• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں آبی تنازعات اور گرین پاکستان انیشیٹو’س کا تنازع/ قسط نمبر2/ تحریر -اطہر شریف

پاکستان میں آبی تنازعات اور گرین پاکستان انیشیٹو’س کا تنازع/ قسط نمبر2/ تحریر -اطہر شریف

1948 میں ہندوستان نے پاکستان سے کہا کہ اس کے مغربی دریاؤں کا پانی سمندر میں گر جاتا ہے اور اس نے مشرقی دریاؤں پر پانی روکنا شروع کیا اور پاکستان سے کہا کہ وہ مغربی دریاؤں سے مشرقی دریاؤں میں پانی ڈالے۔
اس مقصد کے لیے لنک کینال کا تصور سامنے آیا اور چشمہ جہلم لنک کینال اسی تصور کا حصہ ہے کہ جب سندھ سے جہلم میں پانی ڈالنے کے لیے اس کی کھدائی کی گئی۔
اس کا مقصد تو یہ تھا کہ جب سیلابی سیزن میں پانی زیادہ ہو تو اسے پانی کو سندھ سے جہلم منتقل کیا جائے تاہم اس کے بعد اسے عام دنوں میں کھولا جانے لگا جس کی وجہ سے سندھ کے اعتراض سامنے آئے۔
پھر گریٹر تھل کینال نکالی گئی جو غیر آباد علاقے کو آباد کرنے کے لیے نکالی گئی جس پر اعتراض آیا کہ پہلے سے آباد سندھ میں اس کی وجہ سے پانی کی کمی ہوئی۔
1960 کی دہائی میں سندھ طاس منصوبے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت پاکستان نے بڑے جتنوں سے پانی کی کمی کا حل تلاش کیا۔اس معاہدے کے تحت سندھ طاس منصوبے پر دستخط ہوئے جس کے تحت مشرقی دریا یعنی راوی، ستلج اور بیاس انڈیا کو دے دیے گئے، جب کہ مغربی دریا جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔
انڈیا نے ان تینوں دریاؤں کے ہیڈورکس بند کر دیے اور یہ دریا خشک ہو گئے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک لنک کینال سسٹم وضع کیا جس کے تحت آٹھ نہریں کھودی گئی اور ان نہروں کے ذریعے مغربی دریاؤں کا پانی لے کر انہیں مشرقی دریاؤں تک پہنچایا گیا۔
’سندھ کا پانی لنک کینال کے ذریعے ستلج تک پہنچایا، یعنی پہلے دریا کا پانی پانچویں دریا تک پہنچایا۔ اور اس طرح جنوبی پنجاب کو بنجر ہونے سے بچا لیا۔‘
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) پاکستان کا ایک واٹر ریگولیٹر ہے، جسے 1992 میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ اتھارٹی پانی کے معاہدے کی دفعات کے مطابق صوبوں کے درمیان دریائے سندھ کے آبی وسائل کی تقسیم کو کنٹرول کرنے اور ان کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی تھی۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی موسمی طور پر دستیاب رسد کی بنیاد پر پانی کی تقسیم کی نگرانی کرتی ہے۔

16
مارچ 1991. کو صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے (WAA) پر دستخط کیے گئے۔ 1991 اور مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) نے 21.03 کو منظور کیا۔ 1991. WAA ’91 کی شق 13 کے تحت، ایک انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے قیام کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا اور اسے معاہدے کے نفاذ کے لیے قبول کیا گیا۔ 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے (WAA) پر، جس پر پاکستانی صوبوں نے دستخط کیے، پانی کی تقسیم کو ریگولیٹ کرنے اور نگرانی کرنے کے لیے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) قائم کیا، اور 21 مارچ 1991 کو مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) نے اس کی منظوری دی۔
پاکستان میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے سنہ 1991 میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا، جس کے تحت تمام صوبوں کے درمیا ن پانی کی تقسیم ایک فارمولے کے تحت ہوتی ہے تاہم ہر سال گرمیوں کے موسم کے شروع میں پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں بہنے والوں دریاؤں پر ڈیم، بیراج اور نہریں نکال کر آبپاشی کا پورا نظام موجود ہے، جو ملک کے قیام سے پہلے کام کر رہا ہے۔ اس نظام میں پاکستان کے قیام کے بعد تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ نئے بیراج اور نہریں بھی نکالی گئی ہیں۔

پاکستان کے دریائی سسٹم میں پانی کی کمی کی نشاندہی طویل عرصے سے کی جا رہی ہے، جس کا سبب موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے زراعت کا شعبہ بُری طرح متاثر ہو رہا ہے، جو ملک کی معیشت میں انڈسٹری اور خدمات کے ساتھ اہم شعبہ ہے۔
سندھ اور پنجاب میں پانی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق دونوں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلے پر تنازع نیا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپریل، مئی اور جون میں یہ تنازع کھڑا ہوتا ہے کیونکہ اس وقت ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہوتا ہے اور جولائی میں جب مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو یہ تنازع ختم ہو جاتا ہے جب وافر مقدار میں پانی واٹر سسٹم میں آجاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں پانی ذخیرہ کرنے اور اسے تقسیم کرنے کا نظام دو اداروں، واپڈا اور ارسا، کے درمیان بٹا ہوا ہے جو بہت سارے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ 1991 میں صوبوں کے درمیان ہونے والے پانی کے معاہدے کا ذکر کرتے ہیں۔ اوّل تو اس مسئلے پر دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات پر ہی سندھ کے کئی سیاسی رہنمائوں اور آبی ماہرین کو اعتراضات تھے، یہ مذاکرات اس وقت ملک کے وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے شروع کئے۔ ان مذاکرات پر سندھ کے سیاستدانوں اور دانشوروں کو بنیادی اعتراض یہ تھا کہ سندھ میں اس وقت وزیراعلیٰ جام صادق تھے۔ واضح رہے کہ جام صادق کے پاس اکثریت نہیں تھی مگر مختلف صوبوں سے جام صادق کی اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کیا گیا۔ بہرحال ان مذاکرات کے نتیجے میں 1991میں مرکزی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان معاہدہ ہوا اور اس پر دستخط ہو گئے۔ اس مرحلے پر میں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ سندھ کے آبی ماہرین کو اس معاہدے پرپہلا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت فقط دریا میں موجود پانی کی تقسیم کرنا چاہتی تھی، باقی زیر زمین پانی کو اس تقسیم کا حصّہ بنانے کیلئے تیار نہیں تھی۔ سندھ کا مؤقف تھا کہ یہ سندھ سے بڑی ناانصافی ہے کیونکہ زیر زمین پانی کی کثرت فقط پنجاب کے علاقے تک محدود تھی باقی مشکل سے دس فیصد زیر زمین پانی سندھ کے علاقے میں آتا تھا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ جام صادق نے بھی ابتدائی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ صوبوں میں پانی کی تقسیم دریا میں موجود اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو ملا کر کی جائے مگر نواز شریف حکومت نے جام صادق کے مؤقف کو سختی سے رد کر دیا چونکہ جام صادق کی حکومت مرکزی حکومت کی حمایت کی وجہ سے قائم تھی لہٰذا انہوں نے اس مؤقف پر زور نہیں دیا مگر سندھ کے آبی ماہرین اور دیگر محققین کا یہ اعتراض آج بھی قائم ہے، بعد میں جس معاہدے پر دستخط کئے گئے اس کی ایک، ایک شق کو محض ایک صوبے کے مفاد میں اور سندھ کے مفاد کے برعکس کس طرح توڑا مروڑا گیا وہ بھی ایک الگ داستان ہے۔ اس معاہدے کی ایک شق میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ کوٹری کے نیچے سمندر تک پانی کی ایک خاص مقدار چھوڑنا چاہئے-اس سلسلے میں اس معاہدے کی جو شق ہے وہ میں یہاں من وعن پیش کر رہا ہوں:

“The need for certain minimal escapage to sea, below Kotri, to check sea intrusion was recognized. Sindh held the view, that the optimum level was 10 MAF, which was discussed at length, while other studies indicated lower/higher figures. It was therefore, decided that further studies would be undertaken to establish the minimal escapage needs downstream Kotri.”

سمندری مداخلت کو روکنے کے لیے کوٹری کے نیچے، سمندر میں کچھ کم سے کم فرار کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔ سندھ کا موقف تھا، کہ زیادہ سے زیادہ سطح 10 MAF تھی، جس پر طویل بحث کی گئی، جبکہ دیگر مطالعات نے کم/زیادہ اعداد و شمار کی نشاندہی کی۔ لہذا، یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کم سے کم کو قائم کرنے کے لئے مزید مطالعہ کئے جائیں گے

julia rana solicitors london

یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ 91کے معاہدے کی اس شق میں اس بات کو واضح الفاظ میں تسلیم کیا گیا کہ سمندر کی طرف سے زمین پر چڑھ آنے یعنی Sea intrusionکو روکنے کیلئے کم سے کم دس ایم اے ایف پانی کوٹری سے نیچے سمندر کی طرف چھوڑنا ہو گا مگر اب کہا جاتا ہے کہ سمندر میں جو پانی جاتا ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے، حالانکہ Sea intrusionکو روکنے کے علاوہ دریا کے میٹھے پانی کے سمندر میں جانے سے جو دیگر کئی فوائد ہوتے ہیں
اگلی قسط میں 1991 کے معایدہ کا اعداد وشمار کے ساتھ جائزہ لے گے
Source:IRSA
IRRIGATION DEPARTMENT SINDH
GN MUGHAL

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply