میری وائف کیساتھ ایسا ہوا تو خیال آیا۔۔۔۔میاں جمشید

SHOPPING
SHOPPING

میری بیگم کا ایک ٹریننگ سیشن اسی اسکول میں ہونا تھا جہاں میں نے تعلیم حاصل کی ہوئی تھی ۔ سو خوشی سے اسے وہاں چھوڑنے گیا کہ چلو تعلیمی دور کی یادیں تازہ ہو جائیں گی ۔ اس نے گیٹ کے اندر کی جانب بیٹھے سیکورٹی والوں سے انٹری وغیرہ کروا کر مجھے اوکے کا ہاتھ سے اشارہ کر دیا ۔ انہی سیکورٹی والوں کے پاس ہی کچھ بڑی عمر کے اساتذہ کا ٹولہ کھڑے دھوپ سینک رہا تھا  ۔ میں مشاہدہ کر رہا تھا کہ وائف کی انٹری کے پراسیس اور اسکے ہال تک جانے کی چال پر انکی مسلسل نظریں جمی رہیں۔ باتیں بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ ان میں میرے عربی کے ٹیچر بھی شامل تھے۔ تبھی ذہن شریف میں خیال و سوال آیا کہ کیا ایسا سب فطری ہوتا ہے ؟ خواتین پر مسسل نظریں جمائے رکھنا ، دور تک دیکھتے رہنا کیا عام سی بات ہوتی ہے ؟ کیا خواتین ان سب کو لائٹ لیتیں ہیں ؟ کیا یہ روٹین کی باتیں ہے اب ؟ کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف دیکھا ہی جاتا ہے نا بس ؟ ۔

اب ایسی بات نہیں کہ میری وائف  کے ساتھ ایسا ہوا یا بازار جاتے اکثر ایسا ہوتا تو مجھے تب خیال آ رہا  ہے ۔ ہاں مگر یہ بھی ہے ویسے کہ جب اپنی ماں ، بیوی ، بہن ، بیٹی  کے ساتھ ایسا ہو تب زیادہ محسوس ہوتا  ہے ۔ مگر سچ کہوں تو کوئی کم عمر نوجوان گھورے یا دور تک اپنی نظریں جما کر دیکھتا رہے تو سمجھ آتی ہے کہ اسکی عمر ایسی  ہے ، تربیت کی کمی وغیرہ ۔ مگر جب کوئی بڑی عمر کا مرد ، بال بچوں والا ایسا کرے تو بندہ کس کو قصور وار ٹھہرائے ۔ خاص کر جب کوئی استاد ہو یا کسی بھی ادارے میں سینئر پوزیشن کا حامل فرد ایسی عادتوں سے چھٹکارا حاصل نہ کر سکے تو اسکا کیا حل ہے ؟ چھوڑیں جی بس وہ ہیں ہی ایسے ، آپ پروا نہیں کرو ، انکو دیکھنے دو وغیرہ جیسی باتیں ان کے لئے   کر  کےاپنے کام میں لگ جانا کافی ہے کیا ؟ چلیں اگر جس سے شکایت کی جانی ہو وہ صاحب بھی ایسے ہی ہو،  تو بندہ کس دیوار سے ٹکریں مارے جا کر ۔

میں واقعی داد دیتا ہوں ان خواتین کو جو عمر کا لحاظ کرکے  سب سہہ  جاتی ہیں، مردوں کے معاشرے میں بول بھی پڑیں، سنوائی ہو بھی جائے مگر وہ عورت بعد میں زیادہ مرکز نگاہ بن جاتی ہے ،کہ اچھا یہ ہیں وہ جس نے ہمت کی تھی ، ایسی ہے وہ ، اور پتا نہیں کیا کیا ۔ انہی باتوں کے بتنگڑ  بننے کی وجہ سے چپ سادھ لی جاتی ہے ۔ جملے بازی کو چھوڑیں صاحب ، صرف ایسی جنسی نظروں والی نگاہ میں دفاتر میں کام کرنا ، چلنا پھرنا ، پبلک ڈیلنگ وغیرہ یا بازار، دکان یا پبلک ٹرانسپورٹ پر یہ سب سہنا واقعی میں اتنا آسان نہیں جتنا ایسے میرا یہاں ایک مضمون میں لکھ دینا ۔

مجھے جو ابھی تک عجیب لگتا یا برا لگتا ہے  کہ چلو عام رکشا ڈرائیور ہو ، کوئی دکان والا ، کوئی آتا جاتا غیر ایسی نگاہوں سے دیکھے تو چل جاتا  ہے  کہ ابھی تعلیم و تربیت کی بہت کمی  ہے ۔مگر کوئی اپنا جاننے والا ، کوئی دوست احباب ، کوئی استاد یا کولیگ ایسا سب کرے تو کیوں کرے ۔ یہ کیسا تجسس ہے ؟ اور کیوں ہے ؟ اچھا دیکھوں تو سہی اسکی وائف کیسی ہے ؟ بہن کیسی  دکھائی دیتی  ہے؟ مطلب کہ کیا سب نارمل  اور  فطری ہوتا ہے  ؟ کیا ہم اس پر قابو نہیں کر سکتے ؟

SHOPPING

اچھا چھوڑیں اب بہت لمبی بات ہو گئی ۔ کبھی تو سمجھ آ جائے گی ۔ کبھی تو ہم مرد خود کو بدل لیں گے ، کبھی تو ہو گا کہ مرد کی موجودگی ، اسکی  نظروں سے خواتین خود کو کمفرٹیبل محسوس کریں گی ۔ کبھی تو کوئی حل نکلے گا ۔ آپ کو ملے تو مجھے بھی بتائیے گا ۔ ابھی میں ذرا اپنے ادارے میں اپنے دوست کے بچے کا ایڈمشن کر لوں ۔اسکی کال آئی تھی کہ تمہاری بھابی ساتھ آ رہی ہیں  ۔ اور لگتا ہے باہر ریسپشن پر وہی کھڑی ہیں  ۔ آج دیکھوں توسہی بھابی لگتی کیسی کی ہیں۔ سنا ہے کہ ” لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں ۔ “

SHOPPING

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *