میری شریک حیات! اصل مزدور/سخاوت حسین

میری پیاری شریک حیات!

امید ہے تم خیریت سے ہوگی۔ سب سے پہلے تم خط کا پہلا جملہ سن کر حیرت زدہ ہوگی  کہ بقول تمھارے ایک شخص جس نے اپنی حیات میں تمھیں بہت کم شریک رکھا ہو۔ محبت ، توجہ ، اور خیال جیسی خصوصیات کو اب کم ترجیح دیتا ہو اور تمھیں گھر میں موجود عام چیزوں کی طرح سمجھنے لگا ہو جیسے کوئی بلب، کوئی گلدان اور الماری جہاں کپڑے رکھے جاتے ہیں، بھلا کیسے تمھیں شریک حیات کہہ رہا ہے۔  تم کہتی ہو کہ میرے لیے لیپ ٹاپ زیادہ اہم ہے۔ لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے جب بچوں کا شور میرے ذہن سے ٹکرا تا ہے تو میرے غصے کو برداشت کرتے ہوئے انہیں تم کمرے سے باہر لے جاتی ہو، اگرچہ میں تمھارے اس رویے کی قدر کرتا ہوں مگر تم سے کہہ نہیں پاتا ہوں۔  تم نے ہمیشہ سے دل میں  حسرت لیے  خود کو اس لیپ ٹاپ جتنی سراہے جانے کی خواہش رکھی ہے۔ جب میں یہ جملے لکھ رہا ہوں گا تم حیرت سے لفظوں کو دیکھ رہی ہوگی۔ تم سوچ رہی ہوگی کیا یہ وہی شخص ہے جو روز زندگی کے بوجھ تلے دب کر محبت کرنا بھول گیا ہے۔ جو روز لڑتے جھگڑتے عامیانہ زبان استعمال کرتا ہے۔ ہر شے کی ترتیب ، تنصیب پر اعتراض کرتا ہے۔ جسے چائے وقت پر نہ ملے تو منہ بنا لیتا ہے۔ کھانے کا ذائقہ جسے اچھا محسوس نہیں ہوتا اور بھوک کی شدت سے کبھی  پاگلوں جیسی حرکتیں کرتا ہے اور دل کرے تو چھوٹا بچہ بن جاتا ہے۔

پیاری شریک حیات! تم کہتی ہو  کہ میں محبت کرنا بھول چکا ہوں۔ وقت نے چند سالوں میں مجھے بوڑھا کردیا ہےاور جوانی میں ہی بڑھاپے کی قبا اوڑھ لی ہے ۔ تم یہ بھی سمجھتی ہو کہ میں نے حالات کی وجہ سے خوشیوں سےسمجھوتہ کرلیا ہے۔ میں ہنسنا بھول چکا ہوں۔ بس دوستوں اور مخصوص لوگوں کے سامنے تم مجھے قہہقہہ لگاتے دیکھتی ہو۔ جب کہ ایسا سچ نہیں ہے۔ تم جانتی ہو نا  کہ جب ہم ساتھ ہوتے ہیں تو ہماری گفتگو میں ہم کم ہی ہوتے ہیں۔ ہماری گفتگو اکثر دوسرے لوگوں سے شروع ہوتی ہے۔ جس میں حسرت، خواہشیں، تمنائیں، ناکام آرزوئیں، دکھ  اور درد ہوتا ہے مگر ان لمحوں میں ہم اپنی باتیں کم کرتے ہیں۔ تمھیں منے کی فیس ستاتی ہے اور مجھے بیٹی کے کپڑوں کی فکر بے چین کرتی ہے اور کبھی دیگر خرچے پھن پھیلائے سامنے آجاتےہیں۔ پچھلے دنوں ہم نے چند ہزار جو زیادہ خرچ کیے تھے اس کا قلق ہمیں پھر چین نہیں لینے دیتا اور اکثر ہم اس بات پر لڑپڑتے ہیں اور ذرا سی بات پر پھر ہم “اس شادی سے بہتر تھا ہم کنوارے رہ جاتے ” تک چلے جاتے ہیں۔  شاید ضرورتیں محبتوں کو دبا لیتی ہیں۔ پیسوں کا حساب رکھنا محبت کا حساب رکھنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور پھر کچھ لمحوں بعد ہم ایسے بھی ہوجاتے ہیں جیسے ہمارے درمیان کبھی لڑائی ہی نہ ہوئی ہو۔

اس وقت جب ہمارے بچوں کی ہنسی گھر کے آنگن میں  گونجتی ہے۔ ان کے قہقہوں سے دل کا جہاں  آباد ہوتا ہے توہم جی اٹھتے ہیں۔ یہی ہماری تفریح ہوتی ہےہمارے لیے باعث  سکون ہوتا ہے۔  ہماری محبتیں شاید تقسیم ہوگئی ہیں۔ وہ منتقل ہوگئی ہیں۔ وہ ہماری ذات سے نکل کر بچوں کی ذات میں چلی گئی ہیں۔  بچوں کی ذرا سی بیماری ہمیں رات بھر سکون نہیں لینے دیتی اور جب وہ ذرا دیر کے لیے کہیں چلے جاتے ہیں تو ہم پاگلوں کی طرح انہیں ڈھونڈتے ہیں۔  ہماری زندگی اسی لکا چھپی میں چھپی ہے۔ تم ہمیشہ شکوہ کرتی ہو کہ میں تمھیں ویسی توجہ نہیں دے رہا۔ تم بیمار ہوجاتی ہو تو میں اس طرح خیال نہیں رکھتا جیسے شادی کے ابتدائی دنوں میں رکھتا تھا۔ تمھاری تکلیفیں مجھے اتنا نہیں تڑپاتیں جتنا بچوں کی تکلیف سے میں تڑپ جاتا ہوں تو یہ سچ ہے کہ اب ہم کئی حصوں میں بٹے ہیں۔ ہم بچوں میں بٹ گئے ہیں۔ ہم کئی رشتوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ سچ پوچھو تو ہم ان بچوں کے کھلونے ہیں۔ جہاں کبھی وہ ہمیں ہمیں کھلونے کی طرح اپنے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔  ہمیں اپنی ہنسی دیکھنے کے لیے کہتے ہیں۔ اپنی شرارتوں ، بیماریوں اور ضرورتوں سے ہمیں حیران کرتے ہیں اور کبھی ہم سے بے جا توقعات سجائے ہر شے کی ڈیمانڈ کرنے لگتے ہیں۔ تمھارے بیٹے کو لگتا ہے جیسے اس کا باپ اس دنیا کا امیر ترین انسان ہے۔ وہ اس کی ضرورت کی ہر شے خرید سکتا ہے اور ہماری بیٹی گڑیا کو سینے سے لگائے اپنی خوب صورت آواز میں نئے قصے سنا کر بتاتی ہے کہ اس گڑیا کو ایک گڈے کی ضرورت ہے ۔تم خود کہو اس صورت میں کیسے ہماری محبتیں ویسی رہ سکتی ہیں۔ محبتیں شاید ویسی ہوں لیکن اب انہیں سمجھنے کا نظریہ بدل گیا ہو۔ ضرورتوں کی چادر محبت کی بارش پر پڑجائے تو وہ چھپ جاتی ہے۔

جب ہم آخری دفعہ پارک میں گئے تھے تو ہماری گفتگو میں موسم کی شرینی ، خوب صورت فضاوں کی سرگوشی کی بجائے ضرورتیں گونجتی تھیں۔ میں تمھیں منع کرتا تھا مگر تم پھر سے لسٹ نکال کر آنے والے حالات کا رونا روتی تھی۔ ہم دو دفعہ مری گئے اگرچہ  تم بھول چکی ہو مگر ان لمحوں میں ہم کتنا جئے تھے۔ ہر لمحہ ہم نے محبت کی آغوش میں گزارا تھا۔ کائنات جیسے ہمارے قدموں میں آگری تھی۔ محبتیں چاروں اور بکھری ہوئی تھیں۔ تب تم مجھ سے اڑتی تتلیوں کا پتا پوچھتی تھی جھیل کنارے ان کے پیچھے بھاگتی تھی اور آسمان کے پرندوں کو دیکھ کر کتنی دیر ہاتھ پھیلا کر کہتی تھی تم بھی خود کو ویسا ہی محسوس کرتی ہو۔ آزاد، اڑتی ہوئی اور خوش۔۔۔۔۔

پیاری شریک حیات! تم سوچ رہی ہوگی اگر یہی باتیں کرنی تھیں تو تمھیں خط کیوں لکھا۔ سب کہتے ہیں آج مزدورں کا دن  ہے۔  ہم دونوں اس دنیا کے سب سے بڑے مزدور ہیں۔ ہم بچوں سے زیادہ ضرورتیں پالتے ہیں۔ یہ ہمارا ہی دن ہے۔ اصل میں یہ  تمھارا دن ہے۔  جب صبح سے شام تک  باورچی خانے کی شدید گرمی میں الجھی سانسوں کے ساتھ بھی کبھی لو پریشر گیس  اور کبھی دوسرے طریقوں سے سب کو خندہ پیشانی کے ساتھ کھانا بنا کردیتی ہو  تو گھر کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرتی ہو۔ شکووں کو زبان پر سجائے گھر کو جنت بنانے کی جتن کرتی ہو اور کبھی بچوں کو پڑھاتے ، ان سے کھیلتے ، ان کے ساتھ ہنستے دنیا بھول جاتی ہو۔ کئی دفعہ بہت سی  باتیں سننے کے بعد بھی کسی کی خدمت میں کمی نہیں کرتی ہو۔ چاہے وہ گھر کا کوئی بڑا ہو یا چھوٹا تم اپنے تئیں سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہو۔ چہرے پر کوئی بھی بل سجائے بغیر مسکراتےہوئے ہر ایک کے سکھ اور دکھ میں شامل ہوتی ہو۔ میں کبھی تمھارا شکریہ ادا نہیں کرپایا ۔  تم صحیح کہتی ہو اب مجھے غصہ جلدی آتا ہے۔ میں چڑچڑا ہوچکا ہوں۔ بات بات پر غصہ کرتا ہوں۔ مجھے کھانوں میں ذائقہ محسوس نہیں ہوتا ، لیکن تم یہ سب بھی سہتی ہو۔شاید یہ الفاظ میری طرف سے بطور شکریہ ہی ہیں۔

پیاری شریک حیات! آج تمھارا دن ہے۔ تمھارے ہنسنے کا دن ہے۔ کائنات کی ضرورتیں محبت کے دورانیے کو مختصر کرسکتی ہیں مگر انہیں ختم نہیں کرسکتیں ۔ میں بسا اوقات تمھیں کائنات کی سب سے بیوقوف عورت مانتا ہوں۔ لڑنے جھگڑنے اور طلاق تک معاملہ لے جانے کے بعد بھی باہر چھوٹی سی آئسکریم پر پھر سے ایسی ہوجاتی ہو جیسے کبھی ہم لڑے ہی نہیں۔ جیسے کل ہی ہمارا بیاہ ہوا ہو۔ شاید زندگی اسی محبت کا نام ہے اور میں اسے ہی اصل محبت کہوں گا

تم اسی طرح مسکراتی رہو۔

julia rana solicitors london

“تمھارا شوہر”

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply