پریشان ہیں تو یہ تحریر پڑھیں/توصیف اکرم نیازی

کبھی ایسا ہوا کہ آپ کو کسی چیز کی اتنی زیادہ فکر ہونے لگی کہ دماغ میں خیالات کا طوفان آ گیا؟ دل تیز دھڑکنے لگا، پسینہ آ گیا، اور دماغ نے ہر ممکنہ برا نتیجہ سوچنا شروع کر دیا؟ یہی اینزائٹی (Anxiety) ہے۔

اینزائٹی دراصل ایک قدرتی بقا Survival کا نظام ہے۔ یہ ہمیں خطرے سے بچانے کے لیے الرٹ رکھتی ہے، لیکن جب یہ حد سے زیادہ ہو جائے تو ہمیں خوف، بےچینی، اور غیر ضروری پریشانی میں ڈال دیتی ہے۔
اب یہ سب کیسے ہوتا ہے تو اس کے لیے اینزائٹی کے پراسیس کو  جاننا ضروری ہے اور آپ اسے جان کر ہی اس سے بہتر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں.

اینزائٹی کیسے کام کرتی ہے؟

اینزائٹی کا مرکز دو بنیادی حصے ہیں:
ایمیگڈالا (Amygdala) – خوف اور خطرے کا سینسر
پری فرنٹل کورٹیکس (Prefrontal Cortex) – منطقی سوچ اور فیصلہ سازی
جب ہمیں کسی خطرے کا سامنا ہوتا ہے، تو امیگڈالا فوراً الرٹ ہو جاتا ہے اور دماغ کو سگنل دیتا ہے کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے
پٹھے کھِِچ جاتے ہیں یعنی Tight ہوجاتے ہیں
جسم میں کورٹیسول اور ایڈرینالین ہارمونز خارج ہوتے ہیں

یہ سب اس لیے ہوتا ہے تاکہ ہم بھاگ سکیں یا مقابلہ کر سکیں اسے (Fight or Flight Response) کہا جاتا ہے.
اینزائٹی دراصل ہماری بائیولوجی کا حصہ ہے کیونکہ ہزاروں سال پہلے، انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے اینزائٹی کی ضرورت تھی۔ اگر ایک قدیم انسان رات کے وقت کسی جنگل میں ہوتا اور ہلکی سی بھی آہٹ سنتا، تو اس کا دماغ فوراً امیگڈالا کو الرٹ کر دیتا کہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہی اینزائٹی اسے بچاتی تھی۔
لیکن آج کے جدید دور میں ہمارا پرانا دماغ پرانے زمانے کی طرح خطرے کی تلاش میں رہتا ہے، جبکہ اصل میں ہمیں شیر یا دشمن سے نہیں بلکہ زندگی کی عام پریشانیوں سے نمٹنا ہوتا ہے۔
پرانے وقتوں میں – اینزائٹی نے ہمیں جنگلی جانوروں سے بچایا آج اینزائٹی ہمیں سوچنے کی زیادہ عادت ڈال دیتی ہے، اور غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہے .

آج خطرات شیر یا جنگل نہیں بلکہ کام، رشتے، سوشل میڈیا، اور زندگی کے دباؤ ہیں۔

آج کل اینزائٹی زیادہ کیوں ہو رہی ہے؟

سوشل میڈیا اور مستقل طور پر دوسروں سے موازنہ – ہم ہر وقت دوسروں کی زندگیوں کا  اپنی زندگی سے موازنہ کر رہے ہیں، جس سے خوداعتمادی کم ہوتی ہے۔

غلط طرزِ زندگی – نیند کی کمی، زیادہ کیفین، کم ورزش، اور غیر متوازن خوراک اینزائٹی کو بڑھاتی ہے۔

ہمیشہ مصروف رہنے کا دباؤ – دماغ کو آرام کرنے کا وقت نہیں ملتا، اور اوور تھنکنگ بڑھ جاتی ہے۔

غیر ضروری معلومات اور منفی خبریں – نیوز، سوشل میڈیا، اور معاشرتی دباؤ ہمیں ہر وقت منفی خیالات میں مبتلا رکھتے ہیں۔

تنہائی – آج کل لوگ زیادہ تر اسکرینز کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، جس کی وجہ سے سوشل کنیکشن کم ہو گئے ہیں، اور اینزائٹی زیادہ ہو گئی ہے۔

اینزائٹی کی علامات اور اس کے اثرات

اینزائٹی صرف دماغ میں چلنے والے خیالات کا نام نہیں بلکہ یہ پورے جسم کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارا مزاج اور سوچنے کی صلاحیت بدلتی ہے بلکہ یہ ہمارے دل، معدے، نیند اور روزمرہ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔

اینزائٹی کی عام علامات

اینزائٹی کی کئی نشانیاں ہوتی ہیں، جو ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مگر کچھ عام علامات یہ ہیں:

ذہنی علامات (سوچ اور دماغ پر اثرات)
ہر وقت بےچینی یا گھبراہٹ محسوس ہونا
دل میں عجیب سا خوف اور خطرے کا احساس
غیر ضروری باتوں پر حد سے زیادہ سوچنا (Overthinking)
فیصلہ کرنے میں مشکل ہونا
نیند کا متاثر ہونا
دوسروں کی باتوں کا زیادہ اثر لینا

جذباتی علامات (موڈ اور احساسات پر اثرات)

بغیر کسی وجہ کے غصہ آنا یا چڑچڑا پن
اداسی اور مایوسی محسوس کرنا
ہر وقت کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا رہنا
خوشی کے لمحات سے صحیح طرح لطف اندوز نہ ہو پانا
ایسا محسوس کرنا کہ جیسے سب کچھ قابو سے باہر ہو رہا ہے

جسمانی علامات (جسم پر اثرات)

دل کی دھڑکن تیز ہو جانا
سانس لینے میں دشواری یا گھبراہٹ محسوس ہونا
معدے میں گڑبڑ، بدہضمی، یا بھوک کا کم یا زیادہ ہو جانا
ہاتھوں اور پیروں میں پسینہ آنا
جسم میں تھکن، درد یا اکڑاؤ محسوس ہونا

اینزائٹی ہمارے جسم کو کیسے نقصان پہنچاتی ہے؟
اینزائٹی صرف ایک خیال نہیں، یہ پورے جسم پر اثر ڈالتی ہے اور اگر اسے روکا نہ جائے تو یہ کئی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔

ہاضمے پر اثر (معدے کے مسائل)
کیا آپ نے کبھی زیادہ پریشانی کے وقت معدے میں جلن یا بدہضمی محسوس کی ہے؟
اینزائٹی کی وجہ سے ہمارا ہاضمے کا نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے بدہضمی، قبض، یا معدے کی تیزابیت بڑھ سکتی ہے۔

دل اور بلڈ پریشر پر اثر

اینزائٹی میں دل کی دھڑکن تیز کیوں ہو جاتی ہے؟
جب ہم گھبراہٹ یا پریشانی محسوس کرتے ہیں، تو ہمارا جسم “خطرے” کے لیے تیار ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔

نیند پر اثر

کیا آپ کو اینزائٹی کی وجہ سے نیند نہیں آتی؟
اینزائٹی میں دماغ زیادہ چوکنا (Alert) رہتا ہے، جس کی وجہ سے نیند میں خلل آتا ہے اور ہم صبح اٹھ کر بھی تازہ دم محسوس نہیں کرتے۔

دماغی صلاحیت پر اثر

اینزائٹی ہمیں حقیقت سے الگ کیسے کرتی ہے؟
اینزائٹی کے دوران دماغ کا “امیگڈالا” زیادہ متحرک ہو جاتا ہے، جو خوف اور خطرے کا احساس دلاتا ہے، جبکہ “پری فرنٹل کورٹیکس” کمزور ہو جاتا ہے، جو فیصلہ کرنے اور منطقی سوچنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم معمولی مسائل کو بھی بہت بڑا سمجھنے لگتے ہیں اور غیر ضروری چیزوں پر بے حد پریشان ہو جاتے ہیں۔

اینزائٹی اور جھوٹے خیالات

اینزائٹی ہمیں ایسی باتوں پر یقین کیوں دلاتی ہے جو حقیقت نہیں ہوتیں؟
جب ہم پریشان ہوتے ہیں، تو دماغ مثبت اور منفی خیالات میں فرق کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔

اب اگر کوئی اینزائٹی کا شکار ہے اور اوپر دی گئی علامات کا سامنا کررہا تو وہ اس سب سے نجات کیسے پائے؟
اب اس کے لیے پوسٹ کے سب سے اہم حصے کی طرف آتے ہیں جو اینزائٹی سے نپٹنے کی مختلف تیکنیوں اور طریقوں ہر مشتمل ہے جو میں نے خود بھی اپنائے ہیں اور اپنی اینزائٹی کو کافی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیاب رہا ہوں.

اینزائٹی کو کنٹرول کیسے کریں؟

اپنے جسم کو دھوکہ دیں: “5-4-3-2-1” گراونڈنگ ٹیکنیک
جب آپ اینزائٹی محسوس کریں تو فوراً یہ مشق کریں:
5 چیزیں دیکھیں (اپنے ارد گرد کوئی بھی چیز)
4 چیزوں کو چھو کر محسوس کریں
3 آوازیں سننے پر دھیان دیں
2 خوشبوئیں محسوس کریں
1 چیز کا ذائقہ چکھیں (چائے، پانی، چیونگم وغیرہ)
یہ آپکے دماغ کو لمحہِ موجود Present Moment میں لے آتی ہے اور اینزائٹی کی شدت کم ہو جاتی ہے۔

سانس لینے کی تکنیک: “4-7-8” برین ہیک

یہ طریقہ آپ کے جسم میں پیس فل نرو (Vagus Nerve) کو متحرک کرتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو نارمل کر کے سکون پہنچاتا ہے۔
4 سیکنڈ ناک سے گہری سانس لیں
7 سیکنڈ سانس روک کر رکھیں
8 سیکنڈ میں سانس آہستہ آہستہ منہ سے باہر نکالیں
اس عمل کو آٹھ سے دس بار دہرائیں اور آپ دیکھیں گے کہ گھبراہٹ کم ہونے لگے گی۔

فزیکل ایکٹیویٹی: اینزائٹی کو جسم سے باہر نکالیں

جب ہم اینزائٹی میں ہوتے ہیں تو ہمارا جسم لڑنے یا بھاگنے کے موڈ میں چلا جاتا ہے، مگر ہم کسی خطرے میں نہیں ہوتے۔ اس لیے اندر کا جمع شدہ تناؤ باہر نکالنا ضروری ہوتا ہے۔
تیز واک یا جاگنگ کریں (شروعات میں 20 منٹ بھی کافی ہیں)
اسٹریچنگ یا یوگا کریں
کسی بیگ یا تکیے پر ہلکے سے مکے ماریں (تھراپی کے طور پر)
سیڑھیاں چڑھیں یا کوئی بھی فزیکل ایکٹیویٹی کام کریں
جب آپ کا جسم حرکت کرے گا، تو دماغ خودبخود پُرسکون ہونے لگے گا۔

نیند کو بہتر بنائیں: “اینزائٹی اور نیند کا گہرا تعلق”

نیند کی کمی اینزائٹی کو 10 گنا بڑھا دیتی ہے، اس لیے اچھی نیند لینا بہت ضروری ہے۔
رات کو کم از کم 7-8 گھنٹے سونے کی کوشش کریں
سونے سے پہلے فون اور اسکرین سے دور رہیں (کم از کم 30 منٹ)
اگر نیند نہ آئے تو کتاب پڑھیں یا گرم دودھ پیئیں
روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالیں
کھانے اور سونے کے درمیان کم. از کم دو گھنٹہ کا وقفہ لیں
ایک ہفتے میں ہی آپ کو فرق محسوس ہونے لگے گا!

کیفین (چائے، کافی) اور شوگر کم کریں

چائے، کافی اور چینی زیادہ مقدار میں لینے سے دماغ اور نروس سسٹم زیادہ متحرک ہو جاتا ہے، جس سے اینزائٹی مزید بڑھ جاتی ہے۔
چائے یا کافی دن میں ایک کپ تک محدود رکھیں
سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس سے پرہیز کریں
پروسیسڈ فوڈ کم کریں (جس میں زیادہ شوگر ہوتی ہے)
آپ ایک ہفتے بعد ہی محسوس کریں گے کہ اینزائٹی کی شدت کم ہو رہی ہے۔

لکھنا یعنی جرنلنگ دماغ کو اینزائٹی سے آزاد کرتا ہے

جب ہم اپنے خیالات کو لکھتے ہیں تو دماغ پر بوجھ کم ہو جاتا ہے۔
روزانہ 10 منٹ اپنے خیالات لکھیں
3 چیزیں لکھیں جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں
اپنی پریشانیاں لکھیں اور حل نکالنے کی کوشش کریں
دماغ کو خالی کرنے سے اینزائٹی آہستہ آہستہ کم ہو جائے گی۔

“تصور کریں” کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے

اگر آپ کا دماغ ہر وقت منفی سوچتا ہے، تو جان بوجھ کر مثبت سوچیں۔
اپنی آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ آپ پُرسکون ہیں
خود سے کہیں: “سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا”
کوئی اچھی یاد یا خوشگوار لمحہ ذہن میں لائیں
ریسرچ کے مطابق، اگر آپ اچھے حالات کا تصور کریں، تو دماغ اسی کے مطابق کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

کسی قابلِ بھروسہ شخص یا تھیراپسٹ سے بات کریں

اینزائٹی اکثر اس لیے بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہم اپنی پریشانیاں دبا کر رکھتے ہیں۔
کسی دوست، فیملی ممبر، یا ماہرِ نفسیات سے بات کریں
اپنی سوچیں بانٹیں، کیونکہ بات کرنے سے دل ہلکا ہوتا ہے
اگر کوئی آپ کی بات نہ سمجھے، تو اپنے خیالات لکھ کر بھی ریلیز کر سکتے ہیں
اینزائٹی خاموشی میں زیادہ بڑھتی ہے، اس لیے بات کرنا ضروری ہے۔

اینزائٹی ایک بیماری نہیں بلکہ دماغ کی ایک عادت ہے، جو صحیح تکنیک سے کنٹرول کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ روزانہ چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں تو آپ کی اینزائٹی آہستہ آہستہ کم ہونے لگے گی اور آپ زیادہ پُرسکون اور خوشگوار زندگی گزار سکیں گے۔

نوٹ:یہ پوسٹ صرف معلوماتی اور آگاہی کے مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کا مقصد اینزائٹی کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے لیکن یہ کسی بھی طرح مکمل علاج نہیں ہے۔ اگر آپ شدید اینزائٹی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہیں تو اپنی ذہنی صحت کو نظرانداز نہ کریں اور کسی ماہر معالج یا تھیرپسٹ سے ضرور رجوع کریں۔

julia rana solicitors london

عین ممکن ہے کہ کوئی اس مسئلے یا ذہنی الجھنوں کا شکار ہو، مگر اسے یہ احساس نہ ہو کہ وہ انزائٹی سے گزر رہا ہے۔ اگر یہ پوسٹ کسی کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے یا اسے اپنی کیفیت کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے، تو اسے ضرور شیئر کریں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply