• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • معاہدہ کراچی : گلگت بلتستان کا غیر قانونی الحاق/ڈاکٹر اصغر دشتی

معاہدہ کراچی : گلگت بلتستان کا غیر قانونی الحاق/ڈاکٹر اصغر دشتی

جب ایک قوم کی تقدیر اس کی عوام کی مرضی کے بغیر بدل دی جائے جب ایک علاقے کا مستقبل محض چند طاقتور سیاست دانوں کے درمیان خفیہ معاہدوں میں طے ہو تو اس عمل کو نہ صرف غیر قانونی سمجھا جاتا ہے بلکہ اس میں اخلاقی اور سیاسی جواز کی بھی کمی ہوتی ہے۔
گلگت بلتستان 16 نومبر 1947 سے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر سے اس کا انتظام سنبھالا۔
معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر سے پاکستان کے حوالے کیا گیا مگر اس فیصلے کے پیچھے جو سب سے اہم بات چھپی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ معاہدہ کے وقت گلگت بلتستان کے عوام کی کسی بھی طرح کی رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا واقعی وہ نمائندے جو معاہدہ پر دستخط کر رہے تھے وہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقیقی نمائندے تھے؟
یہ حقیقت ہے کہ معاہدہ کراچی پر دستخط کرنے والے افراد، نہ تو گلگت بلتستان کے منتخب نمائندے تھے اور نہ ہی ان کے پاس عوامی نمائندگی کا کوئی اختیار تھا۔ یہ معاہدہ پاکستان، آزاد کشمیر اور مسلم کانفرنس کے نمائندوں کے درمیان طے پایا لیکن گلگت بلتستان کی عوام جن کے مستقبل کا یہ فیصلہ تھا انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ یہ سچ ہے کہ معاہدے کے وقت وہاں کوئی قانونی یا سیاسی فورم موجود نہیں تھا جو گلگت بلتستان کے عوام کی مرضی اور نمائندگی کو صحیح طور پر پیش کرتا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر 1945 کے آرٹیکل 1(2) میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کا مقصد اقوام کے حق خودارادیت کو فروغ دینا ہے، یعنی ہر قوم کو اپنی سیاسی حیثیت کا فیصلہ آزادانہ طور پر کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 1514 (1960) میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کوئی بھی قوم زبردستی دوسرے پر حکومت نہیں کر سکتی۔ اسی طرح، اقوام متحدہ کی قرارداد 2625 (1970) بھی یہ کہتی ہے کہ ریاستوں کے مابین تعلقات کا بنیادی اصول خودارادیت ہے، اور کوئی بھی الحاق عوام کی مرضی کے بغیر غیرقانونی ہوگا۔ مزید برآں، Montevideo Convention on the Rights and Duties of States (1933) کے آرٹیکل 1 کے مطابق صرف وہ حکومتیں جو عوام کی طرف سے تسلیم شدہ ہوں اور جو خود مختار ہوں وہ ہی کسی علاقے کا الحاق کر سکتی ہیں۔ اس اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے 1949 میں معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کیا گیا جس میں نہ تو گلگت بلتستان کے عوام کی رضامندی شامل تھی اور نہ ہی ان کے نمائندے اس فیصلے میں شریک تھے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق جبری قبضہ، دھوکہ دہی یا طاقت کے استعمال کے ذریعے کیا گیا الحاق ناجائز سمجھا جاتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) میں ذکر کیا گیا ہے جو ریاستوں کو دوسرے ملکوں کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے بھی اپنے مشاورتی فیصلوں میں (مثلاً Namibia Advisory Opinion (1971) اور Western Sahara Advisory Opinion (1975)) واضح کیا ہے کہ کسی علاقے کا مستقبل صرف وہاں کے عوام کی آزاد مرضی سے طے ہو سکتا ہے نہ کہ غیر نمائندہ حکومتوں کے ذریعے۔ معاہدہ کراچی نے ان تمام بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی جس کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کے حق خودارادیت کو پامال کیا گیا اور اس علاقے کو ایک غیر نمائندہ معاہدے کے ذریعے پاکستان کے ساتھ جوڑ دیا گیا جس میں عوامی رضامندی کا بالکل لحاظ نہیں رکھا گیا۔
معاہدہ کراچی میں یہ تمام اصول و ضوابط بری طرح پامال کیے گئے۔ نہ تو گلگت بلتستان کے عوام کی رضامندی حاصل کی گئی نہ ہی اس وقت کے سیاسی و قانونی نمائندے ان کی مرضی کو مدنظر رکھتے ہوئے معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل تھے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام کا حق تھا کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں مگر اس پورے عمل میں ان کی آواز کو دبا دیا گیا اور انہیں محض اس فیصلہ کی تکمیل کے دوران ایک غیرموجود فریق کے طور پر رکھا گیا۔
یہ معاہدہ حقیقت میں گلگت بلتستان کی عوام کی سیاسی حیثیت اور خودمختاری کے خلاف ایک جبر تھا۔ یہ نہ صرف ان کی آزادی بلکہ ان کی قومی شناخت پر بھی ایک دھچکا تھا جس نے آج تک گلگت بلتستان کے عوام میں بے چینی اور احتجاج کی لہر کو جنم دیا ہے۔ معاہدہ کراچی دراصل ان کے قومی وقار کے خلاف ایک ایسا قدم تھا جس کا نہ تو اخلاقی جواز تھا نہ ہی قانونی۔

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply