گنہگاروں کی بستی۔۔عنبر عابر

گنہگاروں کی بستی میں شام اتر آئی تھی۔بے داغ اور گناہوں سے پاک شام،جو ہر روز اس بستی پر اپنے پَر پھیلاتی اور اپنا ذرّہ ذرّہ گناہوں میں بھر کر ندامت سے سر جھکائے وہاں چلی جاتی، جہاں بہت سی دوسری گناہ آلود شامیں اپنے بال کھولے سر پر خاک ڈالتیں۔دور بہت دور، پُر جلال آفتاب، گنہگاروں کی بستی کو شعلے بھری نگاہوں سے تکنے کے بعد پہاڑوں میں اوجھل ہو رہا تھا، جہاں بستی کے بڑوں کے بقول پاک سمندر تھا اور آفتاب اس میں روز غسل کرتا تھا۔انہی ساعتوں میں بستی کے ایک گنہگار کی نظر اس اجنبی پر پڑی۔

“تم ہماری بستی میں کوئی اجنبی لگتے ہو“ یہ کہہ کر اس نے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔اجنبی نے اس شخص کے ہاتھوں کو دیکھا اور یہ دیکھ کر چونک پڑا کہ اس کے ہاتھ خون آلود تھے۔یہ خون تازہ نہیں تھا بلکہ خشک تھا اور ہتھیلی پر جم گیا تھا۔اس نے بے دلی سے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔گنہگار نے اجنبی کا ہاتھ دیکھا تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ اس ہاتھ کو اپنی آنکھوں کے قریب لے گیا اور حیران نگاہوں سے اس کی شفاف ہتھیلی کو تکنے لگا۔یکدم وہ سخت لہجے میں بولا۔
“تم شاید یہاں کی شرائط سے ناواقف ہو۔یہ گنہگاروں کی بستی ہے اور یہاں صاف ہاتھ رکھنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں“
اجنبی اس کے قریب گیا اور سرگوشی میں بولا۔”میں جانتا ہوں کہ خون آلود ہاتھ کیسے صاف کیے جا سکتے ہیں“
یہ سن کر بستی کا گنہگار چونک گیا۔”تم خود کو چھڑانے کیلئے ایسا کہہ رہے ہو۔سب جانتے ہیں کہ یہ ہاتھ صرف ہفتے کے دن برسنے والی بارش ہی صاف کرسکتی ہے“
یہ کہہ کر وہ بستی والوں کو آوازیں دینے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آناًفاناً پوری بستی میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ ان کی بستی میں کوئی ایسا اجنبی آیا ہے جس کے ہاتھ صاف ہیں۔وہ جوق در جوق اس جگہ جا رہے تھے جہاں اس اجنبی کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا۔مشعلوں کی روشنی میں اجنبی کا چہرہ تمتما رہا تھا اور بستی کے لوگ گاہے گاہے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ ملاحظہ کرنے لگتے۔اجنبی چلّا کر بولا۔
“کیا تم سمجھتے ہو کہ دنیا کا ہر فرد گنہگار ہے؟ کیا دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں پایا جاسکتا جس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہو؟“
ایک گنہگار آگے بڑھا اور اس کے منہ پر چانٹا رسید کرنے کے بعد بولا۔
“ہمارے بڑے کہتے تھے کہ اس دنیا میں کوئی گناہوں سے پاک نہیں اور جس کے ہاتھ صاف ہوں اسے بستی سے دور رکھو۔وہ اس بستی کو تباہ کردیگا“
یہ سن کر اجنبی مدھم لیکن پُرسکون لہجے میں بولا۔
“تمہارے بڑے درست کہتے تھے۔۔میں خود بھی گنہگار ہوں لیکن میں گناہ کے باوجود اپنے ہاتھ صاف رکھنے پر قادر ہوں۔اگر تم مجھے آزاد کرتے ہو تو میں تم لوگوں کو بھی یہ طریقہ بتا سکتا ہوں“
رات ہوگئی تھی اور مشعلوں کی روشنی میں بستی والے بھوتوں کی مانند نظر آرہے تھے۔یہ سن کر پہلے تو خاموشی چھا گئی تھی پھر چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔
“یہ جھوٹ بولتا ہے“ پہلی آواز ابھری۔
“یہ ناممکن ہے“
“گناہ کے ساتھ ہاتھ صاف نہیں رہ سکتے“
اسے مار دو۔یہ ہمیں تباہ کردیگا“
“ہمارے ہاتھ ویسے بھی ہفتے کے دن برسنے والی بارش میں صاف ہوجاتے ہیں“ یہ آواز سب سے بلند تھی اور اس دلیل نے باقیوں کو خاموش کردیا۔وہ اجنبی کی طرف طنزیہ نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔اجنبی بلند آواز میں بولا۔
“میں جانتا ہوں ہفتے کے دن برسنے والی بارش میں تمہارے ہاتھ صاف ہوجاتے ہیں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہفتے کی شام تک بستی کے ہر فرد کے ہاتھ ایک بار پھر خون آلود ہوچکے ہوتے ہیں“
بات سچ تھی اس لئے بستی والوں پر سناٹا چھا گیا تھا۔گناہ زیادہ تھے اور اپنے ہاتھ بچانا مشکل تھا۔
تھوڑی دیر بعد ایک گنہگار آگے بڑھا۔اس کے ہاتھ میں ایک چوہا تھا۔وہ بلند آواز میں بولا۔
“ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ یہ اجنبی جھوٹ بول رہا ہے یا سچ“
یہ کہہ کر اس نے اجنبی کو زنجیروں کی گرفت سے آزاد کردیا۔تھوڑی دیر تک وہ اجنبی کو خاموش نگاہوں سے گھورتا رہا پھر بولا۔”تم نے اپنے ہاتھ اس چوہے کے خون سے رنگین کرنے ہیں“
اجنبی نے چوہا لیا اور ایک جھٹکے سے چوہے کی گردن علیحدہ کردی۔خون اس کے ہاتھوں پر پھسلنے لگا تھا۔بستی والے یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ خون اس کے ہاتھوں سے چپکا نہیں بلکہ ان سے رس کر زمین پر گرنے لگا تھا۔ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔اجنبی نے زمین پر رگڑ کر اپنے ہاتھ صاف کیے اور انہیں بلند کرکے بستی والوں کو دکھانے لگا۔بستی والے مشعلیں قریب کرکے اس کے صاف ہاتھ دیکھنے کیلئے امڈ پڑے۔تھوڑی دیر بعد وہ حیرت سے گنگ زمین پر سر جھکائے بیٹھے تھے۔ایک گنہگار نرم لہجے میں بولا۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟۔۔ہمارے بڑے غلط نہیں ہوسکتے“
اجنبی مسکرایا۔مشعلوں کی روشنی میں اس کی مسکراہٹ زہر آلود دِکھ رہی تھی۔وہ بولا۔
“جب تم گناہ کرتے ہو تو کیا دل میں اس کا افسوس پاتے ہو؟“
“ہاں۔۔ہر گنہگار افسوس کرتا ہے“ بستی والے بیک زبان بولے۔
“تو سنو! تمہارے ہاتھوں پر نظر آنے والا خون ضمیر کے آنسو ہیں جو ہتھیلیوں پر خون کی صورت میں چھلکتے ہیں، جبکہ میں نے افسوس کو مات  دیدی ہے، اپنے ضمیر کو مار دیا ہے، اس لئے میرے ہاتھ صاف رہتے ہیں“۔

بستی والوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد انہوں نے مشعلیں بجھا دی تھیں، اب روشنیوں کی ضرورت نہیں رہی تھیں۔
اجنبی چلا گیا۔بستی والوں نے ضمیر مار دیے،
خون آلود ہاتھ ہمیشہ کیلئے صاف ہوگئے، لیکن اس دن کے بعد بستی میں کبھی بارش نہیں برسی!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *