین کہ اگر اپوزیشن کے کسی بھی لیڈر نے ایسی کوئی بات صرف زبان پر لائی ہی ہوتی ، تو وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑا ملتا ۔ فوج کی توہین کا مطلب ملک کی توہین ہوتا ہے ، لیکن پہلے مدھیہ پردیش کے ایک وزیر وجے شاہ نے ، جو سات بار سے الیکشن جیت رہے ہیں ، کرنل صوفیہ قریشی کو ’ آتنک وادیوں کی بہن ‘ قرار دے کر فوج کی اور اس کے ساتھ ملک کی توہین کی ، پھر مدھیہ پردیش کے ہی نائب وزیراعلیٰ جگدیش دیوڑا نے یہ اعلان کر دیا کہ ’ ملک کی سینا اور سینک مودی کے قدموں پر سرنگوں ہیں ‘! وجے شاہ کو جبلپور ہائی کورٹ نے بُری طرح سے پھٹکارا ، ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ، دوسرے دن ایف آئی آر درج کرنے کے عمل میں ’ چھل ‘ کا ذکر آیا اور ایک نئی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ، اور سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے کہ ’’ آپ کس قسم کا بیان دے رہے ہیں؟ آپ وزیر ہیں ۔ وزیر ہوتے ہوئے آپ کس قسم کی زبان استعمال کر رہے ہیں ؟ کیا یہ ایک وزیر کے معیار کا ہے؟ آئینی عہدے پر فائز شخص سے ایسے بیان کی توقع نہیں ہے۔ جب ملک الگ حالات سے گزر رہا ہے تو پھر ہم ایک ذمہ دار عہدے پر فائز شخص سے کیا پوچھیں ، آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں ، یہ ٹھیک ہے؟‘‘ لیکن ’ بواسیری کلمات ‘ ادا کرنے والے وزیر کے کان پر جوں نہیں رینگی ، اس نے ’ معافی ‘ کا ناٹک کیا ، اور اس ناٹک کے بعد غلیظ انداز میں ہنسا ! یہ ہنسی طنز سے بھری ہوئی تھی ۔ وجے شاہ کو خوب پتا ہے کہ اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے ۔ کرنل صوفیہ کی توہین کا مطلب فوج کی توہین ہے ، اُن شہدا کی توہین ہے جو ’ آپریش سیندور ‘ میں پیش پیش تھے ، یہ ملک کی توہین ہے ، اس ملک کی جس کے نام پر یرقانی ٹولہ کی پروپیگنڈا مشین دن رات کام کرتی رہتی اور ’ دیش بھکتی ‘ کا راگ الاپتی رہتی ہے ۔ لیکن معاملہ ایک مسلمان فوجی افسر کا تھا ، اس لیے سب کان موندے رہے ۔ ایم پی کی حکومت نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے ، یہ کس قدر شرم ناک ہے ! شرم ناک تو ایم پی کے نائب وزیراعلیٰ کے ’ بواسیری کلمات ‘ بھی ہیں کہ ’ سینا اور سینک مودی کے قدموں پر سرنگوں ہیں ‘ ! ایک جانب بی جے پی والے فوج کی بہادری کے قصیدے پڑھتے ہوئے ’ ترنگا یاترا ‘ نکال رہے ہیں ، پی ایم مودی اور راج ناتھ سنگھ نے فوج سے ملاقات کی ہے ، ان کی بہادری کو سراہا ہے ، ان کا شکریہ ادا کیا ہے ، اور دوسری جانب یہ یرقانی سیاست داں ہیں ، جو فوج کی توہین پر توہین کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ کیا مطلب ہے کرنل صوفیہ کو ’ آتنکیوں کی بہن ‘ قرار دینے کا ؟ یہی نا کہ وہ مسلمان ہیں اس لیے وہ پاکستان کے مسلمان دہشت گردوں کی بہن ہیں ! عام ہندوستانیوں کو اس شرم ناک بیان پر افسوس بھی ہے ، اور غصہ بھی ، لیکن وہ جو ’ دیش پریم ‘ اور ’ دیش بھکتی ‘ کی باتیں کرتے ہیں ، اُنہیں کوئی شرم نہیں ، وہ بے حیا کے پودے بن گیے ہیں ، زبان کو سیئے ہوئے ہیں ! لیکن یاد رکھیں کہ اگر کوئی کارروائی نہ کی گئی تو یہ ’ بواسیری کلمات ‘ والی ٹولی بے لگام ہوجائے گی ، اور صرف مسلمان ہی نہیں ہر کوئی اس کی زد پر ہوگا ، معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ لوگ سابق چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ اور خارجہ سکریڑی وکرم مسری پر یرقانیوں کے ’ بواسیری کلمات ‘ کا مشاہدہ کر ہی چکے ہیں ۔
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں