عمر خیام، اردو کے خیمے کے آس پاس/ظفر سیّد

(ایک پندرہ سال پرانے مضمون سے بےمحابا سرقہ)
پشتو کی ایک کہاوت ہے، ایک طرف ڈانگ (لاٹھی) ہے، دوسری طرف پڑانگ (تیندوا)، اور یہ ایسے موقعوں پر استعمال ہوتی ہے جب آپ کے پاس دو متبادل ہوں اور دونوں ناقابلِ عمل۔ شاعری کا ترجمہ بھی اسی کہاوت کی ذیل میں آتا ہے، کہ اصل کے قریب رہیں تو شعریت پر لاٹھی چارج ہو جاتا ہے، بھٹک جائیں تو تخیل کی چیرپھاڑ۔
کس واسطے، کہ شاعری میں زبان صرف خیالات کی ترسیل کے آلے کا کام نہیں کرتی بلکہ زبان بذاتِ خود شاعری ہوا کرتی ہے (رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی)۔ ترجمے میں صرف خیالات کا مطلب ہی منتقل ہو سکتا ہے، زبان نہیں۔ اسی لیے سیانوں نے کہہ رکھا ہے کہ شاعری کا ترجمہ کسی اور زبان میں ناممکن ہے۔

تاہم فارسی شاعری کے اردو مترجمین کو ایک لائف لائن حاصل ہے کہ وہ اپنے تراجم میں فارسی کی لفظیات کو کسی حد تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔

اب آئیے عمر خیام کی طرف۔ ہماری معلومات کے مطابق خیام کے اردو تراجم کا چشمہ 1841 ہی میں پھوٹ نکلا تھا، یعنی فٹزجیرلڈ کے شہرۂ افلاک ترجمے سے بھی کوئی 17 سال قبل۔
اس تحریر میں ہم نے تجربتہً عمر خیام کی ایک ہی رباعی اٹھا کر اسے مختلف اردو ترجموں کے سامنے رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ یہ منتقلی کس حد تک کامیاب یا ناکام رہی۔
خورشید کمندِ صبح بر بام افگند
کیخسروی روز بادہ در جام افگند
می خور کہ ندای عشق ہنگام سحر
آوازۂ ’اشربوا‘ در ایّام افگند
خیام نے لفظوں سے ایک سہ ابعادی ماحول بنا ہے۔ کھلنڈرا سورج سلطان کے محل کے کنگوروں پر کرنوں کا جال پھینکتا ہے۔ لیکن اصل سلطان تو دن ہے، جو خود سورج کے تابع ہے۔ اور اس ماحول میں چوتھی جہت ایک تیز آوازے کی ہے جو مشرق سے مغرب تک سائرن کی طرح بجے جا رہا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ شراب سورج ڈھلنے کے بعد پی جاتی ہے، مگر یہاں عشق خود صبح کی پہلی شعاعوں کے ساتھ شراب کی بوتل کھولنے کی تلقین کر رہا ہے۔ رباعی میں بصارت کے ساتھ ساتھ سامعہ اور ذائقہ کی حسوں پر مبنی پیکر بھی برتے گئے ہیں۔ ساتھ ہی پانچویں بلکہ چھٹی جہت آوازۂ اشربو قرانی آیت کلمے كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا کی طرف اشارہ ہے، یعنی ’کھاؤ پیو۔‘ چنچلتا، مستی بلکہ سرمستی رباعی کے انگ انگ سے چھلک رہی ہے۔
ظاہر ہے کہ اردو مترجموں رباعی کے ترجمے میں ان ساری جہتوں کی نزاکتوں کو ضرور ملحوظِ خاطر رکھا ہو گا، تو چلیے ٹور شروع کرتے ہیں۔

1923 میں حضرت ملک الکلام سید محمد لائق حسین قوی امروہی نے خیام کی رباعیات کا ترجمہ ’تاج الکلام‘ کے نام سے کیا۔ اس کتاب میں مذکورہ رباعی کو کچھ اس طرح سے اردو کا روپ دیا گیا ہے:
خورشید نے کمند سی پھینکی ہے سوئے بام
فرماں روائے روز نے مے سے بھرا ہے جام
مے پی کہ اٹھنے والوں نے ہنگامِ صبح کے
بھیدوں کو تیرے کھول دیا سب پہ لا کلام
’اِشربو‘ کی صدا بیچ میں سے نکل کر منظر کو یک رخا کر گئی۔ اوپر سے رباعی کا سب سے اہم لفظ (یعنی آخری) بھرتی کا رکھ کر مزید پانی پھیر دیا گیا۔
اب دیکھیے محشر نقوی کو کہ انھوں نے خیام سے براہِ راست ترجمہ کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ فٹزجیرلڈ کے بلب سے اپنا دیا جلایا:
اٹھ جاگ کہ خورشیدِ خاور، وہ چرخِ بریں کا شہ پارا
تاریکیِ شب کی چادر کو اک آن میں کر پارا پارا
ہر برگ و شجر، ہر بام و در کو نور کا پہنا کر زیور
مشرق کی مہم کو سر کر کے اجرامِ فلک کو دے مارا
آدھی رباعی صبحِ کاذب کے اندھیرے میں غروب ہو گئی۔

ایم ڈی تاثیر اردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں۔ان کے نامۂ اعمال میں کچھ پردہ نشینوں کے علاوہ عمر خیام کی چند رباعیوں کے نام بھی آتے ہیں۔
اٹھ جاگ کہ شب کے ساغر میں سورج نے وہ پتھر مارا ہے
جو مے تھی وہ سب بہہ نکلی ہے، جو جام تھا پارا پارا ہے
مشرق کا شکاری اٹھا ہے، کرنوں کی کمندیں پھینکی ہیں
ایک پیچ میں قصرِ اسکندر،اک پیچ میں قصرِ دارا ہے
آپ نے دیکھا کہ اگرچہ یہ ترجمہ رواں دواں اور چست ہے، تاہم اسے خیام کا ترجمہ نہیں کہا جا سکتا اور تاثیر صاحب نے بھی اسے فٹزجیرلڈ کے انگریزی ترجمے سے کشید کیا ہے۔
اردو کے رندِ خراباتی عبدالحمید عدم نے 1960 میں رباعیاتِ حکیم خیام کے نام سے خیام کا ترجمہ کیا۔ کتاب کے دیباچے کے مطابق عدم کو اس کام کی ترغیب ایم ڈی تاثیر صاحب نے دلائی تھی۔ عدم نے اپنے ترجمے میں یہ اختراع کی کہ اکثر رباعیوں کا ترجمہ رباعی کی شکل میں نہیں بلکہ قطعے کی شکل میں کیا ہے، جس میں تین کی بجائے دو قوافی استعمال کیے گئے ہیں۔
اوپر کی مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ خیام کے اکثر مترجموں کے لیے فارسی رباعی کے تین قوافی کو نبھانا بے حد مشکل ثابت ہوا ہے، جس کی وجہ سے رباعی رباعی نہیں بلکہ قافیہ پیمائی بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن عدم نے قطعے کی ہیت استعمال کر کے اور دو قافیے برت کر روانی اور بندش کی چستی کی خوبیاں حاصل کر لی ہیں:
جاگ ساقی کہ حجلۂ شب میں
ایسا کنکر سحر نے مارا ہے
جامِ درویش کی بساط ہی کیا
جامِ سلطاں بھی پارا پارا ہے
اب واقف مرادآبادی کو دیکھتے ہیں جن کے ترجمے کی کتاب کے بارے میں کہا گیا تھا کہ خیام کو آئینہ دکھاتی ہے:
اب صبح ہوئی، دیر نہ کر، جاگ شِتاب
ہنگامِ صبوحی ہے یہی محوِ خواب
یوں وقت نہ کھو، جلدی سے اٹھ کر پی مے
خورشید نے خود جام میں ڈھالی ہے شراب
اس میں کوئی شک نہیں کہ واقف صاحب کا ترجمہ نک سک سے درست مگر اس میں وہ بہاؤ اور کٹاؤ کہاں جو خیام کی رباعی میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خیام کو آئینہ دکھانے کی کوشش میں شاعر خود بےنقاب ہو گیا۔

اب ایک نظر صبا اکبر آبادی کی رباعی پر:
خورشید نے پھینکی ہے کمندِ سحری
خسرو نے اڑائی دن میں شیشے کی پری
مے پی کہ سحر خیز پرندوں کی صدا
اَسرار کی کرتی ہے ترے پردہ دری

دورِ جدید کے صاحبِ اسلوب شاعر اختر عثمان رباعی کے فن پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس رباعی کا میرے لیے چند منٹوں میں فی البدیہہ ترجمہ کر کے مجھے دنگ کر دیا:
خورشید نے پھینکی جو سویرے کی کمند
کی خسرو نے یک بار کیا جام بلند
اور وقتِ سحر عشق کی آواز آئی
پی لے کہ اڑا جاتا ہے لمحوں کا پرند
اردو نظم کے بڑے شاعر میرا جی نے جہاں دنیا بھر کے شعرا کے اردو میں ترجمے کیے، وہیں انھوں نے ’خیمے کے آس پاس‘کے نام سے رباعیاتِ خیام کا ترجمہ بھی کیا۔ جیسے کہ نام سے ظاہر ہے، یہ ترجمہ اصل کی ڈھیلی ڈھالی پیروی ہے۔ تاہم میرا جی کا کمال یہ ہے کہ اکثر مقامات پر وہ خیام کو ہندوستانی لبادہ پہنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو فٹزجیرلڈ نے انگریزی میں سرانجام دیا تھا:
جاگو، سورج نے تاروں کے جھرمٹ کو دور بھگایا ہے
اور رات کے کھیت نے رجنی کا آکاش سے نام مٹایا ہے
جاگو اب جاگو، دھرتی پر اس آن سے سورج آیا ہے
راجہ کے محل کے کنگورے پر اُجّول کا تیر چلایا ہے
مجید امجد نے غالباً خیام اور میرا جی دونوں سے فائدہ اٹھا کر بہت عمدہ شعر نکالا ہے:
کس کی کھوج میں گم صم ہو، خوابوں کے شکاری جاگو بھی
اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا

میرا جی نے رباعی کی ہیت کے بھاری پتھر کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ چوں کہ وہ گیت کے شاعر تھے، اس لیے انھوں نے گیت کی لمبی اور مترنم بحر کا انتخاب کیا۔
ہندوستانیت کی بات آئی ہے تو قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ہندی کے مشہور شاعر اور امیتابھ بچن کے والد ہری ونش رائے بچّن نے بھی ’خیام کی مدھو شالا‘ سے نام سے رباعیاتِ خیام کا ترجمہ کیا ہے۔ تقابل کی غرض سے ’خورشید کمندِ صبح‘ والی رباعی کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے:
اوشا نے پھینکا روی پاشانڑ
نشا بھاجن میں، جلدی جاگ
پریے، دیکھو پا یہ سنکیت
گئے کیسے تارک دل بھاگ
اور دیکھو
اوہیری نے پورب کے لال
پھنسا لی سلطانی مینار
بچھرا کیسا کرنوں کا جال

خیام کی رباعیوں کا ترجمہ اس لیے بھی مشکل ثابت ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کی ایک خصوصیت وہ ہے جسے کلاسیکی اصطلاح میں ’کیفیت‘ کہا جاتا ہے۔ کیفیت والا شعر سن کر اس کے الفاظ اور معنی کی طرف فوری طور پر ذہن نہیں جاتا بلکہ یہ دل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ معنی آفرینی والے شعر کو سن کر زبان سے واہ نکلتی ہے، جب کہ کیفیت والا شعر سننے کے بعد دل سے آہ نکلتی ہے۔

julia rana solicitors

اور اب آخر میں فٹزجیرلڈ کا ترجمہ دیکھیے، جو اس کی کتاب کی پہلی رباعی بھی ہے۔ فٹزجیرلڈ مختلف ایڈیشنوں میں رباعی کو انیس بیس کرتا رہا، مگر مجھے یہ ترجمہ سب سے زیادہ بہتر اور کامیاب لگتا ہے:
Awake! for the morning in the bowl of night
Has flung the stone that puts the stars to flight
And lo! the Hunter of the East has caught
The Sultan’s Turret in a noose of light
یہ ترجمہ اصل سے بہت زیادہ مطابقت نہیں رکھا، چناں چہ فٹزجیرلڈ نے خود ہی اعتراف کیا تھا کہ یہ translation نہیں transmogrification ہے۔ تاہم اس کا یہ کارنامہ قابلِ صد تحسین ہے کہ اس نے خیام کی قرونِ وسطیٰ کی ایرانی فضا کے ساتھ ساتھ رباعی کی کیفیت کو بھی سہولت سے انگریزی میں منتقل کر دیا ہے۔
آپ کو کون سا ترجمہ بہتر لگا؟ دوسرے لفظوں میں کون ڈانگ اور پڑانگ دونوں سے بچنے میں دوسروں سے زیادہ کامیاب رہا؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply