نام نسب اور بیٹا/سعید ابراہیم

دیکھئے نام تو ہر فرد کا ہوتا ہے، بلکہ پالتو جانوروں تک کا ہوتا ہے۔ ایک نام کے ہزاروں لاکھوں افراد ہوسکتے ہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان ہزاروں لاکھوں میں نام وَر کوئی خال ہی ہوتا ہے۔وہ کوئی دانشور ہوسکتا ہے، سائنسدان ہوسکتا ہے، کوئی فنکار (مصور، موسیقار، گلوکار، اداکار، ہدائتکار، رقاص، شاعر، افسانہ نویس) ہوسکتا ہے اور یا پھر کوئی مصلح یا انقلابی سیاسی لیڈر۔ سو معلوم یہ پڑا کہ آپ کے ہم نام مشہور فرد کی پہچان محض اس کے نام سے نہیںبلکہ اس کے کام سے ہے۔
اگر آپ ایک کلرک یا افسر ہیں، یا کوئی چھوٹے موٹے بزنس مین، مگر آپ کی ذات میں کوئی ایسا گُن نہیں جس سے آپ پہچانے جاسکیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ اپنے نام کے ہوتے ہوئے بھی بے نام ہیں۔آپ کی اگر کوئی پہچان ہے بھی تو وہ صرف برادری، چند ایک محلے داروں اور گنتی کے دوستوں تک ہی محدود ہے۔ مگر یہ ایک روائتی سی پہچان ہے جس میں کوئی اچھوتا پن نہیں۔ یہ وہ پہچان ہے جسے خود آپ کی اولاد آپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بہت جلد فراموش کردے گی۔ بس آپ کا نام ان کے شناختی کارڈوں میں درج رہ جائے گا جس سے کسی اور کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ کسی کا نام کسی سے نہیں چلتا بلکہ ہر فرد اپنا نام اور مقام خود بناتا ہے۔ کسی معروف اور نام وَر شخص کی نالائق اور نکمی اولاد کو کبھی کسی نے یاد نہیں کیا۔ اور نہ ہی اکثر مشہور اور معروف افراد کے والدین کے نام کسی کو معلوم ہوتے ہیں۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ کا وہ کون سا نام ہے جسے چلانے کی آپ اس نوزائیدہ بیٹے سے امید لگائے بیٹھے ہیں؟
ارے رُکئے! یہ سارا معاملہ تو بیٹے کا تھا، جس کے پیدا ہونے پر آپ نے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں، مبارک بادیں بھی وصول کیں اور خواجہ سراؤں پر ویلیں بھی نچھاور کیں۔لیکن معاملہ اگر بیٹی کی پیدائش کا ہو تو؟خوشی کا یہ منظر یک سر اُلٹ نہیں جائے گا کیا؟؟؟
اگرچہ کہنے کو بیٹا اور بیٹی دونوں ہی انسان ہیں، آدم کی اولاد ہیں، مگر شائد بیٹی کا درجہ وہ نہیں جو بیٹے کا ہے۔ بیٹا تو اپنا ہے مگر بیٹی؟؟؟ وہ تو پرایا دھن!۔ یعنی پرائی دولت، جس پر مزید رقم خرچ کرکے، پال پوس کے، ایک دن اسے کسی غیر کے حوالے کردینا ہے۔ اور تب تک اس کی ایک ڈبہ بند پراڈکٹ کی طرح حفاظت بھی کرنی ہے۔
ہمارے لیے بیٹی بیٹے جیسی انسان نہیں ، اسی لیے ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کے مقاصد کو ہم اپنی مرضی سے طے کریں۔ وہ وہی کچھ کرے جسے ہم ٹھیک سمجھتے ہیں ، اور ہر اس کام سے باز رہے جسے ہم درست نہیں جانتے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ ہم اسے اپنے ان آمرانہ احکامات پر سوال اٹھانے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ اگرچہ دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ ہم بیٹی سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔
پیدائش بیٹے کی ہو یا بیٹی کی، عزیزوں اور پاس پڑوس والوں نے مبارکباد دینے تو بہرحال آنا ہی ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں مبارکباد کا انداز مختلف ہوگا۔ بیٹی کی پیدائش پر عموماً یہ جملہ بولاجائے گا۔ ’’چلو خیر ہے اللہ بیٹا بھی دے گا۔‘‘ گویا والدین کو پُرسہ دینے آئے ہوں۔ جواب میں ددھیال والے کہیں گے۔ ’’بیٹیاں بھی اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔‘‘ یہ ’بھی‘ کا لفظ دبے دبے انداز میں یہی کہہ رہا ہوتا ہے ، ’’مگر بیٹے جتنی نہیں۔‘‘
بیٹے اور بیٹی کی پیدائش پر ردعمل کا یہ فرق ایک معروف حقیقت ہے، جس کا سیدھا سیدھا تعلق ہمارے سیاسی اور معاشی نظام سے ہے۔ ایسا نظامِ معیشت جس میں ہم کسی وقت بھی قلّاش ہو سکتے ہیں اور بوجھ کے طور پر پیدا ہونے والی بیٹیاں پہلے سے بھی بڑا بوجھ بن سکتی ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر ہم بیٹے اور بیٹی کو مختلف انداز سے پالتے ہیں اور بیٹیوں کے ذہن کو چار دیواری سے باہر کی دنیا کے اثرات سے ممکنہ حد تک بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے اندر دنیا کو جاننے اور علم کے حصول کی خواہش ہمیں ڈرانے لگتی ہے۔ سو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان پر پردے کی پابندی عائد کرکے انہیں ایک مخصوص اور محدود دائرے کے اندر بند رکھا جائے۔ بدقسمتی سے اس جبر کیلئے روائتی مذہب بھی ہمیں پوری آزادی فراہم کرتا ہے۔ بلکہ الٹا ہمارے ظلم کو نیکی بنا دیتا ہے۔ جبکہ اس کا نتیجہ ہماری اپنی بیٹیوں کے حق میں بہتر نہیں نکلتا۔
پردہ صرف برقعے اور چادر کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچ کا نام ہے جسے شعوری یا لاشعوری طور پر لڑکی کے ذہن کا لازمی حصہ بنادیا جاتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو بالآخر مرد اور عورت کو دو مختلف طرح کے انسانوں میں ڈھال دیتی ہے اور سماج کی آدھی سے زیادہ آبادی عضوِ معطل بن کے رہ جاتی ہے۔
یہ محض اجتماعی معاشی نقصان کی بات نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی اس کے کئی طرح کے اثرات بھگتنے پڑتے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان یہ کہ مختلف تربیت کے نتیجے میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے ایسی پہیلی بن جاتے ہیں کہ شادی کے سالوں بعد بھی ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور یوں اس کے نتائج ان کی اولاد کو بھگتنے پڑتے ہیں۔
بیٹیوں کی تربیت میں اس امتیاز سے قطع نظر بیٹوں کے بارے میں بھی ہمارے منصوبے کوئی قابلِ فخر نہیں ہوتے۔ ہم انہیں بھی بس اپنے خوشحال مستقبل کی گارنٹی کے طور پر ہی پالتے پوستے ہیں۔ ہمیں چونکہ انسانی شخصیت کے نکھار اور پھیلاؤ کے لیے نہ تو علم کی اہمیت کا ندازہ ہوتا ہے اور نہ کسی فن سے وابستگی کا۔ بس ہماری مبلغ توجہ اپنے خاندان اور اس کے محفوظ معاشی مستقبل پر مرکوز ہوتی ہے ،سو ہم اس کی سوچ کے دائرے کو محدود رکھنے کے لیے ہر جتن کرتے ہیں۔
ہماری پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ بیٹا کوئی ایسی ڈگری حاصل کرلے جو اسے کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہونے کے قابل بنادے۔ وگرنہ دوسری صورت میں وہ ہمارے موجودہ کاروبار کا حصہ بن جائے۔ اگر معاشی صورتحال زیادہ ہی دگرگوں ہو تو بیٹے کو چھوٹی عمر میں ہی کسی کام پر لگادیا جائے اور یوں اس کی ذات کے پنپنے کے مزید امکانات ختم کردیئے جاتے ہیں۔
ہم اپنی محدود سوچ اور معاشی عدمِ تحفظ کے خوف کے باعث زور زبردستی بچے کو غیردلچسپ نصابی کتابیں پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں، حالانکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم خود ان کتابوں کے مطالعے سے کن کن بہانوں سے جان چھڑایا کرتے تھے۔
ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بچوں پر ان کی پسند کی ہر سرگرمی کا دروازہ بند کردیا جائے۔ اس طرح ہم بچے کی شخصیت کو بے رنگ اور بے کیف بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم اسے ایک کامیاب زندگی کی جانب لے جارہے ہیں۔ جبکہ یہ ایسی ناکامی ہوتی ہے جس کی ہمارے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ لگتا ہے ہمارا مقصد بس یہ ہوتا ہے کہ بچے کو ایک جیتے جاگتے، ہنستے کھیلتے اور اپنے فیصلے خود کرنے والے انسان کی بجائے ایک روبوٹ میں بدل دیا جائے جس کا ریموٹ کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہو۔

julia rana solicitors

بشکریہ فیسبک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply