فلیٹ ارتھر حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط9

اعتراض136: کئی لوگ سوچتے ہیں کہ جدید فلکیات گرہنوں کی بالکل صحیح پیشن گوئی کرتی ہے حالانکہ ہزاروں سال پہلے موجود انسان بھی بالکل ٹھیک ٹھیک پیشن گوئیاں کرتے تھےحالانکہ وہ فلیٹ ارتھ کے حساب سےپیشنگوئیاں کرتے تھے۔
جواب: یہ سچ ہے کہ سابقہ زمانے کے لوگ چاند گرہن کے متعلق ٹھیک پیشن گوئیاں کرتے تھے کیونکہ چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے جبکہ سورج گرہن کے متعلق عموماً بالکل ٹھیک پیشن گوئیاں نہیں کرپاتے تھے کیونکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے نہ کہ سورج زمین کے گرد، لہٰذا اس دعوے میں کوئی خاص سچائی نہیں کہ پہلے وقتوں میں تمام گرہنوں کی پیشنگوئیاں درست ہوتی تھیں۔

اعتراض 137: کئی بار ایسا چاند گرہن دیکھا گیا ہے جس میں سورج اور چاند دونوں افق پر موجود ہوتے ہیں اور چاند کو گرہن لگا ہوتا ہے،حالانکہ سائنسدان کہتے ہیں کہ چاند گرہن تب لگتا جب چاند عین زمین کے پیچھے آجاتا ہے،دراصل چاند گرہن کچھ اور چیز ہوتی ہے ویسی نہیں جیسا سائنسدان بتاتے ہیں ۔
جواب: ایسے قدرتی مظہر کو فلکیات میں Selenelion Eclipse کے نام سے جانا جاتاہے جب گرہن کے دوران سورج اور چاند اُفق پر نظر آرہے ہو ،یہ عشروں یا صدیوں بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی اصل وجہ Atmospheric Refraction اور Mirage ہی ہوتے ہیں۔ ان کے متعلق ہم پچھلی اقساط میں بہت ہی تفصیلاً پڑھ چکے ہیں۔ اِ ن عوامل کے باعث سورج غروب ہونے کے باوجود تھوڑی دیر کے لئے افق پر ہلکا سا نظر آرہا ہوتاہے۔ اگر فلیٹ ارتھرز کی بات میں ذرہ برابر بھی سچائی ہوتی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج تک تاریخ میں چاند گرہن اس وقت واقع کیوں نہیں ہوا جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر موجود ہوتاہے؟

اعتراض 138: زمین کو گول ماننے والے عموماً یہ ثبوت پیش کرتے دِکھائی دیتے ہیں کہ جب سمندر کے کنارے آپ کسی جہاز کو دیکھیں گے تو افق کے پاس پہنچ کر اس کا پیندہ پہلے غائب ہوگا اس کے بعدبقیہ جہاز آہستہ آہستہ غائب ہوگا حالانکہ دیکھنے کی حد کے قانون کو اگر سمجھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سیدھی سطح پر ایسا ہونا اِس قانون سے ثابت ہوتا ہے۔جس سے ثابت فلیٹ ارتھ ثابت ہوجاتی ہے۔
جواب: اکثر فلیٹ ارتھرز خود ساختہ Law of Perspective کا سہارا لے کر زمین کو فلیٹ ثابت کرنے پر بضد رہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں چیز دُور ہوتی جاتی ہے تو object اور observer کی آنکھ کے مابین angle چھوٹا ہوجانے کے باعث چیز چھوٹی دِکھنا شروع ہوجاتی ہے لیکن اُفق سے چیزوں کے نچلے حصے غائب ہوجانے کو اس قانون کی نظر سے دیکھنا کسی طور درست نہیں۔یہی وجہ ہے کہ فلیٹ ارتھرز سورج کے ڈوبنے کو “Law of Perspective” کے ذریعے سمجھا نہیں سکے۔

اعتراض139: اگر کوئی جہاز آپ کو نظروں سے غائب ہوتا نظر آئے تو اسے ٹیلی سکوپ کی مدد سے دیکھیے وہ آپ کو دوبارہ نظر آنا شروع ہوجائے گا جس کا مطلب ہے کہ زمین گول نہیں ہے بلکہ چیزیں دُور جانے کے باعث ایسا ہوتا ہے۔
جواب: یہ اعتراض جھوٹ پر مبنی ہے۔ بحری جہاز کا سفر کرنے والے عموماً ٹیلی سکوپس اپنے پاس رکھتے ہیں اور ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا گیا۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کے لئے اعتراض 60 سے 65 تک کے جوابات بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

اعتراض140: زمین کے سپن کو ثابت کرنے کے لئے Foucault کے پینڈولیم کو بطور ثبوت پیش کیاجاتا ہے لیکن در حقیقت پینڈولم کے لہرانے کا زمین کی گردش سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر زمین کی گردش کا پینڈولم پر اثر ہوتا تو پینڈولم کو خودبخود حرکت میں آجانا چاہیے تھا مگر آج تک ایسا کوئی پینڈولم نہیں دیکھا سو زمین ساکن ہے۔
جواب: فلیٹ ارتھرز سائنسی calculationsکوبہت خوبصورتی کے ساتھ اپنے جھوٹے نظریات میں گڈمڈ کرکے عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں، کبھی بھی کسی سائنسدان نے یہ نہیں کہا کہ زمین کے گھماؤ کے باعث پینڈولم ہلتا رہتا ہے۔ Foucault Pendulum کا مختلف سمت میں گھماؤ زمین کے گھومنے کا واضح ثبوت ہے اور اس کو 170 سال سے تسلیم کیا جارہا ہے۔گوگل پر سرچ کرکے Foucault کے متعلق باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

اعتراض141: Coriolis Effect کے مطابق ایسے ٹوائلٹس جو زمین کے شمالی کُرے میں واقع ہیں ان میں پانی کے اخراج کے گھُماؤ کی سمت(anti-clock wise)، جنوبی کُرے میں موجود ٹوائلٹس میں پانی کے اخراج کے گھماؤ کی سمت (clock wise)سے الٹ ہونی چاہیے، حالانکہ یہ تو محض پانی کے نکلنے کے زاویے پر منحصر ہے کہ وہ نکلتے وقت کس سمت میں گھوم کر نکلتا ہے۔
جواب: یہ بات بجا ہے کہ Coriolis Effect کے مطابق ایسا ہی ہونا چاہیے مگر چھوٹے سکیل پر کولارس اثر کم ہوتا ہے اور پانی کے نکلنے کا زاویہ اس اثر کو متاثر کرسکتا ہے مگر چونکہ بڑے پیمانے پر کولارس اثرمتاثر نہیں ہوتا سو اگر بڑے پیمانے پر دیکھا جائے تو زمین پر چلنے والی ہواؤں اور بگولوں کی سمت شمالی کُرے اور جنوبی کُرے پر مختلف ہوتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہےکہ زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔

اعتراض 142: چونکہ سمندر پر ماحول کی گہری تہہ موجود ہوتی ہے اس وجہ سے آپ ٹیلی سکوپ کے باوجود دُور تک نہیں دیکھ سکتے، مگر گول زمین کے ماننے والے جتنی حد بتاتے ہیں اس سے زیادہ دُور تک دیکھا جاسکتا ہے۔اگر زمین گول ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔
جواب: ہم نے Atmospheric Refraction اور Mirages کے متعلق پچھلی اقساط میں بہت تفصیل سے سمجھا ہے اس اعتراض میں فلیٹ ارتھرز اشارے کنائے میں ہی سہی مگر ان مظاہر کی حقیقت تسلیم کررہے ہیں ۔ ماحولیاتی اثر کی وجہ سے ہی کئی بار ہمیں Mirages دِکھ جاتے ہیں جس کو فلیٹ ارتھرز بعد ازاں فلیٹ زمین کے لئے بطور ثبوت استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر ٹیلی سکوپ کے آگے Polarization filter لگا کر دیکھا جائے تو گول زمین کے ماننے والے جتنی حد بتاتے ہیں اس سے آگے کچھ نظر نہیں آتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ماحولیاتی اثر روشنی کی کرنوں کو موڑ کر ہمیں زیادہ دُور دیکھنے کی صلاحیت فراہم کردیتا ہے۔

اعتراض 143: زمین اگر گول ہے تو پھر کیوں سورج غروب ہونے کے باوجود روشنی آسمان پر رہتی ہے؟
جواب: ہم سورج کے طلوع و غروب کو (اپنے دیکھنے کے لحاظ سے) تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں جب سورج افق سے نیچے چلا جاتا ہے اس وقت کو ہم Civil Dusk کہتے ہیں اس دوران آسمان پر روشنی موجود رہتی ہے، اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے جب سورج افق سے 6 ڈگری نیچے چلا جاتا ہے اس وقت کو ہم Nautical Dusk کہتے ہیں اِس دوران آسمان پر روشنی کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے جب سورج افق سے 12 ڈگری نیچے چلا جاتا اس مرحلے کو ہم Astronomical Dusk کہتے ہیں اس دوران روشنی بہت کم ہوجاتی ہے اور جب سورج اُفق سے 18 ڈگری نیچے چلا جاتا ہے تو اندھیرا ہوجاتا ہےاور رات شروع ہوجاتی ہے ۔ آسمان پر سورج غروب ہونے کے باوجود روشنی پھیلنے کی وجہ زمین کی atmosphere ہے جس سے ٹکرا کر روشنی آسمان پر پھیل جاتی ہے جس کے باعث ہمیں سورج غروب ہونے کے باوجود تھوڑی دیر تک روشنی دِکھائی دیتی رہتی ہے ۔

اعتراض 144: اکثر دیکھا گیا ہے کہ شمالی کُرے سے لی گئی چاند کی تصویر اور جنوبی کُرے سے لی گئی چاند کی تصاویر بالکل ایک دوسرے اُلٹ ہوتی ہیں اس بات کو گول زمین کے لئے بطور ثبوت استعمال کیا جاتاہے ۔ حالانکہ اگر time-lapse photography کی جائے تو معلوم ہوگا کہ چاند گھڑی کی سوئیوں کے رُخ میں زمین کے اوپر اپنے axisکے گرد سپن کرتا ہے جو فلیٹ ارتھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جواب: یہاں پر بھی فلیٹ ارتھرز lunar liberation نامی مظہر کو اپنے خود ساختہ اور جھوٹے دعوؤں سے جوڑنے پر ضد کرتے دِکھائی دیتے ہیں۔ چاند کے جھکاؤ ، زمین کے جھکاؤ اور چاند کے اپنے ellipticalمحور کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے ۔ جس کا فلیٹ ارتھ کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

اعتراض 145: ناسا کے مطابق چاند کا ایک ہی حصہ زمین پر دِکھائی دیتا ہے اس کا دوسرا حصہ دِکھائی نہیں دیتا ، ناسا کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند فلیٹ ہے اور ڈسک کی مانند ہے جس کے باعث اس کی دوسری طرف کچھ بھی نہیں ہے اور زمین پر اس کا ایک ہی حصہ دِکھائی دیتا ہے۔ فرض کریں چاند گول ہوتا تو اس کا ایک حصہ اگر شمالی کُرے میں دِکھائی دے رہا ہے تو اس کا دوسراحصہ جنوبی کُرے پر دِکھائی دینا چاہیے تھا مگر دونوں کُروں پر چاند کا ایک ہی حصہ دِکھائی دیتا ہے۔
جواب: چونکہ فلیٹ ارتھر مکمل طور پر جدید فلکیات کا انکار کرتے ہوئے عوام الناس پر اپنے من گھڑت اور جھوٹے دعوے تھوپنے پہ ایمان رکھتے ہیں سو وہ ناسا سمیت دنیا کی ہر خلائی ایجنسی کی ہر بات کا انکار کرتے ہوئے سائنس کو جھوٹا قرار دے دیتے ہیں۔ چاند کا دوسرا حصہ ہمیں اس وجہ سے دِکھائی نہیں دیتا کیونکہ چاند زمین سے قریب ہونے کے باعث tidal lock ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چاند جب زمین کے گرد گھوم رہا ہوتاہے تو زمین کی شدید کشش کے باعث اس کا ایک ہی حصہ ہر وقت زمین کی جانب رہتا ہے۔ یہ نظارہ ہمیں ان سیاروں پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو سورج سے قریب ترین ہیں جیسا کہ عطارد ۔ یہ سیارہ مکمل طور پر سورج کے ساتھ tidally lock تو نہیں مگر کافی حد تک ضرور ہے جس کے باعث عطارد پر 2 سال بعد ایک دن گزرتا ہے (یعنی عطارد اپنے محور پر ایک بار جب تک مکمل سپن کرتا ہے تب تک عطارد 2 چکر سورج کے گرد مکمل کرچکا ہوتا ہے)۔بہت زیادہ Tidally lock ہونے کے باعث اسے اپنے محور پر گھومنے میں بہت دِقت ہوتی ہے جبکہ ہمارا چاند مکمل طور پر tidal lock ہے جس کے باعث چاند اپنے axisپر سپن نہیں کرسکتا ہمارے نظام شمسی میں ہمارے چاند کے علاوہ دیگر 33 ایسے چاند موجود ہیں جو اپنے اپنے سیاروں سے tidally lock ہیں۔مذکورہ اعتراض کے دوسرے حصے کا جواب یہی ہے کہ چاند چونکہ زمین سے انتہائی فاصلے پر واقع ہے جس کے باعث شمالی کُرے اور جنوبی کُرے سے چاند کا ایک ہی حصہ دِکھائی دیتا ہے، لیکن انسان نے چاند کے تاریک حصے کا پہلی بار دیدار ایک سیٹلائیٹ بھیج کر 1959ء میں کرلیا تھا بعد ازاں ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیوں نے بےتحاشا بار چاند کے گرد اپنی سیٹلائیٹ بھیجیں اور تاریک حصے کا مشاہدہ کیا ، آج ہمارے پاس چاند کے روشن حصے کے ساتھ ساتھ تاریک حصے کابھی تفصیلی نقشہ موجود ہے۔

اعتراض146: گول زمین کے ماننے والے یہ دعویٰ کرتے دِکھائی دیتے ہیں کہ چاند زمین کے گرد 28 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے مگر درحقیقت چاند زمین کے اوپر 25 گھنٹوں میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے۔
جواب: اگر فلیٹ ارتھرز کا یہ دعویٰ درست ہے تو اس ضمن میں کئی سوالات بلند ہوتے ہیں کہ چاند 29 تاریخ کو کہاں غائب ہوجاتا ہے؟ اور ان کے بقول سورج 24 گھنٹوں میں اگر چکر مکمل کرلیتا ہے تو چاند کا محور سست ہونے کی وجہ کیا ہے؟ چونکہ یہ سب باتیں تخیلاتی ہیں اور محض سائنس دشمنی کے باعث پھیلائی جاتی ہیں اسی خاطر فلیٹ ارتھرز کے پاس ان سوالات کا جواب نہیں ہے۔

اعتراض 147: چونکہ چاند اور سورج ایک جیسے سائز کے حامل ہیں ، اور آلہ سُدس کے ذریعے ہم ثابت کرسکتے ہیں کہ چاند اور سورج ایک ہی سائز کے ہیں اور زمین سے ایک ہی فاصلے پر واقع ہیں لہٰذا سائنسدانوں کی جھوٹی باتوں کو ماننا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
جواب: آلہ سُدس (sextant) کے ذریعے ہم قطعاً کسی چیز کے اصل سائز کا پتہ نہیں لگا سکتے ،اس کے علاوہ اس آلے کے ذریعے دُوری کو ماپنے کے لئے بھی ہمیں ٹھیک figures چاہیے ہونگی جس کو فلیٹ ارتھرز جھوٹ کہہ کر یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مینار پاکستان سے دُور کھڑے ہوکر تصویر کھنچوائے اور دعویٰ کرے کہ اس کا قد مینار پاکستان کے برابر ہے تو یہ ایک لطیفے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

اعتراض148: ڈاکٹر روبوتھم اپنی فلیٹ ارتھ کے حق میں لکھی گئی کتاب کے ایک صفحے پر لکھتے ہیں کہ “یہ دیکھا گیا ہے کہ ستارے سورج سے 4 منٹ پہلے آسمان پر نکل آتے ہیں ایسے تو 30 دنوں بعد ستاروں کو سورج سے 120 منٹ پہلے نکل آنا چاہیے اور ہر ایک سال بعد 24 گھنٹے پہلے نکل آنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جسے ہم براہ راست دیکھ کر فلیٹ ارتھ ثابت کرسکتے ہیں”
جواب: اس نقطے پر اعتراض نمبر 112 کے جواب میں بہت تفصیل سے بات ہوچکی ہے۔

اعتراض149: اگر بیگ بینگ کے باعث دیگر کہکشائیں ہم سے دُور جارہی ہیں تو پھر ہزاروں سال سے آسمان پر وہی ستارے کیوں نظر آرہے ہیں؟
جواب: ہم آسمان پر روزانہ تقریباً 5 ہزار ستارے دیکھتے ہیں اور یہ تمام کے تمام ستارے ہماری کہکشاں ملکی وے کے اُس حصے (spiral arm)کے ستارے ہیں جہاں ہمارا سورج موجودہے۔ ہماری کہکشاں میں تقریباً 200 سے 400 ارب ستارے موجود ہیں ، ہمارا سورج ان تمام ستاروں کے ساتھ مل کر ایک بلیک ہول کے گرد گھوم رہا ہے لہٰذا چونکہ نظر آنے والے تمام ستارے ہمارے “آبائی علاقے ” کے ہیں جس کے باعث آسمان میں ہمیں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی مگر ہزاروں سال بعد معمولی تبدیلی ضرور دِکھائی دیتی ہے بہرحال اگر بہت طاقتور ٹیلی سکوپ کے ذریعے ہم اپنی کہکشاں کے باہر ستارے دیکھیں گے تو وہ ہمیں کچھ سال بعد اپنی جگہ تبدیل کرتے دِکھائی دیں گے مگر عام آنکھ سے ہم اپنی کہکشاں سے باہر ستارے نہیں دیکھ سکتے ۔ اس کے علاوہ موجودہ دور میں نجم السھم نامی ایک ستارہ دیکھا گیا ہے جو ہماری کہکشاں کا ہے ، اسے کچھ سالوں میں اپنی جگہ تبدیل کرتے دیکھا گیا ہے۔

اعتراض 150: اگر زمین گول ہوتی تو قطبی ستارے (پولارس) کے گرد تمام ستاروں کے گھومنے کی Time-lapse photo زمین کے تمام علاقوں سے نہ لی جاسکتی۔ یہ تصویر خطِ جدی سے نیچے تک کے علاقوں سے لی جاسکتی ہے۔
جواب: فلیٹ ارتھرز یہاں پر روایتی جھوٹ کا اظہار کررہے ہیں۔ پولارس ستارے کو Equator سے نیچے دیکھنا ممکن نہیں ہے خطِ جدی بہت دُور کی بات ہے۔
جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فلیٹ ارتھر حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط9

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *