ریاضی، جو کہ منطق اور دلیل کا مضمون ہے بدقسمتی سے ہمارے نظامِ تعلیم میں رَٹّا کلچر کا شکار ہو چکا ہے۔ پچھلے مضمون میں ہم نے اس جانب ابتدائی اشارے دیے تھے اور اب اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں تاکہ اس المیے کی گہرائی کو سمجھا جا سکے۔
اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ ریاضی ایک پریکٹس والا مضمون ہے۔ بزرگ، والدین، حتیٰ کہ اکثر اساتذہ بھی یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ ریاضی میں بس جتنی زیادہ مشق کرو گےاتنے ہی اچھے نمبر آئیں گے۔ لیکن اگر اس خیال کی تہہ میں جھانکا جائے تو حقیقتاً یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاضی وہ مضمون ہے جس میں رَٹّا سب سے زیادہ کارگر ہے۔ یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے ہمارے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیا ہے اور تعلیم کو محض یادداشت کا کھیل بنا دیا ہے۔
ریاضی کے ہر تصوّر کو کسی نہ کسی فارمولے، قاعدے یا مساوات کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایلیمنٹری لیول تک چونکہ اس کے ہر سوال کا صرف ایک ہی درست جواب ہوتا ہے اس لیے یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ اگر فارمولے یاد کر لیے جائیں تو ہر سوال لمحوں میں حل کیا جا سکتا ہے۔ بس سوال کے عددی کوائف کو فارمولے میں رکھو، حساب کرو اور جواب پا لو۔ اسی لیے بچے زبانی یاد کیے ہوئے فارمولوں کو ہر سوال پر لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ریاضی کا اصل حسن اس کی تفہیم میں ہے، نہ کہ رَٹنے میں۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ تو تمام فارمولے یاد کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اندھادھند کسی بھی سوال پر ایک یادشدہ فارمولا لاگو کرنا ہمیشہ درست نتیجہ دیتا ہے۔ ہر مسئلے کو سمجھنا، اس کا تجزیہ کرنا، اور غور و فکر کرنا ناگزیر ہے۔ سوال میں دی گئی معلومات اور طلب کردہ جواب کے درمیان منطقی رشتہ تلاش کرنا، پھر متعلقہ تصوّر کو پہچان کر مناسب قاعدے کا انتخاب کرنا ایک ایسا ذہنی عمل ہے جو صرف پختہ تفہیم سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ مکمل فارمولا استعمال کرنے کے بجائے اس کا کوئی جزو کسی دوسرے اصول کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا پڑتا ہے اور اگر تصور واضح نہ ہو تو سارا حل غلط سمت میں جا نکلتا ہے۔
بدقسمتی سے کچھ اسکولوں میں اب بھی یہ پرانا رواج قائم ہے کہ ہر سوال سے پہلے فارمولا لکھنے پر اضافی نمبر دیے جاتے ہیں۔ کیمبرج بورڈ نے تو اس روایت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور امتحان کے دوران ایک شیٹ مہیا کرتا ہے جس میں تمام ضروری فارمولے درج ہوتے ہیں۔ اصل مہارت یہ نہیں کہ فارمولا یاد ہو بلکہ یہ ہے کہ اس کا درست اطلاق کب اور کیسے کرنا ہے۔ یہ ہنر صرف تب آتا ہے جب بچہ تصورات کو سمجھ کر سیکھتا ہے۔
ایک اور تشویشناک مسئلہ یہ ہے کہ بعض اساتذہ خود بھی کسی سوال کو صرف ایک ہی طریقے سے حل کرنا جانتے ہیں اور طلبہ کو بھی اسی ایک راہ پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ متبادل اور درست طریقوں کو نا صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات طالب علم کے نمبر بھی کاٹ لیتے ہیں۔ ایسے سخت گیر رویے نہ صرف طالب علم کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں بلکہ رَٹّا کلچر کو مزید پروان چڑھاتے ہیں۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ اساتذہ یہ دعوے کرتے ہیں کہ کیمبرج طریقہ تدریس یا مارکنگ اسکیم میں متبادل طریقے قابل قبول نہیں حالانکہ سچ یہ ہے کہ CIE کی مارکنگ اسکیم باقاعدہ طور پر متنوع طریقوں کو تسلیم کرتی ہے۔ جب ایسے طلبہ میرے پاس آتے ہیں اور ان تلخ تجربات کا ذکر کرتے ہیں تو میں نرمی سے انہیں سمجھاتا ہوں کہ اپنے اساتذہ سے مؤدب انداز میں بات کریں اور انہیں یاد دلائیں کہ کیمبرج کی اسکیم تمام درست طریقوں کو مانتی ہے۔ لیکن اکثر اوقات اساتذہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی انا کا حصار کھڑا کر لیتے ہیں اور طالب علم کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
اس سارے مسئلے کی جڑ اس تعلیمی نظام کی کمزور بنیادیں ہیں جس میں نہ تو مناسب تدریسی رہنمائی ہوتی ہے، نہ ہی مضامین کے علیحدہ شعبے یا مربوط منصوبہ بندی۔ اکثر اسکولوں میں نہ کوئی باقاعدہ ہیڈ ٹیچر ہوتا ہے، نہ ہی تدریسی مواد کے تسلسل یا تجزیے کا کوئی نظام۔ نتیجتاً ہر استاد اپنی سمجھ اور تجربے کی بنیاد پر پڑھانے لگتا ہے، جس کے باعث نہ صرف تدریسی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ ٹیسٹ اور امتحانات میں بھی ایسی خامیاں پیدا ہوتی ہیں جو بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک سنگین خامی یہ بھی ہے کہ پرائمری اور مڈل درجات کے اساتذہ اکثر GCE یا IGCSE کے نصاب اور امتحانی انداز سے مکمل ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ یا تو پرانے مواد پر انحصار کرتے ہیں یا موجودہ امتحانی پیٹرن سے غیر متعلقہ ٹاپکس پر زور دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے ان اہم موضوعات سے محروم رہ جاتے ہیں جو بعد کے درجات میں ان کی کارکردگی کے لیے بنیاد رکھتے ہیں۔
جب یہ موضوعات ابتدائی کلاسوں میں نہیں پڑھائے جاتے تو سینئر اساتذہ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ طلبہ ان سے واقف ہوں گے۔ چنانچہ نہ وہ ان پر توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی دہرانے کی زحمت کرتے ہیں۔ یوں طلبہ بنیادی تصورات سے ناآشنا رہتے ہیں اور امتحانات میں ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
یہ صرف نصاب کی معلومات کی کمی نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی نظام کی غیر موجودگی کا مسئلہ ہے۔ جب تک اسکولوں میں منظم شعبے، تربیت یافتہ اساتذہ، اور باقاعدہ تدریسی رہنمائی میسر نہیں ہو گی، تعلیمی معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔
مزید ستم یہ کہ بعض اسکولوں میں ہر سال وہی امتحانی پرچے بار بار استعمال کیے جاتے ہیں۔ پرانے پرچے دہرانا صرف خانہ پُری کے مترادف ہوتا ہے۔ چونکہ اسکول انتظامیہ نہیں چاہتی کہ پرچے باہر جائیں، وہ بچوں کو امتحان کے بعد پرچے واپس نہیں دیتی، جس سے بچے اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھ ہی نہیں پاتے۔ والدین اس پر شدید تحفظات رکھتے ہیں مگر اکثر خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس شکایت کرنے کا مؤثر ذریعہ نہیں ہوتا۔
رَٹّا کلچر کے اس نظام میں کچھ اسکول نسبتاً بہتر ضرور ہیں جہاں تدریس کا نظام قدرے منظم ہے اور اساتذہ و انتظامیہ نہایت محنتی اور دیانتدار بھی ہیں۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اکثر انہیں اس بات کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ وہ نادانستہ طور پر اسی رَٹّا کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس نظام میں خواہ آپ کتنی ہی محنت یا دیانت سے کام لیں جب تک آپ بچے کی فطری دلچسپی، مزاج، رجحان اور اندرونی ضرورتوں کو سمجھے بغیر کسی مضمون یا طریقۂ کار کو زبردستی تھوپتے رہیں گے اُس کا نتیجہ کبھی بھی حقیقی فہم کی صورت میں سامنے نہیں آئے گا۔

ہمیں ایک ایسے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو طلبہ کی سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے کی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھائے نہ کہ ان پر کوئی بیرونی ایجنڈا مسلط کرے۔ ریاضی محض نمبروں یا فارمولوں کی مشق نہیں بلکہ یہ عقل و فہم اور تجزیاتی صلاحیت کی تربیت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کو ریاضی کے فارمولے یا سوالات زبانی یاد کروانے کے بجائے اس مضمون کو اُن کی ذہنی نشوونما،تجسس اور بصیرت نکھارنے کا ذریعہ بنائیں۔ یہی طرزِ فکر ایک روشن، مؤثر اور پائیدار تعلیمی ترقی کی علامت بن سکتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں