پاک بھارت جنگ سے ملنے والا سبق/ شہزاداحمدرضی

بالآخر پاکستان اور بھارت امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔22اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے مبینہ دہشت گردی کے واقعے نے پاکستان اور بھارت کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔ حسب روایت اور حسب توقع بھارت نے اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی۔ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ جنگ کا ماحول پیدا کیا گیا۔ عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔
دنیا میں ہر ذی شعور کو احساس ہونے لگا کہ بھارت پاکستان پر ضرور حملہ کرے گا۔ اور یوں بھارت نے پاکستان میں متعدد مقامات پر حملہ کرکے جنگ کا آغاز کردیا۔ پاکستان نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن بھارت کاجنگی جنون بڑھتاہی گیا۔ آخر کار پاکستان کو بھی آج کے دن یعنی 10مئی کو بھارتی جارحیت کا منھ توڑ جواب دینا پڑا۔ یہ جواب نہایت بھرپور تھا۔ پاکستانی افواج نے جہاں بھارتی فوجی تنصیبات کو ٹھیک ٹھاک نشانہ بنایا وہاں سائبر کے محاذ میں بھی بھارت جیسی طاقت کو ناکوں چنے چبوائے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس جنگ کا دائرہ وسیع ہوگا اور شایدیہ کوئی خطرناک رخ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے۔لیکن پھر امریکہ کی مداخلت پر دونوں فریق جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے اور یوں یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ یہ جنگ بہت ساری چیزوں کو اجاگر کرگئی۔
٭بھارت ایک طاقت ہے اور روایتی جنگ کے میدان میں پاکستان بھارت کا مقابلہ کرہی نہیں سکتا۔ یہ ایک عام تصور تھا۔ یہ تصور بھی پاش پاش ہوگیا۔ پاکستان نے روایتی جنگ کے میدان میں بھارت کو منھ توڑ جواب دیا۔رافیل کی پاکستان کے ہاتھوں تباہی دنیا کوششدر کرگئی۔ گو عددی طور پر بھارت کو برتری حاصل ہے لیکن جنگ جیتنے کے لیے یہ کوئی ضروری عنصر نہیں۔
٭پاکستان معاشی طور پر جتنا مرضی کمزور ہو، وہ اپنے دفاع کے لیے ہرگز کمزور نہیں۔ وہ کم ازکم بھارت کی جارحیت کا مقابلہ ضرور کرسکتا ہے۔
٭بھارت خود کو سائبر کے میدان میں بہت بڑی توپ سمجھتا تھا لیکن پاکستانی جانبازوں نے بھارت کو اس میدان میں بھی دھول چٹادی۔
٭اس جنگ نے بھارت کے طاقتور ہونے کے دعوے کو جھوٹا ثابت کردیا۔ بھارت کتنا طاقتور ہے، سب عیاں ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں بھارت ننگا ہوگیا۔ اس جنگ نے پاکستانی عوام کو بھی خوداعتمادی دی۔ ہمیں بھارت سے مرعوب ہونے کی اب کوئی ضرورت نہیں۔
ایک بات اور ثابت ہوگئی کہ بھارتی عوام ابھی تک میچور نہیں ہوسکی۔ آج بھی بھارتی عوام پاکستان دشمنی میں اندھی ہے۔ اتنی اندھی کہ وہ ووٹ بھی انہی گدھوں کو دیتی ہے جو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد پاکستان دشمنی اور مسلمان دشمنی پر رکھتے ہیں۔
اس جنگ نے ایک بار پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو ثابت کردیا ہے۔مضبوط فوج کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھرپور مہارت کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔سوچیں کہ اگر یہ چیزیں آج ہمارے عرب بھائیوں کے پاس ہوتیں تو کیا وہ اسرائیل نامی شتونگڑے کے ہاتھوں اس قدر ذلیل ورسوا ہوتے؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply