بے ربط خیالات اور یوم تکبیر مبارک۔۔ بلال شوکت آزاد

بہت معذرت کے ساتھ جو تکبیر دشمن کے گھر میں ہمارے منہ سے نہ نکلے اس کا دن منانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بندہ منگنی شدہ ہو, خود لندن میں ہو اور منگیتر پاکستان میں اور وہ اچانک اعلان کرے کہ وہ باپ بن گیا ہے اور اوپر سے وہ بچے کی جنس لڑکا بتاکر اس کا نام اللہ دتہ رکھ کر ہر سال اس کی سالگرہ منائے۔

یوم تکبیر غزوہ بدر کا دن تھا جب اللہ کی ناموس پر کٹنے مرنے والے تین سو تیرہ  نے اللہ اکبر کی گونج جزیرہ ہائے عرب میں بلند کی اور آج اس دن کے صدقے ہم خود کو مسلمان اور 56 الگ قومی شناختوں سے متعارف کرواتے ہیں، امت مسلمہ کے عنوان سے۔

بہرحال ایٹم بم ہی کیا، میں تو  ہر طرح کے آتشیں, دخانی, طبی, طبعیاتی, کیمیائی, ریاضیاتی, معاشرتی, معاشی, اقتصادی, سماجی, نظریاتی اور ہاں جوہری بھی غرض ہرطرح کے ہتھیار کے بنانے والے, اس کو دفاع کے لیے ناگزیر بتانے والے, اس کو بیچنے والے, اس کو خریدنے والے اور اس کو شوقیہ یا باامر مجبوری چلانے والوں کی کھل کر اور شدید مذمت کرتا ہوں کیونکہ ان جملہ ہتھیاروں سے انسانیت سسک رہی ہے, گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے اور بھوک و افلاس بڑھ رہی ہے۔

کیا دور تھا جب تیر و تفنگ اور نیزہ و تلوار کے ساتھ بہادر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر دشمن کے گھر میں داخل ہوتے اور اسے مباذرت کی دعوت دیتے۔

کیا وقت تھا وہ جب مسلمان تلوار اور قرآن لیکر کسی قلعے کا محاصرہ کرتے اور قلعہ دار کو پیغام بھیجتے کہ لو ہم آگئے۔ ۔ ۔ اب تم پر ہے کہ اللہ کے قرآن کی سن لو اور پلٹ آؤ یا پھر ہم پر ہے کہ ہم تمہیں سنائیں جب تک تم سن نہیں لیتے۔ ۔ ۔قصہ مختصر اگر تم توحید کو ٹھکراتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی۔

دست بدست لڑائی میں مجاہد اور دشمن میں جو کانٹے کی ٹکر ہوتی اس کی نظیر آج کم بلکہ نہ  ہونے کے برابر ملتی ہے کہ اگر مجاہد نے دشمن کو مارا تو بھی مرنے والے اور مارنے والے کا نام دونوں افراد ہی کیا دونوں لشکروں  کو بھی معلوم ہوتے اور مورخ کو بھی۔

اور جو وہ سکون کی ایک لہر ہے نا کہ میں نے دشمن کے لشکر سے فلاں کماندار یا سپاہی کو بقلم خود ہلاک کیا اور اسکی ذردہ و تلوار پر قبضہ کیا۔ ۔ ۔ واللہ آج اس طرح کی خوشی ناپید ہوچکی ہے۔

تیر اور تلوار سے آمنے سامنے کی ٹکر ہوتی تھی کھلے میدانوں میں جس سے معصوم لوگ تب تک محفوظ ہوتے جب تک ایک فریق (کافر) جیت نہ جاتا کیونکہ مسلمان تو جیت کر بھی املاک اور افراد کو نقصان نہ پہنچاتے تھے البتہ جب تک وہ شریعت سے سختی سے جڑے رہے تب تک لیکن آج ایک پستول سے لیکر ایٹم بم تک ہر ہتھیار معصوم اور بے گناہ افراد کی موت کا سبب بنتا ہے اور بنے گا جبکہ ایسے ہتھیار جو دشمن کی روح سے زیادہ انسانیت کی روح نچوڑنے کی قدرت رکھتے ہوں پر فخر چہ معنی دارد۔

سچ  پوچھیں تو میں  ایسے ایٹم بم سے زیادہ خوش نہیں ،جو آپ کو بہادر کے بجائے بزدل یا سفاک بنادے۔

بھارت سے دفاع کی خاطر ہم نے اپنے پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیم اور صحت کو داؤ پر لگا کر ایٹم بم بنالیا لیکن دو براہ راست جنگیں تو ہم پر پھر بھی مسلط کی بھارت نے اور ہم نے بزم خویش شکست فاش بھی دی لیکن کیا یہ آنکھ مچولی دونوں پڑوسی ایٹمی ممالک کے ذمہ داران کی جانب سے ان کی عوام میں کسی طرح جسیفائیڈ ہے؟

بلکہ یہی دو کیا باقی کے پانچ ممالک بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں کہ کیا امن ایٹم بم کے بنانے سے محفوظ ہوا ہے یا اور زیادہ غیر محفوظ ہوا ہے؟

آج کے اس مخصوص دن پر ان تمام سائنسدانوں پر لعنت جن کی محنت سے دنیا میں پہلا ایٹم بم وجود میں آیا اور پھر اس سے بڑھ کر اس منحوس حکمران پر لعنت جس نے اس کا تجربہ بغیر اسکی ہلاکت خیزی جانے اور اندھی دشمنی میں غرق ہوکر معصوم لوگوں سے بھرے پرے شہروں پر گرا کر کیا۔

جہاں تک بات ہے ہماری مطلب پاکستان کی تو پاکستان کبھی ایٹم بم نہ  بناتا، وللہ اگر بھارت کو یہ خبط دماغ پر سوار نہ ہوتا اور پھر بھارت کی پشت پر سارا عالم کفر کھڑا نہ ہوتا تو پاکستان روایتی جنگ اور روایتی دفاع کو ہی ترجیح دیتا لیکن جیسے طلاق اللہ کو ناپسند ہے حلال کاموں میں لیکن بعضے مسلمان کر گزرتے ہیں ویسے ہی پاکستان کو طوہاً کرہاً ایک دشمن کش نہیں بلکہ انسانیت کش ہتھیار بنانا پڑا اور اس دوڑ میں آگے آنا پڑا لیکن دل مانے یا نہ مانے پر یہ خوشی سے زیادہ افسوس کا دن ہے پر دستور دنیا ہے کہ اپنی طاقت اور قدرت پر نالاں نہیں ،خوش ہوا جاتا ہے لہذا “یوم تکبیر مبارک”۔

بے ربط خیالات ذہن میں تبھی جگہ بناتے ہیں جب آپ حساسیت اور انسانیت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کھیسے پر نظر ڈالیں، جس میں آپ کے کھاتے پر ایسے کام درج ہوں جو برائی کی معراج ہوں تو آپ کے  ذہن کے غلط ملط خیالات آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بری طرح اثر انداز ہوتے  ہیں ،جیسے کہ ابھی میں بالکل اسی کیفیت کا شکار ہوں، جسے ایک طرف ایٹمی طاقت بننے سے زیادہ مبینہ ناقابل تسخیر دفاع کے حصول کی خوشی ہے اور دوسری طرف بھوک, افلاس اور غربت کے ساتھ ساتھ مہذب دہشتگردی سے سسکتی انسانیت کا درد بھی ہے۔

بہرحال جب تک یہ “چائنہ کا یوم تکبیر” ہے اس سے کام چلاتے ہیں تاآنکہ اللہ کی رحمت سے ہم دشمن کے گھر میں اللہ کا نام بلند کرکے اسکی حاکمیت قائم کریں اور پھر منائیں “یوم تکبیر”۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *