بائیولوجی ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ۔ جین (25) ۔۔وہارا امباکر

ہر جاندار اپنی زندگی ایک خلیے سے شروع کرتا ہیں۔ جین اور ایپی جینات کا تال میل اس سے جاندار بنا دیتا ہے۔ انسان میں فرٹیلائزیشن ہو جانے کے چند سیکنڈ بعد ایمبریو میں پروٹین نیوکلئیس تک پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ یہ جینیاتی سوئچ کھولنا اور بند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک خاموش سپیس شِپ زندہ ہو جاتا ہے۔ جین فعال ہوتے ہیں۔ خاموش ہوتے ہیں۔ یہ دوسرے پروٹین کا کوڈ دیتے ہیں جن سے نئے پروٹین پیدا ہوتے ہیں جو پھر نئے جین کو فعال کرنے لگتے ہیں اور کچھ کو خاموش کروا دیتے ہیں۔ ایک خلیہ دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ دو چار میں۔ چار آٹھ میں۔ خلیوں کی ایک پوری تہہ بن جاتی ہے۔ پھر یہ گیند درمیان سے کھوکھلی ہوتی ہے اور جلد بننے لگتی ہے۔ جین اس میں میٹابولزم کو، حرکت کو، خلیے کی قسمت کو اور شناخت کو آن کرتے ہیں۔ جیسے بوائلر روم میں آگ جل پڑی ہو، راہداری روشن ہو گئی ہو، انٹرکام سے آوازیں آنے لگی ہوں۔

اب ایک دوسرا کوڈ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس چیز کو یقنی بناتا ہے کہ جین ایکسپریشن ہر خلیے میں اپنی جگہ پر لاک ہو جائے۔ ہر خلیہ اپنی شناخت حاصل کر لے اور اپنے کام میں فکس ہو جائے۔ کچھ جینز پر کیمیائی نشانوں کا اضافہ ہوتا ہے، کہیں سے یہ نشان مٹائے جاتے ہیں۔ خلیہ سپیشلائز ہونے لگتا ہے۔ میتھائیل گروپس کا اضافہ ہوتا ہے، ہٹائے جاتے ہیں۔ ہسٹون استعمال ہوتے ہیں جو طے کرتے ہیں کہ کونسی جین کب فعال ہو۔

tripako tours pakistan

ایمبریو اب ایک ایک قدم لے کر پھلنے لگتا ہے، کھلنے لگتا ہے۔ قدیم زمانے کے سیگمنٹ نمودار ہوتے ہیں۔ خلیے اپنی جگہ لینے لگتے ہیں اور پھر نئی جینز حرکت میں آتی ہیں۔ ان کے پاس وہ سب روٹین چلانے کے احکامات ہیں جو اعضاء، ٹانگوں اور بازو کو شکل دیں۔ انفرادی خلیوں پر مزید کیمیائی نشان لگائے جانے لگتے ہیں۔ اعضاء اور سٹرکچر میں خلیوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ پٹھے، گردے، ہڈیاں، آنکھیں ۔۔۔ کچھ خلیے پروگرام کے مطابق مر جاتے ہیں۔ اس کو برقرار رکھنے والی، فنکشن کرنے والی، میٹابولزم کنٹرول کرنے والی، مرمت کرنے والی جینز آن ہوتی ہیں۔ ایک خلیے سے جاندار برآمد ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیارے قارئین، اس کو پڑھ کر یہ مت سوچیں کہ “اُف! کس قدر پیچیدہ عمل ہے”۔ اور یہ اطمینان بخش احساس نہ ہو کہ کوئی اسے کبھی سمجھ کر اس ترکیب کو مرضی سے ہیک نہیں کر لے گا۔

جب سائنسدان پیچیدگی کا اندازہ ضرورت سے کم لگاتے ہیں تو وہ غیرارادی نتائج کے خطرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی کئی مشہور مثالیں ہیں۔ کسی جگہ پر غیرمقامی جانور کا اضافہ کہ وہ ضرر رساں جانور کو ختم کرے اور خود ضرر رساں بن گیا۔ دھویں کی چمنیاں بلند کرنا کہ آلودگی کم ہو سے دھواں آلودگی کا نقصان زیادہ ہو گیا۔ ہارٹ اٹیک روکنے کے لئے خون بنانے کا عمل تیز کرنے کی دوا جس سے خون زیادہ گاڑھے ہونے اور جم جانے سے یہ خطرہ بڑھ گیا۔۔۔

جب غیرسائنسدان پیچیدگی کا اندازہ ضرورت سے زیادہ لگاتے ہیں، “کوئی بھی اس کوڈ کو کریک نہیں کر سکتا”۔ وہ غیرمتوقع نتائج کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔ 1950 کی دہائی میں بہت سے بائیولوجسٹ بھی یہ سمجھتے تھے کہ جینیاتی کوڈ اس قدر پیچیدہ ہو گا۔ ہر جاندار اور خلیے کا الگ ہو گا کہ اس کو سمجھنا ناممکن ہو گا۔ حقیقت اس سے متضاد نکلی۔ صرف ایک مالیکیول تمام بائیولوجیکل دنیا کی وضاحت کرتا ہے۔

اسی طرح 1960 کی دہائی میں کئی لوگوں کو شک تھا کہ جین کلوننگ ممکن ہو سکے گی۔ 1980 میں بیکٹیریا کے اندر ممالیہ کی پروٹین بنانا اتنا مشکل نہیں نکلا۔

جینیاتی ہدایات سے انسانی کا بننا بلاشبہہ پیچیدہ ہے۔ لیکن اس میں کچھ ایسا نہیں جس کو تبدیل نہ کیا جا سکے۔ جب کوئی سوشل سائنٹسٹ یہ کہتا ہے کہ جین اور ماحول کا ملاپ فنکشن، فارم اور قسمت طے کرتا ہے، تو اس کو اندازہ نہیں ہے کہ ماسٹر ریگولیٹری جینز کی تبدیلی کس قدر بڑی تبدیلیاں لے کر آ سکتی ہے اور ان کو تبدیلیوں کا کسی اور چیز سے تعلق نہیں۔ اور جب کوئی انسانی ماہرِ جینیات یہ کہتا ہے کہ پیچیدہ رویے اور حالتوں کو چھیڑا نہیں جا سکتا کیونکہ درجنوں جینز ان کو کنٹرول کرتی ہیں تو وہ اسے ایک ماسٹر ریگولٹر جین کی طاقت کا ٹھیک اندازہ نہیں۔ ایک تبدیلی جنس بدل سکتی ہے۔ چار جینز ایک خلد کے خلیے کو سٹیم سیل میں بدل سکتی ہیں جس سے کچھ بھی اور بنایا جا سکتا ہے۔ ایک دوا دماغ سے شناخت بدل سکتی ہے۔ ہم اس سے کہیں آسانی سے تبدیل کئے جا سکتے ہیں، جتنا ہم اپنے بارے میں تصور کرتے رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس سب سے زیادہ طاقتور اس وقت ہوتی ہے جب یہ تنظیم کے اصول بتا سکے۔ وہ قوانین جو دنیا کو ترتیب دیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے جب ہمیں موجودہ حقیقت کی پابندیوں سے آزاد کروا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی جدتوں کے نام اس دنیا پر ہمارے کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انجن کا لفظ ingenuity سے نکلا ہے۔ کمپیوٹر کا computare سے (جس کا مطلب اکٹھے ملکر حساب کرنا ہے)۔ جبکہ اس کے متضاد سائنس میں ہے جہاں پر انسانی علم کی حد کو “غیریقینیت، اضافیت، غیرتکملیت” جیسے نام ملتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس کے شعبوں میں بائیولوجی قوانین سے خالی لگتا ہے۔ بہت کم اصول اور ایسے جو یونیورسل ہوں، وہ تو نہ ہونے کے برابر۔ زندہ چیزوں کو، ظاہر ہے، کہ فزکس اور کیمسٹری کے سب سے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنا ہے لیکن زندگی عام طور پر ان اصولوں کے مارجن پر پائی جاتی ہے۔ توڑنی نہیں لیکن مروڑتی ہوئی۔ کائنات ایکویلبرئم کی متلاشی ہے۔ اپنی توانائی بکھیرتی ہے، تنظیم کو توڑتی ہے، کیاوس بڑھاتی ہے۔ زندگی ان قوتوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ ہم ری ایکشن سست کرتے ہیں۔ مادے کو نظم دیتے ہیں۔ کیمیکلز کو خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہر بدھ کو کپڑے دھوتے ہیں۔ ہم فطرت کے قوانین کے لوپ ہول میں زندہ ہیں۔ ایکسٹینشن کے متلاشی، اپنے ہونے کا عذر تراشتے ہوئے، استثنا ڈھونڈتے ہوئے۔ فطری قوانین اس کی حد مقرر کرتی ہیں لیکن زندگی اپنے انوکھے اور عجیب مزاج کے ساتھ کسی ماہر وکیل کی طرح ان قوانین میں بین السطور لکھی چیزوں کو پڑھ کر پھلتی پھولتی ہے۔ ایک ہاتھی بھی تھرموڈائنمکس کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، خواہ اس کی سونڈ توانائی کی مدد سے مادے کو حرکت دینے کا کتنا ہی طاقتور ذریعہ کیوں نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بائیولوجی میں انفارمیشن فلو ساتھ لگی تصویر جیسے دائرے کی شکل کا ہے۔ یہ بائیولوجی کو نظم دینے والی چند قوانین میں سے ہے۔ اس میں بھی استثنا ہیں (مثلاً، ریٹرووائرس جو آر این اے کو ڈی این اے میں داخل کرتے ہیں)۔ ابھی بائیولوجیکل دنیا میں ایسے مکینزم ہو سکتے ہیں جو دریافت نہیں ہوئے جو اس آرڈر میں ترمیم کر دیں یا اس انفارمیشن فلو کے اجزاء میں (مثلاً، آر این اے کا اب علم ہوا ہے کہ یہ جین ریگولیشن پر اثرانداز ہو سکتا ہے)۔

لیکن یہ دائرہ بڑی حد تک بائیولوجیکل دنیا کو نظم دینے والا دائرہ ہے۔ جب اس قانون کو قابو کرنے والی ٹیکنالوجی حاصل کر لی گئی تو یہ ہماری تاریخ میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی اور سب سے اہم ٹرانزیشن ہو گی۔ ہم اپنے آپ کو پڑھنا اور پھر لکھنا سیکھ لیں گے۔

اس میں حائل ٹیکنیکل رکاوٹیں گر رہی ہیں۔ ہم قسمت اور مستقبل کی جینیات کے دروازے پر کھڑے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply