روزہ؛ حقوق العباد پہلے/راؤ کامران علی

اگر آپ روزہ اس لیے رکھ رہے ہیں کہ اس کا آپ کو آخرت میں ثواب ہوگا اور آپ کے گناہ دھل جائیں گے، تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی نیک تمناؤں اور نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ لیکن اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ روزے کا اس دنیا میں بھی اثر ہے، اور اس کے کچھ مثبت یا منفی اثرات اس بات پر منحصر ہیں کہ آپ اسے کیسے رکھتے ہیں، تو پھر پڑھنا جاری رکھیں۔

روزہ فرض ہے اور ہر مسلمان کو روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ جب کوئی چیز فرض ہو جاتی ہے تو اس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ ایمان کا حصہ ہے۔ روزے کے دوران جو اوقات کار میں تبدیلی آتی ہے، وہ بہت سے مسلم معاشروں میں عام ہے، لیکن مغربی ممالک میں اگر یہ اوقات تبدیل نہیں ہو رہے تو اس حوالے سے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

روزے کا تعلق آپ اور آپ کے اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے، لیکن اگر اس کا اثر آپ کی نوکری پر پڑ رہا ہے تو آپ کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ جو تنخواہ آپ لے رہے ہیں، کیا وہ حلال کر رہے ہیں یا نہیں؟ اگر آپ سحری کے بعد دیر تک سوتے ہیں اور دیر سے دفتر پہنچتے ہیں، تو اس کا اثر دوسروں پر پڑے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کا صبح 9 بجے سے انتظار کر رہا ہے اور آپ کی تاخیر کی وجہ سے 10 بجے تک انتظار کرتا ہے، تو آپ کو خود سوچنا چاہیے کہ کیا آپ کا روزہ حقوق اللہ کے لحاظ سے فائدہ دے رہا ہے، لیکن حقوق العباد کے لحاظ سے نقصان پہنچا رہا ہے؟

بہت سے لوگ روزے کی حالت میں شوگر لیول کم ہونے کی وجہ سے چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، پھر اس کا جواز روزے سے نکالتے ہیں۔ سادہ بات یہ ہے کہ اگر آپ روزے کے ساتھ اپنے مزاج کو کنٹرول نہیں کر سکتے یا جس نوکری کے لیے آپ کو رکھا گیا ہے، اس کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے، تو آپ کے پاس دو آپشن ہیں: یا تو روزہ نہ رکھیں، یا وہ چھٹیاں جو آپ نے تفریح، شادی یا دیگر تقریبات کے لیے رکھی ہوئی ہیں، انہیں رمضان میں لے کر عبادت کریں اور آرام کریں۔

افطار کے وقت ایک بے ہنگم شور اور ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ جلدی میں ہوتے ہیں اور ان کا شوگر لیول کم ہونے کی وجہ سے صبر بھی کم ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ چیز ہینڈل نہیں کر سکتے اور اس دوران آپ کی لاپرواہی کسی انسان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، تو آپ کو سوچنا ہوگا کہ کیا حقوق اللہ کے لیے حقوق العباد کو نقصان پہنچانا درست ہے؟

سحری کے وقت اذان کے ساتھ دیر تک کھانے یا افطار کے وقت انتہائی جلدی سے روزہ کھولنے کا رجحان بھی عام ہے۔ یہ درست ہے کہ وقت کی پابندی ضروری ہے، لیکن اگر آپ چند سیکنڈ کی تاخیر کو برداشت نہیں کر سکتے اور اسی جلدی میں خطرناک ڈرائیونگ کرتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ اپنی جیب یا گاڑی میں کچھ کھجوریں رکھ لیں تاکہ وقت پر روزہ افطار کر سکیں؟

اصل سوال یہ ہے کہ روزے کا مقصد کیا ہے؟ اگر کوئی شخص رمضان میں جھوٹ بولنا، رشوت یا کرپشن کم کر دیتا ہے، لیکن عید کے بعد دوبارہ وہی کام شروع کر دیتا ہے، تو کیا یہ روزے کی اصل روح کے مطابق ہے؟ یہ تو ایک ٹریننگ ہے، اور اگر آپ کی ٹریننگ مکمل نہیں ہو رہی اور آپ کو لگتا ہے کہ اس ایک مہینے میں جنت مل جائے گی، سارے گناہ معاف ہو جائیں گے اور باقی سب کچھ چلتا رہے گا، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مذہب کی اصل سمجھ نہیں ہے یا پھر آپ مذہب کا مذاق اڑا رہے ہیں.

ایک اور اہم مسئلہ رمضان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا بڑھ جانا ہے، جس پر ہر سال لوگ شکایت کرتے ہیں، لیکن عملی اقدامات کم ہوتے ہیں۔ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مارکیٹ کا حصہ ہیں، اور بعض تاجروں کے لیے یہ مواقع کمائی کے ہوتے ہیں۔ ہر سال اس پر شور مچانے کے بجائے، اگر واقعی فکر ہے تو مقامی سطح پر لوگ ایسے سٹال لگا سکتے ہیں جہاں پر وہ ضرورت کی اشیاء کو مارکیٹ سے کم ریٹ پر بیچ سکیں۔

julia rana solicitors london

روزہ ایک عبادت ہے اور ہر مسلمان پر فرض ہے، لیکن اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ حقوق العباد، حقوق اللہ سے زیادہ اہم ہیں۔ اگر کسی بھی وجہ سے آپ کو لگے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی کی وجہ سے حقوق العباد متاثر ہو رہے ہیں، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کو کیا فیصلہ لینا چاہیے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply