• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سلسلہء خطوط/دو طبیب،دو ادیب،دو حبیب(ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر عابد نواز)-خط نمبر 5،6 / بستر بنانا

سلسلہء خطوط/دو طبیب،دو ادیب،دو حبیب(ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر عابد نواز)-خط نمبر 5،6 / بستر بنانا

ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر عابد نواز کو

خط نمبر ۵۔۔۔۔۔۔۔۔دل گداز رکھنے والےہمراز عابد نواز !

میں آپ کا نیا محبت نامہ پڑھ کر آپ کی ظرافت کے ساتھ ساتھ آپ کی یاد داشت سے بھی متاثر ہو گیا ہوں۔ آپ کو اب تک ان گنت اشعار اور واقعات یاد ہیں۔ اس عمر میں اتنا اعلیٰ حافظہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے

اس عمر میں عورتیں سن یاس تک پہنچ جاتی ہیں اور مینوپاز کی شکایتیں کرتی ہیں۔ ناک پر رکھی عینک کمرے میں تلاش کرتی رہتی ہیں۔

مرد سن یاس کی بجائے بد حواس ہو جاتے ہیں سٹھیا جاتے ہیں

اپنا پتہ اور فون نمبر اور نام تک بھول جاتے ہیں اور جن کی یادداشت قائم رہتی ہے ان کی یادیں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ وہ دعا کرتے ہیں

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اور ایک آپ ہیں کہ نہ صرف حافظہ اچھا ہے بلکہ آپ کی خوش گوار یادوں میں شیرینی ہے مٹھاس ہے شادابی ہے شگفتگی ہے جنہیں پڑھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔

مجھے یہ جان کر بہت مسرت ہوئی کہ آپ کی اور سہیل زبیری کی پرلطف اور بھرپور ملاقات چار گھنٹوں تک جاری رہی اور چار کتابوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

نمبر چار سے مجھے دو اشعار کے چار مصرعے یاد آ رہے ہیں آپ بھی سن لیں

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن

دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

آپ کی گولڈن جوبلی کا دن قریب آ رہا ہے۔ اس دن اور اس تقریب کی تفصیل ضرور لکھیے گا۔ میں اس دن کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے تصور میں لمبی لمبی داڑھیوں والے بزرگ ابھرتے ہیں جو ایک دوسرے سے

ماشا اللہ

الحمد للہ

سبحان اللہ

اور مجھ جیسے پاپی کو دیکھ کر

استغفراللہ

کہہ رہے ہیں۔

مجھے تو یہ خدشہ تھا کہ اگر میں پہنچ گیا تو کہیں وہ مجھے راہ راست پر لانے کی تبلیغ ہی شروع نہ کر دیں۔ کیا سہیل زبیری نے آپ کو بتایا تھا کہ جب ہمارے ہائی سکول کے دوستوں کو پتہ چلا تھا کہ میں سہیل زبیری سے ملنے امریکہ جا رہا ہوں تو انہوں نے سہیل زبیری کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مجھے راہ راست پر لانے کی پوری کوشش کریں اور مجھے دوبارہ مشرف با اسلام کریں۔ ان بیچاروں کو کیا خبر کہ سہیل زبیری کا ایمان بھی میری طرح متزلزل ہے۔

پشاور کے چند دوست گاہے بگاہے فون کر کے میری اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ وہ سادہ لوح نہیں جانتے کہ مرض لاعلاج ہو چکا ہے۔ وہ نہیں مانتے کہ کئی پاپی کئی پارساؤں سے زیادہ خوش رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے اگلی دنیا میں جنت کا انتظار کرنے کی بجائے اسی دنیا میں اپنے لیے جنت بنا رکھی ہے بلکہ ایک مس حور بھی تلاش کر لی ہے۔

میں نے آپ کے محبت نامے کا مس حور سے ذکر کیا اور انہوں نے اسے سننے کی فرمائش کی تو میں ایک گھنٹہ ڈرائیو کر کے انہیں آپ کا خط سنانے گیا۔

وہ مس حور کے الفاظ سن کر بہت ہنستی رہیں اور آپ کی رگ ظرافت کو داد دیتی رہیں۔

آپ نے گاؤں جانے کا دلچسپ واقعہ سنا کر بہت محظوظ کیا۔

اب میں سوچ رہا ہوں کہ میں بھی آپ کو کوئی دلچسپ واقعہ سناؤں۔

میرے کلینک میں ایک بزرگ خاتون نفسیاتی علاج کے لیے آتی ہیں ۔ چونکہ وہ ڈرائیو نہیں کرتیں اس لیے ان کے بزرگ شوہر انہیں لے کر آتے ہیں اور ویٹنگ روم میں ان کا انتظار کرتے ہیں۔

دو ماہ پہلے مریضہ کے بزرگ شوہر کہنے لگے

کیا میں آپ سے تنہائی میں بات کر سکتا ہوں؟

میں نے کہا ضرور

وہ میرے آفس میں آئے اور کہنے لگے

میری بیگم سے پوچھیں وہ میرے ساتھ مباشرت کیوں نہیں کرتیں

میں نے بیگم سے پوچھا تو کہنے لگیں

میں تو دعوت دیتی ہوں یہ خود ہی انکار کر دیتے ہیں

میں نے پوچھا آپ کس طرح دعوت مباشرت دیتی ہیں؟

کہنے لگیں میں کہتی ہوں

Would you like to make bed

He says NO

میں نے جب بزرگ شوہر کو بتایا تو اس نے سر پیٹ لیا

کہنے لگا

میں دن میں دو دفعہ بستر بنانے کو تیار ہوں

اس طرح اس بزرگ کا ازدواجی مسئلہ حل ہو گیا۔

ان کے جانے کے بعد میں سوچنے لگا کہ اردو میں بھی لفظ

ہمبستری’استعمال ہوتا ہے لیکن میں نے کبھی اس لفظ پر زیادہ غور نہیں کیا تھا۔

انگریزی میں ہمبستری کے لیے Sleeping together کے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات کہ محبوب رات بھر سوتے کم اور جاگتے زیادہ ہیں۔

حضرت عابد نواز !

آپ کے مذاحیہ خطوط کا کمال یہ ہے کہ مجھ جیسا سنجیدہ انسان بھی کچھ مزاح پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

آپ نے فون کی گفتگو میں اپنے بچوں کا ذکر کیا تو میرا تجسس بڑھ گیا اور ذہن میں دو سوالوں نے سرگوشی کی

آپ نے شادی کا فیصلہ کب اور کیسے کیا؟

آپ کا باپ بننے کا تجربہ کیسا رہا؟

آپ کے خطوط کا مداح خالد سہیل ۲۱ دسمبر ۲۰۲۴ سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر عابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط نمبر ۶۔۔۔سالک پر تبصرہ

سہیل !

پچھلے ہفتے عشرے سے خاندانی اور گھریلو گہما گہمی کا ایک بھرپور سلسلہ چل رہا ہے لہذا خط کا جواب شاید دو تین دنوں میں دے سکوں گا البتہ “سالک” کا مطالعہ کچھ ہی دیر پہلے مکمل کیا ہے آپ نے اس بارے میں رائے دینے کا کہا ہے جو پیش خدمت ہے

“سالک” استعاراتی انداز اور صیغہ واحد غائب میں ایک منفرد اسلوب میں لکھی گئی سوانح حیات ہے جسے مصنف نے اظہار ذات کے موثر ذریعے کے طور پر برتا ہے یہ قاری کے لیے مصنف کی شخصیت کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے ایک عمدہ وسیلہ ہے جو ایک نفسیاتی معالج کی نفسیاتی کشمکش، ذہنی کیفیات اور رجحانات کی زمانی سرگزشت ہے

اس میں قاری کی ملاقات اُن کرداروں سے ہوتی ہے جن سے مصنف متاثر رہے ہیں اور دانشوری اور دانائی کے حوالے سے اُن سے اپنے سوالات کے جوابات کی تلاش میں رہے ہیں

“سالک” کے مطالعے سے مصنف کی حساس فطرت کا بخوبی علم ہوتا ہے اور جہاں انسانی رویوں پر اُن کے دکھ اور اندرونی درد کی ایک واضح تصویر تشکیل پاتی ہے وہیں انسانیت کے ایک ارفع تر مقام کی جانب ارتقاء کی خواہش و کاوش کا بھی بدرجہ اولیٰ اظہار ہوتا ہے

کتاب کے آخر میں مصنف نے اپنے اضطراب کو طمانیت اور دہائیوں کی ذہنی خلش کو سکون میسر آنے کا تذکرہ کیا ہے اور ایک خوش کن کیفیت میں “سالک” کو اختتام کا جامہ پہنایا ہے

سہیل آپ کی خواہش کے مطابق اب کچھ ذکر جشن زریں یعنی گولڈن جوبلی کا ہو جائے 24 دسمبر 2024 کو صبح 10 بجے 33 جہان دیدہ، گرم و سرد چشیدہ، الفت گزیدہ، کلفت کشیدہ اور عمر رسیدہ خواتین و حضرات خیبر میڈیکل کالج کے فائنل ایئر کے اُس لیکچر روم میں اکٹھے ہوئے جہاں 50 سال پہلے وہ اپنے آخری لیکچر کے لیے اکٹھے بیٹھے تھے

سب نے اپنا مختصر تعارف کرایا میں نے اپنا تعارف کرانے سے پہلے کہا کہ ہمارے ایک بہت خاص کلاس فیلو نے مجھے آپ تک اُن کا ہیلو کا پیغام پہنچانے کا کہا ہے اور پھر انہیں بتایا کہ اس خاص شخص کو ہم خالد سہیل کے نام سے جانتے ہیں اس پر پورے لیکچر ہال میں بھرپور تالیاں بجیں

آپ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس موقع پر لمبی داڑھیوں والے بہت سے حضرات جمع ہوں گے لیکن دو چار ہی ایسے تھے جن کی داڑھیاں کسی حد تک خود مختار تھیں مگر مولوی مدن کی حد تک نہیں یعنی

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

ایک محترمہ نے شاعری کا شغل پال لیا تھا اور اپنی کچھ نظمیں سنائیں البتہ دیپک تان کی شعلہ افشانی سے دامن بچا کر ورنہ غیرتِ ناہید کا معاملہ ہو جاتا

(آپ کو ان کے نام کا اشارہ مل گیا ہوگا

اس کے بعد پشاور کلب میں دوپہر کے کھانے کے لیے جانا ہوا کھانے کے دوران انفرادی گپ شپ چلتی رہی آپ نے شیطانوں کے بھائی بند (اخوان الشیاطین) کا جو حلقہ قائم کیا تھا اُس کے ایک معزز رکن جن کا تخلص عاجز ہوا کرتا تھا اس محفل میں تشریف فرما تھے انہوں نے خلوص بھرے انداز میں کہا کہ آپ کو راہ راست پر لاؤں اب میری کیا بساط تھی کہ بات کو طول دوں اور انہیں بتاؤں کہ درویش اپنی تلاش میں مشغول ہیں اور شاید علامہ اقبال کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا جانے میں مصروف ہیں علامہ کا یہ شعر محترم باسط صاحب کو بھی بڑا پسند تھا

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اب اگر ہم الٹا اپنا سراغ ڈھونڈنے والے کے سراغ میں پڑ جائیں تو پھر طہٰ خان تو ہمیں یہی کہیں گے کہ

ہر دم کسی کی ٹوہ کسی کے سراغ میں

انڈے دیے ہیں اُلو نے تیرے دماغ میں

لہذا یہی بہتر ہے کہ اکبر الہ آبادی کے قول پر عمل کیا جائے کہ

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

یہ سب کچھ میں نے خود تک محدود رکھا اور عاجز صاحب سے کچھ ذکر نہ کیا کیوں کہ آج کل اُن کا مزاج کچھ ایسا خودکار اور خودعنان ہو گیا ہے کہ بات بات پر اُن کی نرم مزاجی کا ن، گ سے بدل جاتا ہے

اس محفل میں اکثر احباب نے مرور زمانہ کے باوجود ایک دوسرے کو پہچان لیا اور جو نہیں پہچانے گئے وہ اپنا تعارف کروانے کے بعد پہچان لئے گئے لیکن ایک حضرت ایسے بھی تھے جن سے میں نے حتی المقدور اپنا تعارف کروایا لیکن اُن کے حافظے پر یہ آشکارا نہ ہو سکا کہ ہم پانچ سال تک کلاس فیلو رہے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس کا پورا اہتمام کر رکھا تھا کہ کسی طور بھی اُن کی عمر کا اندازہ نہ ہونے پائے اور اپنے بالوں کو اس قدر سیاہی سے مستفید کیا تھا کہ شیخ قلندر بخش جرات کونا بینا ہونے کے باوجود شب دیجور کی پھبتی سوجھتی مگر کیا کیا جائے پیر کہن سال کی کھال کے اُن شکن ہائے خمیدہ اور خطوط خم دار کا جنہیں غیر شاعرانہ زبان میں جھریاں کہا جاتا ہے اور جو کسی صورت ترمیم شدہ بالوں کے ساتھ موافقت پیدا نہیں کر سکیں ایسی لاحاصل ترمیم کے بارے میں تو یہی کہا جائے گا

آئینہ رکھ کے سامنے یارب وہ فتنہ ساز

ترمیم کر رہا ہے تیرے شاہکار میں

اب تو یہ حضرت ترمیم شدہ ہیں مگر جوانی میں اپنی فطری وجاہت کی وجہ سے عبیر و عنبر سے بے نیاز رہے ہیں

(ان کے نام کے اشارے سے آپ انہیں جان چکے ہوں گے)

جھریاں اپنی جگہ مگر شاعر حضرات نے خطوط خم دار کی وہ قسم بھی بیان کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ

میں سیدھی لکیروں کی کیا داد دوں

جو خط د لربا ہے وہ خمدار ہے

یہ دلچسپ محفل تقریباً تین بجے سہ پہر شرکاء کے اس احساس کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ

ختم ہونے کو ہے سفر شاید

پھر ملیں گے کبھی مگر شاید

جون ایلیا

سہیل میری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف تذکروں کے ساتھ ساتھ یاد ماضی کی چاشنی کے حوالے سے سکول اور کالج کے واقعات کا ذکر بھی ہوتا رہے اس طرح کے کئی واقعات میرے ذہن میں نقش ہیں آج اس سلسلے میں آپ سے منشی پریم چند کے تعلق کی بات ہوئ اگرچہ اب جن کا آپ سے تعلق ہے اُن سے منشی کا میم اور نون حذف ہو گئے ہیں

باقی تذکرے آئندہ پر اُٹھاتے ہیں

دوستِ درویش

عابد نواز

julia rana solicitors london

3 جنوری 2025

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply